Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے لبنان میں سفید فاسفورس استعمال کیا: ہیومن رائٹس واچ

Updated: March 09, 2026, 7:12 PM IST | London

بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیم Human Rights Watch نے اپنی تازہ رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک قصبے میں رہائشی علاقوں پر سفید فاسفورس گولہ بارود استعمال کیا۔ تنظیم کے مطابق یہ حملہ ۳؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو قصبہ یوہمور میں کیا گیا جس کے نتیجے میں گھروں اور گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں اس ہتھیار کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیم Human Rights Watch کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک قصبے میں رہائشی علاقوں پر سفید فاسفورس گولہ بارود استعمال کیا۔ تنظیم کے مطابق یہ واقعہ ۳؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو جنوبی لبنان کے قصبے یوہمور میں پیش آیا جہاں توپ خانے کے ذریعے سفید فاسفورس کے گولے داغے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیلی فوج نے ۳؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو جنوبی لبنان کے قصبے یوہمور میں گھروں پر توپ خانے سے فائر کیے جانے والے سفید فاسفورس گولہ بارود کا غیر قانونی استعمال کیا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: تہران میں تیل کے ذخائر پرحملے، آسمان میں سیاہ بادل، سڑکیں آگ کا دریا بن گئیں

تصاویر اور جغرافیائی تصدیق
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس نے اس واقعے سے متعلق سات تصاویر کی تصدیق اور جغرافیائی محل وقوع کی جانچ کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ رہائشی علاقے پر ہوائی برسٹ سفید فاسفورس گولہ بارود استعمال کیا گیا اور شہری دفاع کے کارکن بعد میں وہاں آگ بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے میں کم از کم دو گھروں اور ایک گاڑی میں آگ لگ گئی۔

سفید فاسفورس کیا ہے؟
سفید فاسفورس ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو آکسیجن کے ساتھ رابطے میں آتے ہی جلنے لگتا ہے۔ اسے عام طور پر میدان جنگ میں دھواں پیدا کرنے، فوجی نقل و حرکت کو چھپانے اور رات کے وقت علاقے کو روشن کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم یہی مادہ آگ لگانے والے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال ہو سکتا ہے جس سے شدید جلن، سانس کے مسائل، جسمانی معذوری اور بعض اوقات موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۰؍ امریکی فوجی ہلاک، متعددزخمی، کئی گرفتار

سرحدی کشیدگی اور جاری حملے
اسرائیل نے گزشتہ برس ہونے والی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حملے جاری رکھے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج نے لبنان کے مختلف علاقوں پر متعدد حملے کیے اور سرحدی علاقوں میں زمینی فوج بھی تعینات کی۔ اسرائیلی فوج نے اس کے ساتھ ساتھ سرحد کے قریب رہنے والے لوگوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع علاقوں سے نقل مکانی کر جائیں۔

ہلاکتیں اور نقل مکانی
لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک ۳۹۲؍  افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پانچ لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں اس نوعیت کے ہتھیاروں کا استعمال شہری آبادی کے لیے شدید خطرات پیدا کرتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے لبنان میں محقق رمزی قیس نے رپورٹ میں کہا کہ ’’رہائشی علاقوں پر اسرائیلی فوج کا سفید فاسفورس کا غیر قانونی استعمال انتہائی تشویشناک ہے اور اس کے عام شہریوں کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اسرائیل کو فوری طور پر اس عمل کو روکنا چاہیے اور وہ ریاستیں جو اسرائیل کو سفید فاسفورس گولہ بارود سمیت ہتھیار فراہم کر رہی ہیں انہیں بھی فوری طور پر فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فروخت معطل کرنی چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران: تیل کے ذخائر پر حملے کے بعد تہران میں ایندھن کی فروخت محدود

پہلے بھی الزامات لگتے رہے
لبنانی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سے پہلے بھی اسرائیل پر سفید فاسفورس کے استعمال کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے حال ہی میں سرحد کے قریب واقع قصبوں خیام اور تل نہاس کو بھی توپ خانے اور فاسفورس گولہ باری سے نشانہ بنایا۔ گزشتہ ماہ لبنان نے اسرائیل پر ایک اور الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سرحدی علاقوں میں گلائفوسیٹ نامی جڑی بوٹی مار دوا چھڑکی ہے۔
لبنان کے صدر یوسف عون نے اس اقدام کو ’’ماحول کے خلاف جرم‘‘ قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رہائشی علاقوں میں سفید فاسفورس کے استعمال کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت سنگین قانونی سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK