پرانی پنشن اسکیم سمیت ۱۶؍ مطالبات کیلئے ریاست گیر ہڑتال کی گئی، حکومت نے ہڑتال میں شامل ہونے والوں کو کارروائی کا انتباہ دیا
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 12:13 AM IST | Mumbai
پرانی پنشن اسکیم سمیت ۱۶؍ مطالبات کیلئے ریاست گیر ہڑتال کی گئی، حکومت نے ہڑتال میں شامل ہونے والوں کو کارروائی کا انتباہ دیا
سرکاری ملازمین کی مختلف تنظیموں نے اعلان کے مطابق ۲۱؍ اپریل یعنی منگل کے روز ہڑتال شروع کر دی۔ اطلاع کے مطابق اس ہڑتال میں ریاست گیر پیمانے پر ۱۷؍ لاکھ سرکاری ملازمین حصہ لے رہے ہیں۔ حالانکہ ریاست کے کچھ علاقوں میں اس ہڑتال کا اثر دکھائی دیا لیکن بعض مقامات پر ہڑتال پوری طرح کامیاب نہیں رہی۔ اس کی وجہ شاید حکومت کی جانب سے ان ملازمین کو دی گئی وارننگ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو ملازمین ہڑتال میں شریک ہوں گے ان پر کارروائی کی جائے گی۔ حکومت نے ’کام نہیںتو تنخواہ‘ نہیں کا اعلان کیا ہے یعنی جو لوگ ہڑتال کے سبب کام پر نہیں آئیں گے ان کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔
یاد رہے کہ سرکار ی ملازمین کی تنظیموں نے متعدد مرتبہ حکومت کو انتباہ دیا تھا کہ ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو وہ ۲۱؍ اپریل سے ہڑتال پر چلے جائیںگے لیکن حکومت نے ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی لہٰذامنگل کو ان ملازمین نے ہڑتال شروع کر دی۔ ہرچند کہ ممبئی اور اطراف میں اس کا اثر کافی کم دکھائی دیا لیکن دیگر اضلاع میں کئی مقامات پر احتجاج کیا گیا اور کام بند کیا گیا۔ یاد رہے کہ سرکاری ملازمین نے حکومت کو پہلے ہی اپنے ۱۶؍ مطالبات کی فہرست سونپی تھی جس میں سب سے اہم تھی پرانی پنشن اسکیم کو نافذ کرنا۔ اس کے علاوہ ضلع پریشد کے محکموں میں خالی پڑی اسامیوں کر پُر کرنا، سرکاری محکموں کی نجکاری بند کرنا، پی اے آر ڈی ایف قانون کو منسوخ کرنا ، جو ملازمین برسوں سے کانٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں انہیں مستقل ملازم کا درجہ دینا وغیرہ بھی ان مطالبات میں شامل ہیں۔
دھولیہ میں کلیان بھون کے قریب سرکاری ملازمین نے دھرنا دیا۔ جبکہ ۲۳؍ اپریل کو ایک ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سابق رکن اسمبلی سدھیر تانبے نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے احتجاج میں شامل ملازمین سے ملاقات بھی کی۔ ان ملازمین نے ضلع کلکٹر کے دفتر میں ایک میمورنڈم بھی پیش کیاجس میں وہ مطالبات درج تھے جو پہلے ہی حکومت کو دیئے جا چکے ہیں۔ اسی طرح کے پونے کے کچھ علاقوں میں اور شولاپور کے بعض مقامات پر احتجاج کی خبر موصول ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ اس ہڑتال میں طبی ملازمین بھی شامل ہیں۔ اس کی وجہ سے عوام کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ منگل کو ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ اس دورانمہاراشٹر اسٹیٹ شکشک سیناکے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی پروفیسر جے ایم ابھینکر نے انقلاب کو بتایاکہ نامعلوم وجوہات کی بناپر متعدد محکوںکے عملے نے ۲۱؍ اپریل سے ہونےوالے ہڑتال میں حصہ نہیں لیا لیکن ریاست گیرسطح پر ہونےوالی اس ہڑتال کو ہماری پوری حمایت ہے ۔ ہمارے سبھی اراکین نے بندمیں حصہ لیاجو تمام سرکاری ملازمین کے حق میں ہے۔‘‘
اطلاع کےمطابق متعدد ڈپارٹمنٹ کے عملے نے ہڑتال سے خود کو علاحدہ رکھاہے جس کی وجہ سے ہڑتال پوری طرح سے کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔