Updated: April 16, 2026, 10:04 PM IST
| London
عالمی میڈیا واچ ڈاگ (آر ایس ایف) Reporters Without Borders نے گوگل کے اس نئے اے آئی تجربے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے جس میں سرچ نتائج میں خبروں کی سرخیوں کو دوبارہ لکھا جا رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ قدم ادارتی آزادی کے لیے خطرناک ہے اور صارفین کو گمراہ کر سکتا ہے، جبکہ گوگل نے اسے محدود پیمانے کا ٹیسٹ قرار دیا ہے۔
عالمی سطح پر صحافتی آزادی کی نگرانی کرنے والے ادارے آر ایس ایف (رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز) نے گوگل کے ایک نئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) تجربے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں سرچ نتائج کے اندر خبروں کی سرخیوں کو خودکار طور پر دوبارہ تحریر کیا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم دی ورج نے ۲۰؍ مارچ کو رپورٹ کیا کہ اس کے کئی مضامین گوگل سرچ پر ایسی سرخیوں کے ساتھ ظاہر ہوئے جو نہ تو اس کے نیوز روم نے لکھی تھیں اور نہ ہی منظور کی تھیں۔ بعد ازاں گوگل نے آر ایس ایف کو تصدیق کی کہ وہ ایک ’’چھوٹا ٹیسٹ‘‘ کر رہا ہے، جس کا مقصد صارفین کو زیادہ متعلقہ مواد تک پہنچانا ہے۔ تاہم، کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اے آئی سسٹم کس بنیاد پر سرخیوں کو تبدیل کرتا ہے یا کن اصولوں پر کام کرتا ہے۔
آر ایس ایف نے اس اقدام کو محض تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ ادارتی ڈھانچے میں مداخلت قرار دیا۔ تنظیم کے مطابق، سرخی کسی بھی خبر کی روح ہوتی ہے، اور اس میں تبدیلی مواد کے مفہوم کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔ ایک مثال دیتے ہوئے آر ایس ایف نے بتایا کہ ایک اصل سرخی،’’میں نے ’چیٹ آن ایوری تھنگ‘ اے آئی ٹول استعمال کیا اور اس نے مجھے کسی چیز پر دھوکہ دینے میں مدد نہیں کی‘‘ کو مختصر کر کے صرف ’’چیٹ آن ایوری تھنگ اے آئی ٹول‘‘ بنا دیا گیا، جس سے سیاق و سباق اور تنقیدی پہلو مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
شان ہولسٹر جو دی ورج سے وابستہ ہیں، نے اس پیش رفت پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ وہ چیز نہیں جو گوگل پہلے کرتا تھا، یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اس سے قارئین کو گمراہ ہونے اور میڈیا پر اعتماد کم ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘ اسی طرح آر ایس ایف کے ٹیکنالوجی اینڈ جرنلزم ڈیسک کے سربراہ ونسنٹ برتھیئر نے کہا کہ’’ٹیک کمپنیاں یہ سمجھنے لگی ہیں کہ وہ صحافیوں کی جگہ لے سکتی ہیں، حالانکہ ان کے پاس نہ وہ اخلاقیات ہیں اور نہ سماجی ذمہ داری۔‘‘
آر ایس ایف نے زور دیا کہ نیوز روم کی اجازت کے بغیر سرخیوں کو تبدیل کرنا ادارتی اختیار چھیننے کے مترادف ہے۔ تنظیم نے گوگل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس ٹیسٹ کو روکے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سخت ضابطہ سازی کی جائے تاکہ صحافتی مواد کی حفاظت ممکن ہو سکے۔ یہ معاملہ الگ تھلگ نہیں ہے۔ آر ایس ایف نے نشاندہی کی کہ گوگل اس سے پہلے بھی اپنی ڈسکور فیڈ میں اسی طرح کی خصوصیت متعارف کرا چکا ہے، جسے ۲۰۲۵ء کے آخر میں امریکہ میں آزمایا گیا اور ۲۰۲۶ء میں مستقل بنا دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، ان تبدیل شدہ سرخیوں میں بعض اوقات غلط یا گمراہ کن معلومات بھی شامل تھیں۔
شان نے نمزید خبردار کیا کہ ’’لوگ گوگل پر اعتماد کھو سکتے ہیں، اور ان پبلشرز پر بھی جن کے مواد کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘ آر ایس ایف نے اس تناظر میں ۲۰۲۳ء کے اے آئی اور جرنلزم پر پیرس منشور کا حوالہ بھی دیا، جس کے مطابق اے آئی سسٹمز کو صحافتی مواد کو بغیر اس کے مفہوم یا سالمیت کو تبدیل کیے پیش کرنا چاہیے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر ایسے اے آئی تجربات کو بغیر نگرانی کے جاری رکھا گیا تو یہ نہ صرف عالمی میڈیا کے اعتماد کو متاثر کرے گا بلکہ صحافت کی آزادی اور ساکھ کو بھی سنگین نقصان پہنچا سکتا ہے۔