Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ٹیٹوز کے مفہوم پر عالمی صارفین پریشان

Updated: April 12, 2026, 3:11 PM IST | Mumbai

امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth کے جسم پر بنے ٹیٹوز ایک نئی بحث کا سبب بن گئے ہیں، جہاں ناقدین ان میں موجود تاریخی اور مذہبی علامتوں کو متنازع قرار دے رہے ہیں۔ خاص طور پر ’’یروشلم صلیب‘‘ اور ’’دوس وولت‘‘ جیسے نشانات کو صلیبی جنگوں اور مذہبی شدت پسندی سے جوڑا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ علامتیں محض مذہبی نہیں بلکہ تاریخی طور پر تشدد اور تصادم کی یاد دلاتی ہیں، جس کی وجہ سے ایک جدید سیاستداں کی جانب سے ان کا استعمال سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

Pete Hegseth. Photo: X
پیٹ ہیگستھ۔ تصویر: ایکس

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ ایک بار پھر خبروں میں ہیں، تاہم اس بار وجہ ان کی پالیسی نہیں بلکہ ان کے جسم پر موجود ٹیٹوز ہیں، جنہیں ناقدین متنازع علامتوں سے جوڑ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور تجزیاتی حلقوں میں ان نشانات کے معنی اور پس منظر پر بحث تیزی سے بڑھ رہی ہے، خاص طور پر اس سوال کے ساتھ کہ کیا ایک اعلیٰ عہدے پر فائز شخصیت کو ایسی علامتیں استعمال کرنی چاہئیں۔

یروشلم صلیب (Jerusalem Cross)
سب سے زیادہ توجہ ان کے سینے پر بنے ایک مخصوص نشان پر مرکوز ہے جسے ’’یروشلم صلیب‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑی صلیب کے ساتھ چار چھوٹی صلیبوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر یہ نشان قرون وسطیٰ کی صلیبی ریاست یروشلم سے منسوب ہے۔ عیسائی روایت کے مطابق یہ پانچ صلیبیں حضرت عیسیٰ کے پانچ زخموں کی علامت سمجھی جاتی ہیں، جبکہ چار چھوٹی صلیبیں انجیل کے پیغام کے چاروں سمتوں میں پھیلنے کی نمائندگی کرتی ہیں۔
تاہم، اس علامت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ مورخین کے مطابق صلیبی جنگوں کے دوران یہ نشان ایک ایسے دور کی یاد دلاتا ہے جس میں مذہبی بنیادوں پر شدید تشدد، قتل و غارت اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ اسی لیے جدید دور میں کچھ شدت پسند گروہ اس علامت کو ایک ’’مقدس جنگ‘‘ کی نمائندگی کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں، جس نے اس کے استعمال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

دوس وولت (Deus Vult)
اسی طرح ہیگستھ کے بازو پر لکھا جملہ ’’Deus Vult‘‘ بھی توجہ کا مرکز ہے، جس کا مطلب ہے ’’خدا یہی چاہتا ہے۔‘‘ یہ دراصل صلیبی جنگوں کے دوران جنگجوؤں کا نعرہ تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس جملے کا استعمال تاریخی طور پر مذہبی جنگوں کو جواز دینے سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ جدید دور میں بعض انتہا پسند گروہ اسے اپنی شناخت کے طور پر اپناتے ہیں۔

کافر (Non-believer)
مزید برآں، ان کے ٹیٹوز میں عربی لفظ ’’کافر‘‘ بھی شامل ہے، جس کا مطلب غیر مومن یا منکر ہے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے الفاظ اور علامتوں کا ایک ساتھ استعمال ایک خاص نظریاتی پیغام کی طرف اشارہ کر سکتا ہے، جو مذہبی تقسیم یا تصادم کے تصور سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اسلامی روایت میں یہ لفظ ایک مخصوص مذہبی مفہوم رکھتا ہے، لیکن جب اسے ایک مغربی فوجی پس منظر رکھنے والی شخصیت اپنے جسم پر نقش کرتی ہے تو اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔ ناقدین کے نزدیک یہ ایک اشتعال انگیز علامت بن جاتی ہے، جو تہذیبی تصادم یا مذہبی تقسیم کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب اسے عالمی سیاست اور عسکری طاقت کے تناظر میں دیکھا جائے۔

یسوع کی تلوار (Yeshua Sword)
اسی سلسلے میں یسوع یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عبرانی نام کے ساتھ تلوار کی علامت بھی ایک گہرا مفہوم رکھتی ہے۔ یہ تصور بائبل کے اس خیال سے جڑا ہوا ہے کہ ایمان ہمیشہ امن نہیں بلکہ جدوجہد اور تصادم بھی لا سکتا ہے۔ جب اس مذہبی علامت کو تلوار کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو یہ محض روحانی پیغام نہیں رہتا بلکہ ایک ایسے نظریے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں مذہب کو جدوجہد بلکہ بعض اوقات جنگ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ یہی پہلو اسے متنازع بناتا ہے، کیونکہ یہ عقیدے اور طاقت کے درمیان حد کو دھندلا دیتا ہے۔

شمولیت یا موت (Join, or Die)
امریکی تاریخ سے جڑا یہ فقرہ سانپ کے نشان کے ساتھ بظاہر اتحاد کا پیغام دیتا ہے، جس کی بنیاد بنجامن فرینکلن کے مشہور کارٹون میں ملتی ہے۔ تاہم جدید دور میں اس کا استعمال اکثر ایک سخت پیغام کے طور پر لیا جاتا ہے، جس میں اتحاد ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک دباؤ بن جاتا ہے۔ یہ تصور ’’یا ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف‘‘ جیسی سوچ کو جنم دیتا ہے، جو سیاسی اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

امریکی پرچم اور بندوق
اسی طرح امریکی پرچم کے ساتھ بندوق کی علامت ایک اور ایسا امتزاج ہے جو بیک وقت حب الوطنی اور عسکری طاقت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ٹیٹو اس خیال کو ظاہر کرتا ہے کہ آزادی اور قومی شناخت کا تحفظ طاقت اور اسلحے کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ تصور ایک ایسے معاشرتی رجحان کو فروغ دیتا ہے جس میں تشدد کو جواز کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے، اور یہی پہلو اسے متنازع بناتا ہے۔

کائی رو (ـChi-Rho)
اگرچہ کائی رو جیسی قدیم عیسائی علامت بذاتِ خود زیادہ متنازع نہیں، لیکن جب اسے دیگر صلیبی اور جنگی علامات کے ساتھ دیکھا جائے تو اس کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ یہ ایک وسیع تر بیانیے کا حصہ بن جاتی ہے جس میں مذہب کو محض عقیدہ نہیں بلکہ ایک متحرک اور کبھی کبھار جارحانہ قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

مورخین کا نظریہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض مورخین اس پورے بیانیے کو مختلف زاویے سے بھی دیکھتے ہیں۔ تاریخ داں شارلیٹ گوتھیئر کے مطابق ’’صلیبی شناخت‘‘ جیسا تصور خود قرون وسطیٰ کا نہیں بلکہ ۱۹؍ ویں صدی میں یورپ میں قوم پرستی کے فروغ کے دوران تشکیل پایا، جب مختلف ممالک نے اپنی شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے تاریخی علامتوں کو نئے معنی دیے۔ اس تناظر میں کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج ان علامتوں کو دیکھنے کا انداز بھی وقت کے ساتھ بدل چکا ہے، جہاں ایک ہی نشان مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنی رکھ سکتا ہے۔ تاہم ناقدین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک موجودہ دور کے سیاستدان کے لیے ایسے نشانات کا انتخاب زیادہ حساسیت کا متقاضی ہے، خاص طور پر ایک ایسے عالمی ماحول میں جہاں مذہبی اور ثقافتی تناؤ پہلے ہی موجود ہو۔

سوشل میڈیا صارفین کا رد عمل
سوشل میڈیا پر پیٹ ہیگستھ کے ان ٹیٹوز پر صارفین کے ردِعمل نہایت متنوع اور گہرے ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر لوگوں نے اپنے اپنے نقطۂ نظر سے تبصرے کیے، جن میں حمایت، تنقید، تشویش اور تجزیہ سب شامل تھے۔ 

جان ملر نامی صارف نے لکھا کہ یہ ٹیٹوز ایک ایسے شخص کی عکاسی کرتے ہیں جو اپنی مذہبی شناخت پر فخر کرتا ہے اور اسے چھپانے کے بجائے نمایاں رکھتا ہے، اور یہ کسی بھی آزاد معاشرے میں قابلِ قبول ہونا چاہیے۔

سارہ تھامسن نے اس کے برعکس رائے دیتے ہوئے کہا کہ انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ تاریخ میں مذہبی جنگوں سے جڑے ہوئے ہیں اور آج کے دور میں ان کا استعمال ایک خطرناک پیغام دے سکتا ہے۔

ڈیوڈ اینڈرسن نے لکھا کہ ہمیں تاریخی علامات کو ان کے اصل تناظر میں دیکھنا چاہیے، نہ کہ جدید سیاسی عینک سے، کیونکہ ہر علامت کا مطلب وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے۔

ایمیلی کارٹر نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ جب مذہب اور عسکری طاقت ایک ساتھ نظر آئیں تو یہ ہمیشہ سوالات کو جنم دیتی ہیں، خاص طور پر ایک بااثر شخصیت کے معاملے میں۔

مائیکل رابرٹس نے کہا کہ ’’یروشلم صلیب‘‘ اور ’’دوس وولت‘‘ کا امتزاج محض اتفاق نہیں لگتا بلکہ ایک خاص نظریاتی جھکاؤ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جیسیکا لی نے لکھا کہ اگر یہی علامات کسی اور مذہب سے جڑی ہوتیں تو ردِعمل کہیں زیادہ سخت ہوتا، اس لیے یہاں دوہرے معیار کی جھلک نظر آتی ہے۔

ڈینیئل رائٹ نے ایک معتدل مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ہر فرد کو اپنی مرضی کے ٹیٹوز رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن جب وہ عوامی زندگی میں نمایاں ہو تو اس کے انتخاب پر سوال اٹھنا بھی فطری ہے۔

لارا بینٹ نے کہا کہ انہیں ان ٹیٹوز سے ذاتی مسئلہ نہیں، مگر یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے ایک لڑاکا ذہنیت ہے۔

کرسٹوفر ایوانس نے ’’جوائن اور ڈائی‘‘ کے حوالے سے لکھا کہ یہ علامت آج کے دور میں اتحاد سے زیادہ تقسیم کا پیغام دیتی ہے۔

امانڈا کولنس نے امریکی پرچم اور بندوق کے امتزاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حب الوطنی سے زیادہ طاقت کے اظہار کی علامت محسوس ہوتی ہے۔

میتھیو کلارک نے کہا کہ ہمیں کسی کے ارادوں کو جانے بغیر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، ممکن ہے یہ سب ذاتی تجربات اور فوجی پس منظر کا اظہار ہوں۔

اولیویا ہیرس نے اس کے برعکس کہا کہ عوامی شخصیات کے لیے ذاتی اور عوامی پیغام میں فرق رکھنا ضروری ہوتا ہے، اور ایسے ٹیٹوز اس حد کو دھندلا دیتے ہیں۔

اینڈریو اسکاٹ نے لکھا کہ یہ علامات ایک وسیع تر بیانیے کا حصہ معلوم ہوتی ہیں جس میں مذہب، قومیت اور طاقت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

نیٹلی گرین نے کہا کہ انہیں یہ سب کچھ غیر ضروری طور پر اشتعال انگیز لگتا ہے، خاص طور پر موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں۔

راین مشیل نے ایک قدرے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اکثر چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، اور ہر علامت کو شدت پسندی سے جوڑنا درست نہیں۔

صوفی ٹرنر نے کہا کہ مسئلہ کسی ایک ٹیٹو کا نہیں بلکہ ان سب کے مجموعی تاثر کا ہے، جو ایک خاص نظریاتی تصویر پیش کرتا ہے۔

یہ تنازع اس وسیع بحث کو بھی جنم دیتا ہے کہ تاریخی علامتوں کو جدید دور میں کیسے دیکھا جانا چاہیے، اور کیا ذاتی اظہار اور عوامی ذمہ داری کے درمیان کوئی حد ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK