امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی حملوں میں وقفے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی۔ اہم عالمی آئل بینچ مارکس تقریباً ۵؍فیصد تک گر گئے۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 4:09 PM IST | Mumbai
امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی حملوں میں وقفے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی۔ اہم عالمی آئل بینچ مارکس تقریباً ۵؍فیصد تک گر گئے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی حملوں میں وقفے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی۔ اہم عالمی آئل بینچ مارکس تقریباً ۵؍فیصد تک گر گئے۔ صبح بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت ۸ء۴؍ فیصد یا تقریباً ۶۴ء۴؍ ڈالر کم ہو کر۵۵ء۸۷؍ ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی ۰۹ء۵؍ فیصد یا تقریباً۵۶ء۴؍ ڈالر کی کمی کے بعد ۸۵؍ڈالر فی بیرل رہ گئی۔
یہ بھی پڑھئے:کارگل وجےدیوَس پر شہداء کو خراج عقیدت
یہ نمایاں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے اشارہ دیا کہ اگر امریکہ بھی اپنی فوجی کارروائیاں روک دیتا ہے تو وہ مزید حملے نہیں کرے گا۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے سفارتی حل کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ یہ گراوٹ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں آنے والے تیز اضافے کے بعد دیکھنے میں آئی۔ اس عرصے میں برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھی، کیونکہ مارکیٹ کو خدشہ تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ دونوں دنیا کے اہم ترین توانائی بردار بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:گلوکارمکیش کے ۲؍ گیت ان کے انتقال کے ۲۱؍سال بعد منظر عام پر آئے تھے
ماہرین کے مطابق، ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے بحیرۂ احمر میں واقع سعودی آرامکو کی جازان اور ینبع بندرگاہوں پر حملوں کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں جغرافیائی و سیاسی خطرات اب بھی برقرار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیر کی اس بڑی گراوٹ کے باوجود رواں ماہ خام تیل کی قیمتیں مجموعی طور پر اب بھی تقریباً ۴۰؍ فیصد بلند ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سپلائی سے متعلق خدشات صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے بلکہ بحیرۂ احمر تک پھیل گئے ہیں، جو سعودی عرب کی تیل برآمدات کا ایک اہم راستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سپلائی چین سے وابستہ خطرات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت تاحال معمول پر نہیں آئی ہے۔