گوونڈی : سنجے نگر بی ایم سی اردو اسکول میں سہولتوں کا فقدان

Updated: November 30, 2021, 8:08 AM IST | Kazim Shaikh | Mumbai

نویں جماعت کے طلبہ کیلئے کلاس روم کی کمی اور دیگر انتظامات نہ ہونے کے سبب تعلیم حاصل کرنے میں دشواری ۔ ایجوکیشن افسر نے سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی

Students face difficulties at Municipal Urdu School in Sanjay Nagar, Gondi.
گوونڈی کے سنجے نگر میں واقع میونسپل اردو اسکول میں طلبہ کو دشواریوںکا سامنا۔

 یہاںگوونڈی علاقے کے تمام بی ایم سی اردو اسکولوں میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح گوونڈی کے سنجے نگر بی ایم سی اردواسکول میں بھی طلبہ کی تعداد بڑھنے کے علاوہ نویں جماعت تک تعلیم شروع کردی گئی ہے اورسیکڑوں طلبہ اسکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں لیکن   انہیں سہولیات کے فقدان کا سامنا کرنا پڑ  ہے ۔ جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں طلبہ کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
 گوونڈی کے بیگن واڑی میں مقیم اورمیونسپل کارپوریشن کے  سنجے نگر سیکنڈری  اردو اسکول  میں پڑھنے والی ایک طالبہ کے والدہ نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کے اساتذہ کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ اس سال بی ایم سی کے اردو اسکولوں میں طلبہ کی تعداد بڑھی ہے۔ ایک طرف یہ بات جہاں خوش آئند ہے  وہیں دوسری جانب افسوس اور حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ سنجے نگر اسکول  کے نویںجماعت میں ۴۱۷؍ طلبہ  زیر تعلیم ہیں لیکن ابھی تک ان کیلئے بنیادی سہولتیں دستیاب نہیںہیں  ۔ 
  انہوں نے الزام لگایا کہ میری بیٹی کے مطابق نویں جماعت کے طلبہ اسکول کی عمارت  کے چوتھے منزلے پر تعلیم حاصل کرنے والے ہیں لیکن اس منزلے پر طلبہ کے بیٹھنے کیلئے کلاسس ، بیت الخلا، پینے کا پانی ، روشنی، پنکھے سائنس لیب اور کمپیوٹرلیب وغیرہ کےعلاوہ دیگر چیزیں ابھی تک مہیا نہیں کرائی گئی ہیں ۔ ایسی حالت میںفی الحال نو یں جماعت کے طلبہ تیسرے منزلے پر واقع کلاس روم میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔ 
   گوونڈی میں مقیم اور علاقے کی کارپوریٹر عائشہ نورجہاں رفیق شیخ نے بتایا کہ میری مرحومہ والدہ سابق کارپوریٹر نورجہاں اور والد رفیق شیخ کی محنت اور کاوشوں سے  سنجے نگر بی ایم سی اردو  اسکول میں سیکنڈری اسکول کی تعلیم شروع کی گئی ہے۔ اس سال نویں جماعت میں ۴۱۷؍ طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ آئندہ برس انشاء اللہ سنجے نگر اسکول میں دسویں جماعت کی بھی تعلیم شروع ہو جائےگی لیکن اتنا وقت گزرجانے کے باوجود ان طلبہ کیلئے کوئی خاص انتظامات نہیں کئے جاسکے ہیں ۔ 
 انھوں نے مزید کہا کہ نویں اور دسویں  جماعت کے  طلبہ کیلئےاسکول کی عمارت کے چوتھے منزلےپر بلڈنگ کی مرمت، کلاس روم ، پینے کا پانی ، طلبہ کیلئے بیت الخلاء، الیکٹرک اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کیلئے بی ایم سی ایجوکیشن محکمہ کے افسران  کو کئی خطوط لکھے گئے ہیں لیکن بی ایم سی کا ایجوکیشن محکمہ اس جانب توجہ نہیں دے رہا ہے۔ 
 اس سلسلے میں نمائندۂ انقلاب نے سنجے نگر اسکول کی ایک معلمہ سےبات چیت کی تو انھوں نے بتایا کہ گوونڈی کےسنجے نگر اسکول میں طلبہ کی تعداد میں اس سال اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ نویں جماعت میں بھی ۴۱۷؍ طلبہ کا داخلہ ہوا ہے ۔ اس لئے نویں جماعت کے طلبہ کو اسکول میں بیٹھنے کیلئے دقتوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ کیوں کہ فی الحال وہ اسکو ل کے تیسرے منزلے پر بیٹھ کر اس جگہ تعلیم حاصل کرتے ہیں جہاں پرائمری اسکول کے طلبہ  پڑھتے تھے ۔ یکم دسمبر سے  دوسری کلاسس کے طلبہ کیلئے اسکول شروع  ہورہا ہے ۔ ایسی حالت میں نویں جماعت کے طلبہ  کو بیٹھنے کیلئے کافی دقتیں پیش آسکتی  ہیں ۔ 
 اس ضمن میں سنجے نگر بی ایم سی اسکول کی بیٹ آفیسر عارفہ شیخ نے دعویٰ کیا کہ میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں نے اپنا لوہا منواہی لیا ۔گزشتہ برس کے مقابلے گوونڈی کے تمام ۱۵؍ بی ایم سی اردو اسکولوں میں ریکارڈ کے مطابق ۲۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گوونڈی کے عوام نے   میونسپل اسکولوں کے تئیں اپنا اعتماد اور بھروسہ جتایا ہے ۔ اپنے بچوں کو نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں میں داخل کرانے کے بجائے میونسپل اسکولوں کو ترجیح دی ہے ۔ گزشتہ سال گوونڈی کے بی ایم سی اسکولوں میں طبہ کی تعداد ۱۲؍ ہزار ۳۲۴ تھی اور اب ۲۰۲۱ء میں کل طلبہ کی تعداد ۱۵؍ ہزار ۳۹۴ ؍ تک پہنچ گئی ہے اور ۳؍ ہزار سے زائد طلبہ کا اضافہ ہوا ہے ۔ ہم  بھی سنجے نگر اسکول میں سیکنڈری اسکول کےطلبہ کی سہولیات کیلئے متعدد مرتبہ بی ایم سی کے ایجوکیشن افسران کے نام پر خط لکھ کر انتظامات کا مطالبہ کرچکے ہیں۔   
  اس سلسلے میں  ایجوکیشن آفیسر راجیو تڈوی سے استفسار کرنے پر انھوں نے کہا کہ  آج ہی ہم اسکول کے متعلقہ افسر سے بات چیت کرکے طلبہ کیلئے تما م انتظامات کئے جانے کی ہدایت دیںگے ۔ انھوں نے یقین دلایا کہ جلد ہی طلبہ کیلئے تمام انتظامات کرانے کی کوشش کی جائے گی ۔ 

govandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK