کورین گیم کھیلنے کی لت میں مبتلا ۳؍ سگی بہنوں کی خودکشی سے غیر معمولی تشویش، پولیس جانچ میں مصروف۔ والدین کو اس لت کے خلاف باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 10:45 AM IST | Ghaziabad
کورین گیم کھیلنے کی لت میں مبتلا ۳؍ سگی بہنوں کی خودکشی سے غیر معمولی تشویش، پولیس جانچ میں مصروف۔ والدین کو اس لت کے خلاف باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔
شہر کے تھانہ ٹیلا موڑ علاقے میں واقع بھارت سٹی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک ہی خاندان کی تین نابالغ سگی بہنوں نے مبینہ طور پر عمارت کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔ اس دل دہلا دینے والے سانحہ کے بعد پورے علاقے میں غم اور سناٹا چھا گیا ہے۔ پولیس نے جانچ شروع کر دی ہے اور ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں بہنیں ایک آن لائن ٹاسک پر مبنی کوریائی ’’لوَر گیم‘‘ سے منسلک اور کافی عرصے سے اس میں سرگرم تھیں۔ پولیس نے خود کشی کے سبب کی ہنوز تصدیق نہیں کی ہے اور کسی گیم یا آن لائن دباؤ کے زاویئے سے بھی تفتیش کررہی ہے لیکن اس واقعہ نے ایک مرتبہ پھر ویڈیو گیمز کی لت کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔
ڈیجیٹل دَور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے وہیں اس کے ہولناک منفی اثرات نے تہلکہ مچا دیا ہے، خاص طور پر ویڈیو گیمز کی بڑھتی لت نے ماہرین نفسیات، ڈاکٹروں، والدین اور سماج کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق گیمنگ اب صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ بعض افراد، جن میں بچوں، نوعمروں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے، کیلئے یہ عادت ایک سنگین نفسیاتی لت بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویڈیو گیمز کو اس انداز سے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ کھلاڑی زیادہ سے زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزارے۔ گیم بنانے والی کمپنیاں جدید طرزِ نفسیات اور انسانی رویوں پر مبنی تحقیق کا استعمال کرتے ہوئے ایسے نظام تیار کرتی ہیں جو دماغ کو بار بار کھیل کی طرف مائل کرے۔ ماہرین کے مطابق گیمنگ کی لت کا سب سے بڑا سبب دماغ کا انعامی نظام (ریوارڈ سسٹم) ہے۔ جب کوئی کھلاڑی گیم میں کوئی لیول مکمل کرتا ہے، انعام جیتتا ہے یا کسی مشکل مرحلے میں کامیاب ہوتا ہے تو دماغ میں ’’ڈوپامین‘‘ نامی کیمیکل خارج ہوتا ہے۔ یہی کیمیکل خوشی، جوش اور کامیابی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ لگاتار اور تیز رفتار انعامات ملنے کی وجہ سے دماغ اس احساس کا عادی ہوجاتا ہے۔نتیجتاً حقیقی زندگی کی سادہ خوشیاں جیسے کتاب پڑھنا، دوستوں سے ملنا یا گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا کم پرکشش محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی عادت رفتہ رفتہ گیم پر مکمل انحصار اور پھر لت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
کئی آن لائن گیمز میں انعامات یقینی نہیں ہوتے بلکہ کبھی جیت کبھی ہار کا سامنا ہوتا ہے۔ نفسیات میں اسے ’’ویریبل ریوارڈ سسٹم‘‘ کہا جاتا ہےجو جوا کھیلنے کی عادت سے مشابہ سمجھا جاتا ہے۔ کھلاڑی کو ہر بار اُمید ہوتی ہے کہ اگلی بار بڑا انعام مل جائے گا اور یہی امید اسے کھیل جاری رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین ویڈیو گیمز کی لت کو جوا اور منشیات کی لت کے نفسیاتی پیٹرن سے ملتا جلتا قرار دیتے ہیں۔
تحقیقی جائزوں کے مطابق اگر کوئی فرد روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے گیمنگ میں صرف کر رہا ہو یا ہفتے میں تیس گھنٹے سے زیادہ کھیل رہا ہو تو یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسے افراد میں عام طور پر درج ذیل علامات دیکھی جاتی ہیں، کھیلنے کا موقع نہ ملنے پر چڑچڑاپن یا غصہ ، نیند میں شدید کمی، کھانے پینے میں لاپروائی، تعلیمی یا پیشہ ورانہ کارکردگی میں گراوٹ، گھر والوں اور دوستوں سے دوری، بعض معاملات میں گیمرز کئی کئی گھنٹے بغیر وقفےکے کھیلتے رہنا وغیرہ سے جسمانی کمزوری اور ذہنی تھکن بڑھ جاتی ہے۔
عالمی سطح پر ہونے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ شدید گیمنگ کی لت دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر سکتی ہے جو فیصلہ سازی، خود پر قابو اور جذباتی توازن سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہی حصے منشیات یا جوا کھیلنے کے عادی افراد میں بھی متاثر پائے گئے ہیں۔ ویڈیو گیم کھیلنے کی عادت کا تعلق ڈپریشن، بے چینی اور سماجی تنہائی سے بھی جوڑا گیا ہے۔
بعض نوجوان حقیقی زندگی کے مسائل سے بچنے کیلئے گیمز کی دنیا میں پناہ لیتے ہیں، جو وقتی سکون تو دیتی ہے مگر طویل مدت میں مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ اس کے جسمانی نقصانات بھی کم نہیں۔ ماہرین کے مطابق طویل وقت تک گیمنگ سے مختلف جسمانی مسائل بھی جنم لیتے ہیں جن میں کلائی، کہنی اور گردن میں درد، ہاتھوں کا سن ہوجانا یا کمزوری ، آنکھوں کی تھکن اور نظر کا ضعف، موٹاپا لاحق ہوسکتا ہے۔ بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت سے خون کی روانی کا متاثر ہونا (بلڈ کلاٹ) جیسا سنگین خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ نوعمر بچے ( ۶؍ سے ۱۲؍ سال ) اور نوجوان اس لت کا سب سے آسان شکار بنتے ہیں (غازی آباد والے معاملے میں تینوں لڑکیوں کی عمریں ۱۲؍ سے ۱۶؍ سال کے درمیان ہیں)۔ اس عمر میں دماغ ابھی نشوونما کے مرحلے میں ہوتا ہے اور جذباتی کنٹرول مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا۔ آن لائن ملٹی پلیئر گیمز میں دوستوں کے ساتھ مقابلہ، سوشل اسٹیٹس اور ورچوئل شناخت بھی بچوں کو گیمس کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ والدین اکثر اس مسئلے کو ’’بچوں کی ضد‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو یہ عادت تعلیمی ناکامی، سماجی تنہائی اور ذہنی بیماریوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
اس مسئلہ کا حل کیاہے؟
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اسکرین ٹائم کے واضح اصول بنائے جائیں، بچوں اور نوعمروں کو کھیل کود اور سماجی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے، سونے سے پہلے اسکرین کے استعمال پر پابندی ہو، اگر بچہ یا نوجوان گیم نہ کھیلنے پر شدید بے چینی یا غصہ ظاہر کرے تو ماہر نفسیات سے فوراً مشورہ لیا جائے۔ عالمی ادارۂ صحت نے بھی گیمنگ ’ڈِس آرڈر‘ کو ایک باقاعدہ ذہنی عارضہ تسلیم کیا ہے، جس سے اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دھیان رہے کہ ویڈیو گیمز بذاتِ خود بری چیز نہیں۔ اعتدال قائم رکھا جائے تو یہ تفریح، سیکھنے اور ذہنی ورزش کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ اصل خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب کھیل، عادت اور عادت سے زیادہ لت بن جائے۔
واضح رہے کہ غازی آباد کا واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا۔ مقامی افراد نے اچانک تیز آواز سنی، وہ باہر نکل کر آئے تو انہوں نے دیکھا تو تینوں بچیاں عمارت کے نیچے زمین پر پڑی تھیں۔ فوری طور پر پولیس اور اہل خانہ کو اطلاع دی گئی۔ بچیوں کو ایمبولینس کے ذریعے نزدیکی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔تینوں ایک ہی فلیٹ میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھیں۔ ایک ساتھ اس انتہائی قدم اٹھانے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔موقع سے ایک صفحے پر مشتمل مختصر نوٹ بھی برآمد ہوا ہے جس پر صرف ’ممی پاپا سوری‘ لکھا ہوا ہے۔ کچھ رپورٹس میں ڈائری ملنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ پولیس اس نوٹ کو جانچ کا اہم حصہ مان رہی ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ نوٹ کی تحریر اور دیگر پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ حقیقت تک پہنچا جا سکے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔پولیس کمشنر اتل کمار سنگھ کے مطابق بھارت سٹی کے ٹاور بی ون کے ۹؍ ویںمنزل کے فلیٹ کی بالکنی سے تین بچیاں کود ی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں تصدیق ہوئی ہے کہ بہت اونچائی سے زمین پر گرنے سے ہی ان کی موت واقع ہوئی۔پولیس اہل خانہ سے پوچھ گچھ کے ساتھ ساتھ ان کے موبائل فون، آن لائن سرگرمیوں اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی بھی تفصیلی جانچ کر رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔