اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان بین الاقوامی قانون کے تحت ’’اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہا ہے‘‘،جس کے نتائج کا سامنا اسےکرنا پڑ سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: April 21, 2026, 10:02 PM IST | New York
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان بین الاقوامی قانون کے تحت ’’اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہا ہے‘‘،جس کے نتائج کا سامنا اسےکرنا پڑ سکتا ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے ایک انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ہندوستان بین الاقوامی قانون کے تحت ’’اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ‘‘کر رہا ہے اور خبردار کیا کہ اسے نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ انہوں نے’’ دی ہندو ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں یہ بات کہی کہ اسرائیل اور اس کی جنگ کے ساتھ وابستگی میں ہندوستان کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کیا ہے؟اس پر ان کا کہنا تھاکہ ،’’قانونی ذمہ داریاں واضح ہیں۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے اس قبضے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ کسی ایسی ریاست کے ساتھ تجارت نہ کریں، ہتھیاروں کی منتقلی نہ کریں، اور نہ ہی اس سے ہتھیار خریدیں جس پر غیر قانونی قبضہ برقرار رکھنے کا الزام ہو۔‘‘ انہوں نے تبصرہ کیا کہ یہ ذمہ داری خاص طور پر اس نسل کشی کے تناظر میں زیادہ اہم ہے جس کے لیے اسرائیل بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنےجوابدہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہنگری کے نو منتخب وزیرِاعظم کا سخت مؤقف، نیتن یاہو کے دورے پر گرفتاری کا عندیہ
البانیز نے مزید کہا کہ’’ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں۔اس لیے ہندوستان بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور شاید اسےنتائج کا سامنا بھی کرنا پڑے۔‘‘انہوں نے وضاحت کی کہا کہ، اسرائیل کو ایسی مدد فراہم کرنے والی ریاستیں جو فلسطینیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، قانونی جانچ کا سامنا کر سکتی ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے۶۱؍ویں اجلاس میں پیش کردہ اپنی رپورٹ ’’تشدد اور نسل کشی‘‘ کے مطابق، فرانسسکا البانیز کا کہنا ہے کہ تیسری ریاستیں ہتھیاروں اور دیگر اقسام کی مدد فراہم کرکے اسرائیل کے تشدد کو ممکن بناتی ہیں۔جبکہہندوستان پر الزام ہے کہ اس نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل کو راکٹ، دھماکہ خیز مواد، راکٹ موٹرز اور دیگر فوجی پرزے برآمد کیے۔
ذہن نشین رہے کہ جون۲۰۲۴ء میں الجزیرہ سمیت متعدد رپورٹس نے اشارہ دیا تھاکہ ہندوستانی کمپنیاں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران یہ برآمدات جاری رکھے ہوئے تھیں۔خاص طور پر، ہندوستان کی سپریم کورٹ نے غزہ کی ناکہ بندی کے دوران ان برآمدات کو روکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔علاوہ ازیں وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں، البانیز نے کہا، ’’دونوں برطانوی استعمار سے ابھرے ہیں، مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس وقت ہندوستان اور اسرائیل اس بین الاقوامی نظام کے زوال میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جسے ہمارے اسلاف نے انتہائی مشقت سے تعمیر کیا تھا۔‘‘انہوں نے اخلاقی پہلو کو مزید واضح کرتے ہوئے کہاکہ ’’قانونی ذمہ داری کے ساتھ اتنی ہی سنگین چیز اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، خاص طور پر ہندوستان جیسے ملک کے لیے۔‘‘ساتھ ہی انہوںنے اسرائیل سے موجودہ وابستگی کو ہندوستان کی روایتی فلسطین حامی پالیسی سے غداری قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ، ’’ ہندوستان کے لیڈر دوسری طرف جا چکے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لبنان میں اسرائیل کی غیرقانونی اور ظالمانہ سرگرمیاں
واضح رہے کہ البانیز کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اکتوبر۲۰۲۳ء سے، اسرائیل نے حراستی مراکز اور پورے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف منظم تشدد کا استعمال کیا ہے، اور اس علاقے کو ایک وسیع تشدد کا کیمپ قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں اسرائیل کے منظم جرائم کی بھی ذکر کیا، جس میں غیر قانونی گرفتاری، اذیت، جبری گمشدگی، خوف کا ماحول پیدا کرنا شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر، صحافی، کارکنان، اور انسانی حقوق کے محافظ خاص طور پر نشانہ بنائے گئے۔رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ تشدد کا پیمانہ اور نوعیت، بشمول باقاعدہ حراست سے باہر کے اقدامات، نسل کشی کی تعریف پر پورے اترتے ہیں اور نسل پرستی (اپارتھائیڈ) اور آبادکار استعمار کے وسیع تر نظام سے منسلک ہیں۔