وہائٹ ہائوس کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ کو شبہ ہے کہ اسرائیل ۔لبنان جنگ بندی معاہدہ اس کی مقررہ میعاد تک قائم نہیں رہ سکے گا۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 12:27 PM IST | Mumbai
وہائٹ ہائوس کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ کو شبہ ہے کہ اسرائیل ۔لبنان جنگ بندی معاہدہ اس کی مقررہ میعاد تک قائم نہیں رہ سکے گا۔
اسرائیل کے لبنان میں حزب اللہ کے بہانے زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں۔ حالانکہ فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوچکا ہے۔اس پر امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صبر سے کام لینے کی درخواست کی ہے تاکہ سفارتی عمل کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی آرمی چیف نےمزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ لبنانی اور امریکی حکام دونوں کو خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ مئی کے وسط میں اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو سکتا ہے۔اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن ایک نئے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں لبنانی فوج کو مضبوط بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں، تاہم لبنان کی قیادت اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔مزید یہ کہ امریکہ ایک ممکنہ سہ فریقی سربراہی اجلاس کی کوشش کر رہی ہے، جس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون شامل ہوں گے، لیکن یہ منصوبہ ابھی زمینی اور سیاسی حالات پر منحصر ہے کیونکہ فوجی حملے بدستور جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی، گرفتار کارکنان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ
لبنان میں فوجی کارروائیوں میں اضافہ
لبنان میں فوجی کارروائیوں میں اضافے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے انہیں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت سے آگاہ کیا ہے۔ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اس ہفتے نیتن یاہو سے روزانہ رابطہ رکھا ، اسرائیلی وزیراعظم نے زور دیا کہ جاری حملوں کے جواب میں فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جانا چاہئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو مشورہ دیا کہ ردعمل زیادہ مرکوز ہونا چاہئے اور عمارتوں کی بڑے پیمانے پر تباہی سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے اسرائیل کی عالمی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے اسرائیل اور لبنان کے درمیان ۱۷؍ اپریل سے جاری جنگ بندی میں۳؍ ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا تھا اسکے باوجود خلاف ورزیاں جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا آغاز ۲؍ مارچ کو لبنان تک پھیلا، جب حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل پر میزائل فائر کئے ۔اسکے بعد اسرائیل نے لبنان پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کئے اور زمینی کارروائیاں بھی شروع کیں۔