Updated: April 21, 2026, 10:02 PM IST
| Washington
یو ایس کیپٹل پولیس نے امریکہ میں کینن ہاؤس آفس بلڈنگ کے اندر ایران جنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے سابق فوجیوں کو گرفتار کر لیا۔ مظاہرین نے ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے جنگ کو ’’غیر مقبول‘‘ اور ’’ناقابل برداشت‘‘ قرار دیا، جبکہ بعض فوجیوں نے ضمیر کی بنیاد پر جنگ میں شرکت سے انکار کا عندیہ بھی دیا۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے خلاف ایک غیر معمولی احتجاج دیکھنے میں آیا، جہاں درجنوں سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو US Capitol Police نے حراست میں لے لیا۔ یہ مظاہرہ کینن ہاؤس آفس بلڈنگ کے روٹونڈا میں کیا گیا، جہاں تقریباً ۶۰؍ افراد نے جمع ہو کر جنگ کے خلاف آواز بلند کی۔ مظاہرین میں کئی سابق فوجی وردیوں میں ملبوس تھے، جبکہ کچھ بظاہر معذور بھی تھے، جو اس احتجاج کو مزید علامتی بنا رہے تھے۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ایران کے خلاف جنگ کا خاتمہ‘‘ اور ’’ہم ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک علامتی تقریب میں امریکی پرچم اتار کر جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ بعض افراد ایرانی شہریوں کی یاد میں سرخ ٹیولپ کے پھول اٹھائے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’مجھے ان سے ملنے میں کوئی اعتراض نہیں‘ ٹرمپ کی ایرانی لیڈروں سے ملاقات کی پیشکش
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور ۲۸؍ فروری کو ڈونالڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو کے درمیان شروع ہونے والی جنگ نے خطے میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مائیک پریسنر، جو Center on Conscience and War کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، نے گرفتاری سے قبل کہا کہ یہ جنگ پہلے ہی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک سیاسی بحران بن رہی ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ۱۰۰؍ سے زائد فوجی پہلے ہی ’’Conscientious Objectors‘‘ (ضمیر کی بنیاد پر جنگ سے انکار کرنے والے) کے طور پر درخواست دے چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فوج کے اندر بھی اس جنگ کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔
ایک اور سابق فوجی ٹائلر رومیرو نے موجودہ فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور جنگی مشین کا حصہ بننا مستقبل میں مزید تکلیف کا باعث بنے گا۔ مظاہرے کا اہتمام مختلف تنظیموں کے اتحاد نے کیا، جن میں Veterans For Peace، Common Defense، About Face اور دیگر شامل تھے۔Center on Conscience and War کے مطابق تقریباً پانچ درجن مظاہرین کو سول نافرمانی کے تحت گرفتار کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ میں اس جنگ کے خلاف عوامی سطح پر مزاحمت بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اپنے تصورات میں مذاکرات کی ٹیبل کو سرنڈر ٹیبل بنا رہے ہیں: باقر قالیباف
یہ احتجاج نہ صرف جنگی پالیسیوں پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ خود امریکی فوجیوں اور سابق اہلکاروں کے اندر اس تنازع پر شدید تحفظات موجود ہیں، جو آنے والے دنوں میں سیاسی اور سماجی دباؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔