’بلقیس کو انصاف دو ، مجرموں کودوبارہ جیل میں ڈالو‘

Updated: September 07, 2022, 10:04 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

چھوٹی بڑی ۲۱؍تنظیموں اورخواتین کے گروپ کی جانب سے چیف جسٹس آف انڈیا کو۸۳۳۰؍دستخط مع خط بھیج کران تک اپنی آوازپہنچائی

A signature campaign was conducted outside the GPO by various organizations and sent to the Chief Justice of India.
مختلف تنظیموں کی جانب سے جی پی او کے باہر دستخطی مہم چلائی گئی اور اسے چیف جسٹس آف انڈیا کو روانہ کیا گیا۔

 گجرات ۲۰۰۲ء فسادات کی متاثرہ بلقیس بانو کے مجرموں کی رہائی کےبعد سے ہی اس کی حمایت اور مجرموں کو دوبارہ جیل میںڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انصاف پسندوں کی جانب سے صدائے احتجاج بلند کی جارہی ہے۔منگل ۶؍ستمبر کوخواتین کی جانب سے جی پی او کے سامنے دستخطی مہم چلائی گئی اور’بلقیس کو انصاف دو ‘کابینر لے کر خاموش احتجاج کیا گیا۔
 اس دستخطی مہم کے ساتھ خواتین کی جانب سے اس تعلق سے جمع شدہ  ۸۳۳۰؍ دستخط چیف جسٹس آف انڈیا یویو للت کوبھیجی گئی ۔اس  کےساتھ چھوٹی بڑی ۲۱؍تنظیموں ،جماعتوں اورخواتین کے گروپس کی جانب سے ایک مشترکہ خط بھی روانہ کیا گیاہے جس میںچیف جسٹس سے مودبانہ اوردردمندانہ درخواست کی گئی ہے۔
یہ محض خط نہیںاہل ممبئی کی آوازہے
 چیف جسٹس آف انڈیا کودستخط کے ساتھ روانہ کردہ مکتوب میں لکھا گیا ہےکہ ’’ بلقیس کی عزت لوٹی گئی ،اس کے گھرکے لوگوں اور اس کی ۳؍سالہ بیٹی کوقتل کیا گیا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ سزایافتہ ۱۱؍ مجرمو ںکو۱۶؍ اگست کورہا کردیا گیا اوران کا استقبال کیا گیا ۔ یہ سب قاتل اور زانی ہیں ،ان کوعدالت نے عمر قیدکی سزا سنائی تھی ۔اسی کے ساتھ یہ بھی لکھا گیا ہےکہ اس تعلق سے احتجاج کئے گئے اورہم لوگوںنے دستخط جمع کئے ہیں۔یہ دستخط ممبئی اورمضافات کے مختلف علاقوں دادر، چیتیہ بھومی ،کارٹرروڈ باندرہ ، ریلوے اسٹیشنوں کے باہر، لوکل ٹرینوں میں، شیواجی پارک اوردیگرعلاقوں میںلوگوں سےمل کر اور ان کومسائل سے آگاہ کرواکر حاصل کئے ہیں ۔ دستخط کرنے والوں نے دستخط کرنے کے دوران اپنے جذبات کا بھی اظہار کیا اور حیرت زدہ رہ گئے ۔ اس لئے یہ دستخط کسی گروپ یا تنظیم کے نہیںہیں بلکہ اہل ممبئی بالخصوص تمام طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی آوازہے ۔اس لئےسبھی کا یہ مطالبہ ہے کہ اس خاتون کوانصاف ملے اورجومجرم رہا کئے گئے ہیں ان کودوبارہ جیل میںڈالا جائے ۔ 
 خط میںیہ بھی لکھا گیا ہے کہ ہمیںآپ سے امید ہے کہ ایک خاتون کے ساتھ آپ ضرور انصاف کریں گے اوران مجرموں کووہاں  پہنچانے کا حکم صادر کریں گے جو ان کی اصل جگہ یعنی جیل ہے۔ہم سب اس باہمت اورپُرعزم خاتون کےساتھ کھڑے ہیں۔
 چیف جسٹس کو مکتوب بھیجنے والی۲۱؍ تنظیمو ںمیںآل انڈیا ڈیموکریٹک وومنس ایسوسی ایشن ، بےباک کلیکٹیو، بھارتیہ مہیلا فیڈریشن ، فورم اگینسٹ آپریشن وومن، انڈین کرسچن فور ڈیموکریسی ، جن سواستھ ابھیان ممبئی ، جسٹس کولیشن آف ریلیجیس ویسٹ انڈیا ، نیشنل سولیڈیریٹی فورم ، پرچم کلیکٹیو، پلیٹ فارم آف سوشل جسٹس، پولیس ریمارم واچ، ستیہ شودھک ریسورس سینٹر، سمنوے ،ساتھی جن آندولن ، اسپیشل سیل فاروومن اینڈ چلڈرن، ونایک فاؤنڈیشن اور استری مکتی سنگھٹنا وغیرہ شامل ہیں۔ 
بلقیس کیس کی شنوائی سے قبل چیف جسٹس تک آوازپہنچائی 
 جن مہیلا وادی سنگھٹن کی ذمہ دار اور دستخطی مہم میںپیش پیش رہنے والی سگندھی فرانسس نے کہاکہ ’’ ہم سب کی یہ کوشش تھی کہ بلقیس بانو کیس کی شنوائی سے قبل اہل ممبئی کی آوازچیف جسٹس تک پہنچائی جائے ۔۸؍ستمبر کوشنوائی ہے ،اسی لئے ۶؍ستمبر کو۸۳۳۰؍ جمع شدہ دستخط چیف جسٹس آف انڈیا کو بذریعہ اسپیڈ پوسٹ بھیجی گئی اور اس کے ساتھ ایک خط لکھا گیا۔‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’ بلقیس کے ساتھ جو کچھ ہوا ،کیا کوئی بھی اس کاتصور کرسکتا ہے ۔۱۱؍مجرموں کی سزا معاف کرکے اس کے زخموں کو ہرا کردیا گیا اورجس طرح مجرموں کی رہائی کے بعد ان کوہار پھول پہنائے گئے اس سے تو پورا معاشرہ شرمند ہ ہے۔‘‘ سگندھی فرانسس نے یہ بھی کہاکہ’’ یہ محض بلقیس کامسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک میںرہنے والی تمام خواتین کا مسئلہ ہے ۔ اگر اس طرح کی روش عام ہوگئی تو پھرکیا کسی بھی طبقے کی خاتون کو انصاف مل سکے گا؟ دستخطی مہم آئندہ بھی جاری رہے گی۔‘‘ 
 بے باک کلیکٹیو کی رکن حسینہ خان نے کہاکہ ’’ ہم سب کو چیف جسٹس آف انڈیا سے توقع ہے کہ وہ ضرور انصاف کریں گے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK