گوونڈی : راشن کی دکانپر اناج کی کالابازاری

Updated: May 15, 2022, 10:00 AM IST | Kazim Shaikh | Mumbai

سرکاری اناج کی تقسیم میں دھاندلی اور خراب اناج دینے کا الزام ، دکاندار نے غلطی کا اعتراف کیا، راشننگ افسر نے انکوائری کا یقین دلایا

Consumers are angry against the owner of a ration shop in Govandi
گوونڈی میں واقع راشن کی دکان جس کے مالک کیخلاف صارفین میں ناراضگی ہے۔

یہاں سرکاری راشن کی دکانوں پر  مفت اور کفایتی داموں پر ملنے والے اناج کے معاملے میں ہونے والی دھاندلی اور دکان پر ہونے والی کالا بازاری کے خلاف ملنے والی شکایت پر نمائندہ ٔ انقلاب نے بھی اس کی تصدیق کیلئے گاہک بن کر دکان دار سے  بات چیت کی کوشش کی۔ دکاندار کو شبہ ہونے پر اس نے گفتگو کرنے میں آنا کانی شروع کی ۔ اسی دوران شکایت کنندگان بھی وہاں پہنچ گئے اور دکاندار نے اپنی خامیوں کا اقرار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ شکایت کا  موقع نہیں ملے گا  ۔
 گوونڈی کے بیگن واڑی روڈ نمبر ۱۰؍ پر رہنے  والی کلثوم خان نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے چند روز پہلے شکایت کی گئی تھی کہ روڈ نمبر ۱۰؍ پر واقع حکومت کی جانب سے ۱۹؍اے ، ۱۱؍ کملابائی جھوپڑپٹی بیگن واڑی گوونڈی نمبر ۴۳ ؍میں  راشن کی سرکاری دکان ’سائی ناتھ کرانہ اسٹور ‘میں غریبوں کوکفایتی اورمفت ملنے والا اناج (گیہوں اور چاول)  اتنا خراب دیاجاتا ہے کہ اسے جانور بھی کھانا پسند نہ کریں۔انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری راشن کی دکان کے مالک اودھیش گپتا مفت اناج دینے میں صارفین کو بے حد پریشان کرتے ہیں ۔ پہلی تاریخ سے ۲۶؍ تاریخ تک اناج دینے میں آنا کانی کرتے ہیں  ۔ کفایتی دام پر ملنے والا اناج اتنا خراب   رہتاہے کہ وہ استعمال کے لائق نہیں ہوتا ۔ اگرکھلی ہوئی بوری میں اناج ہے اوردکاندار سے کہا جائے کہ دوسرا بوراکھول کر اچھا اناج  دیکھ کر دے دیا جائے تو اس کیلئے راضی نہیں ہوتا ۔ اگردکاندار راضی بھی  ہو جائے  تو انتظار کیلئے بیٹھادے گا او ر کہے گا کہ پہلے بورے کا اناج ختم ہوجانے دو پھر دوسرا بورا کھول کر اناج دیں گے ۔ اس میں بھی اچھا ہویا خراب لینا  ہی پڑتا ہے ۔اسی علاقے میں مقیم عائشہ نامی خاتون نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ یوپی کا راشن کارڈ ہونے پر مجھے ۲۵؍ کلوگرام اناج کی جگہ  ۱۵؍ کلوگرام گیہوں اور چاول دیا جاتا ہے جبکہ دکان پر موجود سحر بانو نے الزام لگایا کہ اس کا راشن کارڈ بہار کا ہے اور اسے کفایتی دام میں اناج تو ملتا ہے لیکن مفت اناج یہ کہہ کر نہیں دیا جاتا کہ اس کا راشن کارڈ بہار کا ہے۔ جبکہ علاقے کی ایک دوسری د کان پر کبھی کبھار  اناج  مل جاتا ہے لیکن اس نے بھی یہ کہہ کر دیا کہ پہلی بار میں اناج دے دیتا ہوں  دوبارہ مفت اناج کیلئے اپنے گھر سے قریب کی دکانوں سے حاصل کرلینا ۔ اب  اسے مفت اناج یہاں نہیں مل سکے گا ۔ 
  انہوں نے کہاکہ راشن کی دکان پر آئے دن یہ کہہ کر گاہکوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ اس کی بائیومیٹرک مشین خراب ہےیا پھر نیٹ ورک نہیں مل رہا ہے۔  اسی طرح فیملی کے ممبران کا آدھار کارڈ مشین سے لنک نہ ہونے کا جھانسہ دے کر راشن دینے میں بڑے پیمانے پر کالا بازاری کی جاتی ہے ۔ گاہکوں سے کہا جاتا ہے کہ  انہیں راشن کارڈ آفس  جاکر اس کو آدھار کارڈ سے لنک کرانا ہوگا۔ 
 گوونڈی بیگن واڑی میں رہنے والی سکینہ بیگم نے الزام لگایا کہ راشن کی دکان پر کام کرنے والا ملازم ہری لال کہتا ہے کہ مہینے کے آخری دنوں میں مفت اناج تقسیم کیا جاتا ہے اور اگر دکاندار کی ہی لاپروائی اور بدمعاشی سے مہینےکی آخری تاریخ تک اناج نہیں مل سکا  تو دوسرے مہینے کی پہلی تاریخ کے بعد یہ کہہ کر اناج نہیں دیا جاتا ہے کہ اب دوسرے مہینے کی پہلی تاریخ آگئی  اس لئے اب اس مہینے کی ۲۶؍ تاریخ کے بعد اناج لینے کیلئے دکان پر آنا  ۔ 
 جب علاقے کے لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ راشن کی دکان پر اس طرح کا  معاملہ چل رہا تو کئی خواتین اکٹھا ہوگئیں اور انھوں نے دکاندار کے خلاف شکایتوں کے انبار لگادیا۔ ان کی شکایتیں سن کر انقلاب نے  جواب جاننے کی کوشش تو دکان کے مالک اودھیش گپتا نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اب  شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ 
 اس سلسلے میںانقلاب نے سرکاری راشن کی دکانوں پر دیئے جانے والے اناج کی دیکھ بھال کے سربراہ جگن ناتھ سانپ ( آر او)سے تفصیلی بات چیت کے ذریعہ شکایت کی تو انھوں نے کہا کہ اگر کسی وجہ سے گاہک کو مہینے کی آخری تاریخ تک اناج نہیں مل سکا ہے تو وہ اس کے بدلے  دوسرے مہینے میں پچھلے مہینے کا بھی راشن حاصل کرسکتا ہے ۔ بقول سانپ دکانوں میں بائیومیٹرک مشین کی وجہ سے اناج تقسیم کرنے میں دکانداروں کو کچھ دشواری  پیش آتی ہے لیکن ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی  غریب اناج سے محروم رہ جائے۔ ہم اپنےسرکاری راشننگ افسر کے  ذریعہ اس کی جانچ کرائیں گے ۔ 

govandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK