Inquilab Logo Happiest Places to Work

سیوٹا تارکینِ وطن بحران: اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدہ معطل کیا، ہسپانوی وزیرِ اعظم کی تنقید

Updated: August 01, 2026, 9:05 PM IST | Rome/Madrid

ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے متعدد یورپی حکومتوں پر سیوٹا بحران پر ”تعصب، جھوٹی خبروں، جہالت یا سیاسی مفاد پرستی“ کے تحت ردِعمل دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کچھ حکومتوں کے نقطۂ نظر کو ”خود غرضانہ، پولرائزنگ اور غیر قانونی“ قرار دیا اور یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا۔

Sanchez and Meloni. Photo: X
میلونی اور سانچیز۔ تصویر: ایکس

اسپین کے زیر ملکیت علاقے اور خودمختار شہر سیوٹا میں تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر آمد کے بعد اٹلی نے اسپین کے ساتھ اپنے شینگن معاہدے کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے اور یکم اگست سے ایک ماہ کے عرصے تک اسپین کیلئے اپنے سمندری اور فضائی راستے بند کر دیئے ہیں۔

اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے ایکس پر اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ”اطالوی شہریوں کی سلامتی کی حفاظت اور یورپی سرحدوں کا دفاع کیلئے ضروری فیصلہ“ قرار دیا۔ اٹلی کی وزارتِ داخلہ نے اس معطلی کی تصدیق کی لیکن واضح کیا کہ اس سے ہسپانوی اور یورپی یونین کے شہریوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہوگی اور چیکنگ صرف اسپین سے آنے والے غیر یورپی یونین شہریوں کیلئے ہوگی۔ فرانس کے ساتھ گفتگو کے بعد، دونوں ممالک نے اپنے درمیان موجودہ زمینی سرحدی کنٹرول کو بھی مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین مراکش سرحدی بحران کا فائدہ اسرائیل و اسپین کی انتہا پسند جماعتوں کو ہورہا ہے: ہاویئر بارڈیم

اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے جمعرات کو سیوٹا کی تصاویر کو ”تکلیف دہ“ قرار دیتے ہوئے اسپین کو شینگن زون سے معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاجانی نے معطلی کو ”معاہدوں کے تحت فراہم کردہ اور آج، ناگزیر بن جانے والا اقدام“ قرار دیا اور سیوٹا بحران کو یورپی یونین کے اندر ”مشترکہ ذمہ داری“ قرار دیتے ہوئے رکن ممالک پر ”غیر کنٹرول شدہ تارکینِ وطن کے بہاؤ کو یورپی یونین کے علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے مل کر کام کرنے“ پر زور دیا۔

اسپین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس بحران کے دوران کم از کم ۶۷ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ سیوٹا میں داخل ہونے والے تقریباً ۷۰ ہزار تارکینِ وطن پہلے ہی مراکش واپس جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سیوٹا سے تمام تارکین وطن مراکش لوٹ چکے ہیں: اسپین کے وزیر خارجہ

سانچیز نے یورپی یونین کے ردِعمل پر تنقید

ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے سنیچر کو سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے متعدد یورپی حکومتوں پر سیوٹا بحران پر ”تعصب، جھوٹی خبروں، جہالت، یا سیاسی مفاد پرستی“ کے تحت ردِعمل دینے کا الزام لگایا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور آئرش وزیراعظم مائیکل مارٹن کو لکھے گئے ایک خط میں، سانچیز نے کچھ حکومتوں کے نقطۂ نظر کو ”خود غرضانہ، پولرائزنگ اور غیر قانونی“ قرار دیا اور یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ دبائو بڑھانے کیلئے ایران کی خستہ حالی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے

سانچیز نے کہا کہ اسپین نے مراکش کے ساتھ مکمل تعاون سے لیکن یورپی یونین کے شراکت داروں کی ”بہت کم مدد“ کے ساتھ ۴۸ گھنٹوں کے اندر سرحدی کنٹرول بحال کیا، انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کی، ”تقریباً تمام“ غیر قانونی تارکینِ وطن کو واپس بھیجا اور آگے کی جانب غیر مجاز نقل و حرکت کو روک دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ سیوٹا شینگن زون کا حصہ نہیں ہے جس کی وجہ سے اسپین کو اس سے معطل کرنے کی تجاویز قانونی طور پر بے بنیاد ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK