• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیلن ڈی او ر جیتنے والے ہیری کین نے اپنی تقریر میں وراٹ کوہلی کا نام بھی لیا

Updated: November 03, 2026, 10:03 PM IST | London

انگلینڈ کے کپتان اور جرمن فٹ بال کلب بائرن میونخ کے اسٹار اسٹرائیکر ہیری کین نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ۲۰۲۶ء کا بیلن ڈی اور ایوارڈ جیتنے کے بعد مبارکباد دینے والی مشہور شخصیات میں ہندوستانی کرکٹ اسٹار وراٹ کوہلی بھی شامل تھے۔

Harry Kane.Photo:X
ہیری کین۔ تصویر:ایکس

 انگلینڈ کے کپتان اور جرمن فٹ بال کلب بائرن میونخ کے اسٹار اسٹرائیکر ہیری کین نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ۲۰۲۶ء کا بیلن ڈی اور ایوارڈ جیتنے کے بعد مبارکباد دینے والی مشہور شخصیات میں ہندوستانی کرکٹ اسٹار وراٹ کوہلی بھی شامل تھے۔ کین نے سابق ہندوستانی کپتان کو ان کھیلوں کی شخصیات میں شمار کیا جن کی وہ بے حد عزت کرتے ہیں اور جن سے ملنے والی مبارکباد ان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے اس انکشاف کے بعد کرکٹ اور فٹ بال کے شائقین کے درمیان دونوں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی دوستی اور باہمی احترام ایک مرتبہ پھر موضوعِ گفتگو بن گیا ہے۔ 


ہیری کین نے یہ بات بائرن میونخ کے چیمپئنز لیگ مقابلے سے قبل پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ بیلن ڈی اور جیتنے کے بعد موصول ہونے والے مبارکبادی پیغامات میں سے کس پیغام نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا یا حیران کیا۔ اس پر کین نے کہا کہ وہ اسے حیران ہونے کے بجائے ان شخصیات کی جانب سے ملنے والی محبت اور عزت سمجھتے ہیں جنہیں وہ خود بھی بہت پسند کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:بدتمیزی کے الزام کے بعد اوری نےامرتا سنگھ اور سارہ علی خان سے بدلہ لینے کی دھمکی دی

انہوں نے سابق انگلش فٹ بال کپتان ڈیوڈ بیکہم کا نام لیتے ہوئے انہیں اپنا بڑا آئیڈیل قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی فٹ بال کے عظیم کھلاڑی ٹام بریڈی اور ہندوستانی کرکٹ اسٹار وراٹ کوہلی کا بھی ذکر کیا۔ کین نے گلوکار ایڈ شیرن کا نام بھی لیا اور بتایا کہ وہ ان کے اچھے دوست ہیں۔ انگلش اسٹرائیکر نے مزید کہا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ ان کی کامیابی کے منتظر تھے اور انہیں مبارکباد دینے کے خواہش مند ہوں گے۔ 
وراٹ کوہلی نے ۲۷؍ اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہیری کین کو ان کی تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی تھی۔ کوہلی نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ ہیری، میرے دوست، تم اس ایوارڈ کے پوری طرح مستحق ہو۔ تم نے برسوں تک اعلیٰ سطح پر فٹ بال کھیلتے ہوئے جس استقامت، محنت اور ایمانداری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔ کوہلی نے کین کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔
کوہلی کے اس پیغام سے دونوں کھلاڑیوں کے درمیان موجود دوستانہ تعلقات کا بھی اظہار ہوا۔ کین نے اپنی پریس کانفرنس میں کوہلی کا نام لے کر اس بات کی تصدیق کی کہ ہندوستانی کرکٹر کی مبارکباد ان کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ وراٹ کوہلی اور ہیری کین کے درمیان باہمی احترام کا تعلق کئی برس پرانا ہے۔ ۲۰۱۶ء کے ٹی ۲۰؍ عالمی کپ کے دوران آسٹریلیا کے خلاف وراٹ کوہلی نے ناٹ آؤٹ ۸۲؍ رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ہندوستان کو یادگار کامیابی دلائی تھی۔ اس کارکردگی سے متاثر ہوکر ہیری کین نے بھی کوہلی کی تعریف کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:ون ڈے سیریز کے لیے مکمل مضبوط ٹیم چاہتے تھے: گِل

بعد ازاں مئی ۲۰۱۹ء میں لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں دونوں کھلاڑیوں کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد بھی وہ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی کامیابیوں کو سراہتے رہے ہیں۔ دونوں کا تعلق الگ الگ کھیلوں سے ہے، لیکن کھیل کے میدان میں محنت، مستقل مزاجی اور اعلیٰ کارکردگی کے حوالے سے ان کے درمیان مشترکہ احترام پایا جاتا ہے۔  ہیری کین نے ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو بیلن ڈی اور کا باوقار خطاب اپنے نام کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ ۲۰۰۱ء میں مائیکل اوون کے بعد یہ ایوارڈ جیتنے والے پہلے انگلش فٹ بالر بن گئے۔ انہوں نے ایوارڈ کی دوڑ میں فرانس کے کیلین ایمباپے اور اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یامل کو پیچھے چھوڑا۔
کین کے لیے یہ کامیابی ان کے طویل فٹ بال کیریئر کا ایک بڑا سنگِ میل ہے۔ ٹوٹنہم ہاٹسپر کے لیے کئی برس کھیلنے کے بعد ۲۰۲۳ء میں بائرن میونخ سے وابستہ ہونے والے کین نے جرمن کلب کے لیے مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی گول کرنے کی صلاحیت، مستقل مزاجی اور ٹیم کے لیے اہم کردار نے انہیں دنیا کے بہترین اسٹرائیکرز میں شامل کیا۔  ہیری کین کے اس انکشاف نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ کھیل کی دنیا میں شہرت اور کامیابی کے ساتھ باہمی احترام اور دوستی کی بھی اپنی اہمیت ہے۔ وراٹ کوہلی کی جانب سے مبارکباد اور کین کی جانب سے ان کا نام خصوصی طور پر لینا اس بات کی مثال ہے کہ کرکٹ اور فٹ بال جیسے مختلف کھیلوں کے عالمی ستارے بھی ایک دوسرے کی کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK