طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں لگے پلانٹ بار بار کی تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے کسی بھی وقت بند پڑ سکتے ہیں، عالمی ادارۂ صحت سے کی گئی فریاد بھی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 12:32 PM IST | Mumbai
طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں لگے پلانٹ بار بار کی تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے کسی بھی وقت بند پڑ سکتے ہیں، عالمی ادارۂ صحت سے کی گئی فریاد بھی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔
غزہ کی پٹی میں صحت کا نظام آکسیجن کی فراہمی کے شدید بحران کی زد میں ہے، کیونکہ قابض اسرائیل نے زیادہ تر پروڈکشن پلانٹس کو تباہ کر دیا ہے اور اسپیئر پارٹس کی فراہمی پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس سے مریضوں خصوصاً انتہائی نگہداشت کے وارڈز (آئی سی یو) اور نرسریوں میں موجود بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔غزہ کے شمالی علاقے میں آکسیجن کے مرکزی پلانٹ کے سامنے سے صحت کے ڈھانچے کی تباہی کی تصویر واضح طور پر دکھائی دیتی ہے، جہاں جنگ کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل کے ہاتھوں تباہ ہونے والے مختلف پلانٹس کے پرزے جمع کر کے ایک عارضی پلانٹ بنایا گیا تھا تاکہ زندگی بچانے والی اس اہم گیس کی فراہمی کو کسی حد تک برقرار رکھا جا سکے۔
غزہ میں وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے قبل غزہ کی پٹی میں آکسیجن کے ۳۴؍ پلانٹس موجود تھے، تاہم قابض اسرائیلی افواج نے ان میں سے ۲۲؍ پلانٹس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اب صرف ۱۲؍ پلانٹس انتہائی محدود صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جبکہ ضرورت مند مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی، گرفتار کارکنان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ
طبی ذرائع نےخبردار کیا ہے کہ یہ پلانٹس بار بار کی تکنیکی خرابیوں اور قابض اسرائیل کی جانب سے مرمت کیلئے ضروری سامان کی فراہمی سے انکار کے باعث کسی بھی لمحے بند ہو سکتے ہیں، جس کا مطلب اسپتالوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مکمل ناکامی ہو گا۔خطرہ لاحق ہونے والی تنصیبات میں غزہ شہر کے الشفاء اسپتال مجمع میں موجود مرکزی پلانٹ بھی شامل ہے، جو سرحدی گزرگاہوں پر عائد پابندیوں کی وجہ سے مسلسل خرابیوں کا شکار ہے۔وزارت صحت کے ڈائریکٹر مینٹن نینس انجینئر مازن العرایشہ کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صحت کے نظام کے اجزاء کو نشانہ بنایا ہے، جن میں آکسیجن پلانٹس بھی شامل ہیں جو آئی سی یو، آپریشن تھیٹر، نرسریوں، سینے کے امراض اور کینسر کے مریضوں کیلئے’شہ رگ‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے ہی اسپیئر پارٹس کی فراہمی پر پابندی، یہاں تک کہ معمول کی مرمت کے سامان پر بھی روک ٹوک، پلانٹس کے کام جاری رکھنے کیلئے براہ راست خطرہ ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ ان مریضوں کیلئے ایک بڑا انسانی سانحہ جنم لینے والا ہے جو زندہ رہنے کیلئے آکسیجن پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جنگ ۶۰؍ روزہ ڈیڈ لائن سے پہلے ’ختم‘ ہوگئی: ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ
العرایشہ نے وضاحت کی کہ صرف ایک پلانٹ تقر یباً ۱۵۰؍ ایسے مریضوں کی خدمت کرتا ہے جو اپنے گھروں میں آکسیجن سلنڈر بھرنے پر انحصار کرتے ہیں، انہوں نے تاکید کی کہ متبادل ذرائع کی عدم موجودگی میں ان کی سپلائی منقطع ہونے کا مطلب ’یقینی موت‘ ہے۔انہوں نے اشارہ کیا کہ وزارت صحت نے اس بحران پر قابو پانے کیلئے کئی بین الاقوامی اداروں سے رابطہ کیا ہے اور مغربی کنارے میں اسپیئر پارٹس کا ذخیرہ موجود ہے جس کی فنڈنگ پہلے ہی ہو چکی ہے، لیکن اسے غزہ لانا اب بھی قابض اسرائیل کی منظوری سے مشروط ہے جو تاحال جاری نہیں کی گئی۔فلسطینی عہدیدار نے عالمی ادارہ صحت سے اپیل کی کہ وہ ان پرزہ جات کی فراہمی کیلئے دباؤ ڈالیں، انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آکسیجن پلانٹس مکمل طور پر بند ہو سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے ذریعے نئے پلانٹس کی خریداری کی کوششیں بھی ناکام ہو گئی ہیں کیونکہ ان کی ترسیل کیلئے ضروری اجازت نامے نہیں مل سکے، جبکہ موجودہ پلانٹس کی معیاد تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔