Updated: April 21, 2026, 10:02 PM IST
| Chennai
وزیراعظم نریندر مودی کی تمل ناڈو میں حالیہ انتخابی ریلیوں کے ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر دیا ہے، جہاں صارفین نے ان کی ظاہری تبدیلی کو ’’مودی جی کے ۵۰؍ شیڈز‘‘ (۵۰؍ شیڈز آف مودی) قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ اگرچہ کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آیا، مگر ناقدین اسے امیج مینجمنٹ اور سیاست کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جس نے شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کی ایک حالیہ انتخابی مہم ایک غیر متوقع تنازع کی زد میں آ گئی ہے، جہاں تمل ناڈو میں ان کی مختلف ریلیوں کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ ان ویڈیوز میں وزیر اعظم کی ظاہری شکل میں فرق کو بنیاد بنا کر صارفین نے طنزیہ انداز میں اسے ’’مودی جی کے ۵۰؍ شیڈز‘‘ کا نام دیا، جو اب ایک وائرل سیاسی بیانیہ بن چکا ہے۔ مبینہ طور پر ان ویڈیوز میں مودی جی کے چہرے کی رنگت ’’ڈارک ٹون‘‘ رکھی گئی ہے۔ اگرچہ اس دعوے کی کوئی باضابطہ یا مستند تصدیق موجود نہیں، مگر سوشل میڈیا پر اٹھنے والے سوالات نے معاملے کو صرف مزاح تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سیاسی شفافیت، امیج کنٹرول اور عوامی اعتماد کے بڑے مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ایک قومی لیڈر کی ظاہری پیشکش میں بار بار فرق نظر آئے اور اس پر کوئی وضاحت نہ دی جائے، تو یہ صرف ’’کیمرہ ایفیکٹ‘‘ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو کے باشندوں کی رنگت سے ’’میل کھانے‘‘ کیلئے مودی جی کا میک اَپ ڈارک ٹون کیا گیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق جدید انتخابی مہمات میں لائٹنگ، فلٹرز اور ویژول پروڈکشن کا استعمال عام ہے، مگر یہاں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ حد سے زیادہ کنٹرول شدہ امیج سازی تو نہیں بن گئی۔ ان کے مطابق جب ’’مناظر‘‘ حقیقت پر غالب آ جائیں، تو جمہوری بیانیہ کمزور ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر سخت تنقید
سوشل میڈیا پر صارفین نے غیر معمولی شدت کے ساتھ ردعمل ظاہر کیا، جس میں کئی تبصرے براہِ راست حکومت کی ساکھ پر سوال اٹھاتے نظر آئے۔
ریا شرما نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’’ہر ریلی میں الگ لُک؟ یہ شفافیت نہیں، انتخابی بیانیے پر اپنی بالادستی کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ عارف خان نامی صارف نے کہا کہ ’’یہ سیاست نہیں، برانڈ مینجمنٹ ہے ، عوام کو کیا سمجھا گیا ہے؟‘‘ عمران قریشی نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’’وضاحت نہ دینا خود سب سے بڑا سوال ہے۔‘‘
سنجنا نائر نامی ایکس صارف نے کہا کہ ’’یہ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کا سستا طریقہ لگتا ہے۔‘‘ ارجن دتہ نامی صارف نے لکھا کہ ’’یہ سیاست کم، پی آر شو زیادہ لگ رہا ہے۔‘‘ روہت ورما نامی صارف نے کہا کہ ’’شو بازی کی سیاست نے اصل مسائل کو دفن کر دیا ہے۔‘‘ نادیہ شیخ نامی انسٹاگرام صارف کا کہنا تھا کہ ’’یہ narrative control کی واضح مثال ہے۔‘‘
آکاش مہتا نامی صارف نے تبصرہ کیا کہ ’’پی آر ٹیم نے حقیقت کو ڈھانپنے کی پوری کوشش کی ہے۔‘‘ دوسری جانب سونل گپتا نے لکھا کہ ’’یہ سنجیدہ سیاست کو تماشہ بنا رہا ہے۔‘‘ پریہ ریڈی صارف نے کہا کہ ’’یہ مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک حکمت عملی سے زیادہ اور کچھ نپیں لگتا۔ یوسف خان نامی ایکس صارف نے کہا کہ ’’یہ لیڈر شپ کا نہیں، پیکجنگ کا مسئلہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: خواتین ریزرویشن بل کے تعلق سے یوپی میں بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے درمیان سیاسی محاذ آرائی
نمایاں شخصیات کا ردعمل
کئی معروف تجزیہ کاروں اور شخصیات نے بھی اس معاملے کو صرف افواہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی مسئلہ قرار دیا:
یوگیندر یادو نے کہا کہ ’’یہ معاملہ صرف ظاہری تبدیلی کا نہیں بلکہ سیاست میں بڑھتی ہوئی مصنوعیت کا عکاس ہے۔‘‘
راج دیپ سردیسائی کا موقف تھا کہ ’’ جب نظریات حقیقت پر حاوی ہو جائیں تو جمہوری مکالمہ متاثر ہونے لگتا ہے۔‘‘
سواتی چترویدی نے کہا کہ ’’وضاحت نہ دینا شکوک کو مزید مضبوط کرتا ہے۔‘‘
کنہیا کمار نے کہا کہ ’’یہ عوام کے ساتھ ایمانداری کے سوال کو جنم دیتا ہے۔‘‘
پرنئے کا تبصرہ تھا کہ ’’یہ optics-driven politics کی خطرناک حد ہے۔‘‘
اب تک کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہ آنے سے یہ تنازع مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اگرچہ ماہرین اسے لائٹنگ اور ویڈیو ایفیکٹس کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، مگر سوشل میڈیا پر اٹھنے والے سوالات اس سے کہیں آگے جا چکے ہیں۔ یہ معاملہ اس بات کی واضح مثال بن چکا ہے کہ جدید سیاست میں امیج مینجمنٹ کس حد تک مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اور جب یہی امیج عوامی اعتماد پر غالب آ جائے، تو سوالات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔