• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غازی آباد:آن لائن گیم ’’کورین لو‘‘ ٹاسک، تین نابالغ بچیوں کی خود کشی

Updated: February 04, 2026, 5:43 PM IST | Ghaziabad

غازی آباد میں آن لائن گیم ’’کورین لو ‘‘کے سبب تین نابالغ بچیوںنے ۹؍ویں منزلے سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی، ان کے والد کا کہنا ہے کہ اس گیم کے ۵۰؍ ٹاسک تھے،انہیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ آخری ٹاسک خودکشی ہوگا۔

Suicide note of minor girls from Ghaziabad. Photo: INN
غازی آباد نابالغ بچیوں کا سوسائڈ نوٹ۔ تصویر: آئی این این

 غازی آباد میں تین نابالغ بہنوں کے اپنے اپارٹمنٹ سے چھلانگ لگانے کے واقعے کا تعلق ایک کورین آن لائن گیم سے بتایا جا رہا ہے جس میں خودکشی کو آخری ٹاسک کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ ان کے والد نے کہا، ’’کل آخری ٹاسک تھا۔ ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔‘‘غازی آباد میں اپنے اپارٹمنٹ کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر ہلاک ہونے والی تین نابالغ بہنوں کے والد نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑکیوں کے کھیلے جانے والے ایک آن لائن ٹاسک پر مبنی گیم میں خودکشی کو آخری ٹاسک کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔چیتن کمار نے انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ کورین لو نامی اس آن لائن گیم کے ۵۰؍ ٹاسک تھے۔ کل آخری ٹاسک تھا۔ ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔‘‘
دریں اثناء پولیس اس سانحہ کی تفتیش کر رہی ہے جس کا تعلق ایک کورین آن لائن گیم سے ہو سکتا ہے جو کھلاڑیوں کو ٹاسک پر مبنی چیلنج دیتا تھا۔ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ درمیانی بہن نے سرگرمیوں کو مربوط کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے ’لیڈر‘ کا کردار ادا کیا، ہدایات دیں اور فیصلہ کیا کہ ٹاسک کیسے انجام دئے جائیں۔پولیس کا خیال ہے کہ تینوں بہنیں گیم کے چیلنج کو ساتھ مل کر مکمل کرتی رہیں، جس میں آخری عمل بھی شامل ہے۔ ’ ایک افسر نے کہا ’ان میں سے ایک دوسروں کی رہنمائی کر رہی تھی۔‘‘بعد ازاں لڑکیوں کے والد نے انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں کبھی شک نہیں ہوا کہ ان کی بیٹیاں کسی خطرناک چیز میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا  ’’وہ ایک کورین گیم کھیلا کرتی تھیں۔ ہمیں اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ کل آخری ٹاسک تھا،انھوں نے ہمیں کچھ نہیں بتایا۔ ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ ان کی زندگیوں میں کیا ہو رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دہلی: صرف۱۵؍ دنوں میں۸۰۰؍ سے زائد افراد لاپتہ،۵۰۹ ؍خواتین اور۱۹۱؍ نابالغ شامل

ایک اور انٹرویو میں، کمار نے کہا، ’’انھوں نے مجھ سے کہا تھا، ’پاپا، ہم کورین نہیں چھوڑ سکتے۔ کورین ہماری زندگی ہے۔ کورین ہمارے لیے سب کچھ ہے۔ آپ ہمیں اس سے جدا نہیں کر سکتے۔ ہم اپنی جانیں دے دیں گے۔‘ واقعے کی رات کا ذکر کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ الگ الگ کمروں میں سو رہے تھے جب لڑکیاں باہر آئیں اور کہا  کہ وہ پانی پینے جا رہی ہیں۔ اس وقت ان کے ہاتھوں میں فون تھے۔ انھوں نے اپنے فون پیچھے پھینک دیے اور چھلانگ لگا دی۔ بعد میں، پولیس نے فون ضبط کرلئے۔‘‘ یہ واقعہ بدھ کی رات تقریباًپونے دو بجے پیش آیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ بہنوں نے ایک چھوٹی سی دو قدمی سیڑھی کا استعمال کرتے ہوئے اس جگہ تک پہنچنے کی کوشش کی جہاں سے انھوں نے چھلانگ لگائی۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ گیم کے آخری ٹاسک میں دی گئی ہدایات کا حصہ ہو سکتا ہے۔افسر نے کہا کہ ’’یہ حادثاتی نہیں لگتا۔ ہم ہر زاویے سے جانچ کر رہے ہیں،‘‘ ساتھ ہی وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا یہ عمل کسی خاص نمونے کی پیروی کرتا ہے۔لڑکیوں کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے ہیں اور فارنسک تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ تفتیش کار چیٹ ہسٹری، ایپ کے استعمال، اور آن لائن رابطوں کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ بہنوں کو گیم سے کس نے متعارف کرایا اور آیا کوئی دور سے انھیں ہدایات دے رہا تھا۔ ایک سینئر افسر نے کہا ’’ہم یہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں کس نے تحریک دی اور کون مسلسل ٹاسک دے رہا تھا ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا وہاٹس ایپ اور میٹا کو انتباہ ،آئین پر عمل کرو یا ہندوستان چھوڑ دو

فلیٹ سے خودکشی کا نوٹ ملا برآمد ہوا ہے، جس میں مبینہ طور پر یہ الفاظ ہیں’’ممی پاپا سوری۔‘‘تاہم  پولیس اس کا مطالعہ کر رہی ہے تاکہ سانحہ سے پہلے بہنوں کی ذہنی حالت کو سمجھا جا سکے۔ نوٹ، جو مبینہ طور پر ایک بہن نے لکھا تھا، میں کہا گیا ہے کہ ’’ڈائری میں لکھی ہر چیز‘‘ پڑھی جائے، اور کہا گیا ہے کہ ’’اس میں سب سچ ہے۔‘‘ اس میں یہ بھی کہا گیا، ’’مجھے واقعی افسوس ہے، سوری پاپا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK