Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریلوے کی گوریگاؤں میں انہدامی کارروائی

Updated: May 26, 2026, 2:30 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

باندرہ غریب نگر کے بعد گوریگاؤں اور ملاڈ کے درمیان ریلوے کی زمین پرتعمیر کئے گئے ۵۰؍ سے زائد جھوپڑوں کو زمین بوس کردیا گیا۔ ریلوے کے بقول قبضہ جات کو منہدم کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

A picture of the demolition work at the railway site between Goregaon and Malad. Photo: INN
گوریگاؤں  اور ملاڈ کے درمیان ریلوے کی جگہ پر انہدامی کارروائی کی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ویسٹرن ریلوے انتظامیہ نے باندرہ غریب نگر کے بعد اب گوریگاؤں اور ملاڈ کے درمیان ریلوے پٹریوں سے متصل غیر قانونی قبضہ جات کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ پیر کو گوریگاؤں اور ملاڈ ریلوے اسٹیشنوں کی پٹریوں سے متصل ۵۰؍ سے زائد جھونپڑوں کو بھاری پولیس فورس، جی سی بی مشین، انہدامی دستہ کے ہمراہ زمین بوس کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ 
حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق مذکورہ ریلوے کی زمین پر ۵۰؍ جھوپڑوں میں ۳۶ ؍ جھوپڑا واسیوں کو قانونی حیثیت حاصل ہے جبکہ ۲۴؍ جھوپڑے غیر قانونی قرار دیئے گئے ہیں۔ وہیں مذکورہ بالا جھوپڑوں میں بھی رہنے والے قانونی مکینوں کو متبادل جگہ فراہم نہیں کی گئی ہے۔ انہدامی کارروائی کو انجام دینے کے لئے ویسٹرن ریلوے نے بی ایم سی انہدامی دستہ کے علاوہ شہری پولیس، ریلوے پروٹکشن فورس، جی آر پی اور دیگر محکمہ کے افسران کو تعینات کیا تھا۔ یہی نہیں انہدامی کارروائی کے ساتھ ساتھ ڈمپر کی مدد سے ملبہ بھی ہٹایا جارہا ہے۔ ریلوے نے کہاکہ اس انہدامی کارروائی کے دوران کوئی احتجاج یا مکینوں کے ذریعہ مظاہر ہ نہیں کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۳۰؍ جون سے ایس آئی آر کیلئے بی ایل او گھر گھر جائیں گے

ویسٹرن ریلوے کے ایک سینئر افسر نے باندرہ غریب نگر کےبعد ریلوے کی زمین پر کی جانے والے دوسری کارروائی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’ ریلوے کی زمین پر کئے جانے والے قبضہ جات کے خلاف کارروائی ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل ہے۔ ساتھ ہی جنگی پیمانے پر ریلوے انتظامیہ نے انہدامی کارروائی کو اس لئے شروع کیا ہے تاکہ مستقبل میں ریلوے کی جگہ کا صحیح استعمال کیا جائے اور انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا جاسکے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غریب نگر میں ۵؍ سو سے زائد غیر قانونی قبضہ جات کے خلاف انہدامی کارروائی کی گئی ہے اور اب انہدامی کارروائی کا یہ سلسلہ تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ بعد ازیں افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریلوے اسٹیشنوں کی زمینوں پر کئے جانے والے قبضہ جات کے خلاف انہدامی کارروائی کا سلسلہ تمام قبضہ جات کو ختم کئے جانے تک جاری رہے گا۔ 
قابل ذکر ہے کہ بامبے ہائی کورٹ کے بارہا حکم کے باوجود ویسٹرن ریلوے انتظامیہ مسافروں کی حفاظت کیلئے کئی اسٹیشنوں کے پلیٹ فار م اور ٹرینوں کے درمیان خلاء کو دور کرنے کے سلسلہ میں نہ تو کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہا ہے اور نہ اس ضمن میں کوئی پہل کی گئی ہے۔ تاہم ویسٹرن ریلوے نے ریلوے کی زمینوں پر ہونے والے قبضہ جات کو ختم کرنے اور اپنی زمین واپس لینے کی ضمن میں بامبے ہائی کورٹ کے سنائے گئے فیصلہ پر پابندی اور مستعدی سے عمل کررہا ہے۔ 
یہ بھی خیال رہے کہ غریب نگر میں آباد ۱۰۰؍ جھوپڑا واسی قانونی حیثیت رکھتے تھے اور بامبے ہائی کورٹ نے انہیں متبادل گھر دیئے جانے کا بھی حکم دیا تھا لیکن انہیں متبادل جگہ بھی نہیں  دی گئی اور جھوپڑوں  پر بھی بلڈوزر چلا دیا گیا۔ انہدامی کارروائی کے دوران ان کے جھوپڑوں کو بھی شدیدنقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس دوران اینٹی رائٹس ایکشن فورس، ۵؍ پولیس اسٹیشنوں کے بھاری دستہ اور بی ایم سی ڈیمولیشن اسکواڈ کے ہمراہ تمام جھوپڑوں کو منہدم اور ۲؍ مساجد کو شہید کردیاگیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK