Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوگل نے انٹرنیٹ کے بغیر کام کرنے والا روبوٹک اے آئی دماغ متعارف کیا

Updated: August 04, 2026, 2:09 PM IST | California

گوگل ڈیپ مائنڈ (Google DeepMind) نے Gemini Robotics On-Device 2 نامی نیا مصنوعی ذہانت کا ماڈل متعارف کرایا ہے، جو روبوٹس کو انٹرنیٹ یا کلاؤڈ کنکشن کے بغیر مقامی طور پر (On-device) چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل نہ صرف نئے روبوٹک پلیٹ فارمز کے ساتھ چند گھنٹوں میں خود کو ڈھال سکتا ہے بلکہ چلنے، جھکنے، اشیا اٹھانے، گرہیں باندھنے اور پیچیدہ جسمانی کام انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

گوگل ڈیپ مائنڈ نے روبوٹکس کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے Gemini Robotics 2 ماڈلز کی نئی سیریز متعارف کرائی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں Gemini Robotics On-Device 2 ہے، جسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ انٹرنیٹ کنکشن یا کلاؤڈ سرور پر انحصار کیے بغیر براہِ راست روبوٹ کے اندر چل سکے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسے بہت سے روبوٹک استعمال ہوتے ہیں جہاں نیٹ ورک میں تاخیر یا انٹرنیٹ کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ بنتی ہے، اسی لیے یہ نیا ماڈل مکمل طور پر مقامی سطح پر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ گوگل کے مطابق Gemini Robotics 2 دراصل تین الگ الگ ماڈلز پر مشتمل ہے:Gemini Robotics 2: ویژن، زبان اور حرکات (Vision-Language-Action) کو یکجا کرتے ہوئے پورے جسم والے ہیومنائیڈ روبوٹ کو کنٹرول کرتا ہے۔
Gemini Robotics ER 2: روبوٹ کے لیے اعلیٰ سطح کی منصوبہ بندی، استدلال (Reasoning) اور متعدد مراحل پر مشتمل کاموں کی نگرانی کرتا ہے۔
Gemini Robotics On-Device 2: وہ ماڈل جو براہِ راست روبوٹ کے اندر چلتا ہے اور انٹرنیٹ کے بغیر بھی مؤثر طریقے سے کام کر سکتا ہے۔ 
گوگل کا کہنا ہے کہ نیا آن ڈیوائس ماڈل مختلف اقسام کے روبوٹس کے ساتھ تیزی سے مطابقت اختیار کر سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق صرف چند گھنٹوں کی تربیتی معلومات اور ۲۰۰؍ سے کم مثالوں کی مدد سے اسے کسی نئے دو بازو والے روبوٹ کے لیے ڈھالا جا سکتا ہے، چاہے اس روبوٹ کی ساخت، سینسرز یا جوڑ (Degrees of Freedom) پہلے سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ ڈیمو کے دوران Apptronik Apollo 2 ہیومنائیڈ روبوٹ کو ہدایت دی گئی کہ’’پانی ڈالنے والا کین (watering can) اٹھا کر نچلی شیلف میں موجود سبز ڈبے میں رکھ دو۔‘‘
رپورٹ کے مطابق روبوٹ نے کمرے میں چلتے ہوئے مطلوبہ چیز تلاش کی، اسے اٹھایا، شیلف تک گیا اور درست جگہ پر رکھ دیا۔  کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ نیا ماڈل صرف چلنے پھرنے تک محدود نہیں بلکہ پانچ انگلیوں والے روبوٹک ہاتھوں کے ذریعے گرہ باندھنے، زِپ لاک بیگ بند کرنے، بلب کھولنے، اشیا کو درست جگہ پر رکھنے اور دیگر باریک مہارت والے کام بھی انجام دے سکتا ہے، اگرچہ بعض پیچیدہ کاموں میں ابھی مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
Gemini Robotics ER 2 کے ذریعے متعدد روبوٹ آپس میں رابطہ قائم کر کے ایک ہی کام پر مشترکہ طور پر بھی کام کر سکتے ہیں۔ گوگل کے مطابق یہ ماڈل انسانوں سے گفتگو، ماحول کو سمجھنے، کئی منٹ تک جاری رہنے والے کاموں کی منصوبہ بندی، غلطی کی صورت میں خود کو درست کرنے اور مختلف روبوٹس کے درمیان تعاون ممکن بناتا ہے۔ گوگل نے کہا ہے کہ Gemini Robotics On-Device 2 اور مکمل جسم والے روبوٹک ماڈل فی الحال منتخب شراکت داروں (Early Access Partners) کے لیے دستیاب ہیں، جبکہ Gemini Robotics ER 2 کو Google AI Studio اور Gemini Enterprise Agent Platform پر محدود پیش نظارہ (Private Preview) کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ روبوٹ کے اندر ہی مصنوعی ذہانت چلنے سے انٹرنیٹ پر انحصار کم ہوگا، ردعمل زیادہ تیز ہوگا اور ایسے ماحول میں بھی روبوٹ مؤثر انداز میں کام کر سکیں گے جہاں نیٹ ورک دستیاب نہ ہو، جیسے فیکٹریاں، گودام، اسپتال، آفات سے متاثرہ علاقے یا خلائی مشن۔ اسی لیے اس پیش رفت کو روبوٹکس میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK