عالمی سطح پرکورونا سے زیادہ بھکمری سے اموات میں تشویشناک طورپر اضافہ

Updated: July 12, 2021, 2:54 PM IST | Agency | Kenya

انسداد غربت کی تنظیم ’آکسفیم‘ کی چشم کشا رپورٹ ،انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھرمیںخوراک کی قلت سے ہر ایک منٹ ۱۱؍ افراد بھوک سے ہلاک ہوجاتے ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا  کی وجہ سے اموات  کےسلسلے  پر تشویش کااظہار کیا جارہا ہے لیکن اب انسداد غربت کی تنظیم ’آکسفیم‘ اپنی ایک چشم کشا  رپورٹ میں انسانوں کی جان کے ضیاع ایک اور بڑے اسباب  پر عالمی اداروں کومتوجہ کیا ہے۔ ’ہنگر وائرس ملٹی پلائز‘ نام سے جاری کی گئی رپورٹ میں آکسفیم نے کہا کہ ہے کہ بھکمری  سے ہونے والی ہلاکتوں نے کورونا سے ہونے والی اموات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر ایک منٹ میں ۱۱؍ افرادبھوک سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ علاوہ ازیں  بین الاقوامی سطح پر قحط جیسی صورتحال کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں گزشتہ برس۶؍ گنا اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپ کے مطابق دنیا بھر میں۱۵؍ کروڑ ۵۰ لاکھ افراد قلت خوراک کا سامنا کررہے ہیں ،  یہ گزشتہ برس کی تعداد سے۲؍ کروڑ زائد ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ موسمیاتی بحران اور کورونا وائرس کی وبا  کے نتیجے میں معاشی  بدحالی کی وجہ سےد نیا بھر میں اشیا ئےضروریہ کی قیمتوں میں ۴۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات میں مزید لاکھوں افراد خوراک کی  قلت کا سامنا کررہے ہیں۔
 رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان، ایتھوپیا، جنوبی سوڈان، شام اور یمن  میں کشمکش کے حالات میں خوارک کا بحران ہے۔جنگوں میں عام شہریوں کو خوراک، پانی اور انسانی امداد سے محروم کر کے قحط کو  بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔ آکسفیم نے کہا کہ وبا کے دوران عالمی سطح پر  جنگی اخراجات میں ۵۱؍ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا  یہ رقم  اقوام متحدہ کی بھوک سے روکنے کیلئے مختص  فنڈ سے ۶؍ گنا زیادہ ہے۔تنظیم نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ تنازعات ختم کریں کیونکہ شورش زدہ حالات میں خوراک کی قلت کے سبب تباہ کن اثرات مزیدابتر ہوتے جارہے ہیں۔ اس لئے ایسے خطوں میں ریلیف ایجنسیوں کو بلا روک ٹوک اپنی خدمات انجام دینے کی ضرورت ہے۔ امریکا میں آکسفیم کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو افسر ابے میکس مین نے کہا کہ یہ  اعداد و شمار حیرت انگیز ہیں  ۔موجودہ حالات میں وبا کا مقابلہ کرنے کے بجائے مختلف ممالک میں فریقین آپس میں لڑ رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ طاقتور ممالک خوارک کی کمی کو دور کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے اقدامات کی ہرممکن مدد کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK