لکھنؤ سے مرادآباد تک کسان سڑکوں پر اُترے،ادیشہ میں کسانوں کی ایک تحریک میں شامل ہونے سے روکنے کیلئے راکیش ٹکیت کو پولیس نے حراست میں لیا تھا
EPAPER
Updated: March 31, 2026, 11:16 PM IST | New Delhi
لکھنؤ سے مرادآباد تک کسان سڑکوں پر اُترے،ادیشہ میں کسانوں کی ایک تحریک میں شامل ہونے سے روکنے کیلئے راکیش ٹکیت کو پولیس نے حراست میں لیا تھا
کسان لیڈر راکیش ٹکیت کو حراست میں لئے جانے کی خبر آتے ہی لکھنؤ سے مرادآباد تک کسان سڑکوں پر اُتر آئے اور حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا۔بعد ازاں حکومت نے کسانوں کے احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور دیر رات کسان لیڈر کی رہائی عمل میں آئی۔ راکیش ٹکیت کی یہ گرفتاری ادیشہ میں ہوئی تھی جہاں وہ پیر کو کسانوں کی ایک تحریک میں شامل ہونے پہنچے تھے۔
ذرائع کے مطابق جیسے ہی راکیش ٹکیت کی گرفتاری کی خبریں کسانوں تک پہنچیں، بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے کارکنوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور وہ ریاست کے کئی حصوں میں سڑکوں پر اُتر آئے۔ ریاست کی راجدھانی لکھنؤ میں کسانوں نے اس گرفتاری کے خلاف حضرت گنج تھانے کا گھیراؤ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ راکیش ٹکیت کی گرفتاری کی وجہ سے پوری ریاست میں غصے کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ ٹکیت کی گرفتاری کی خبر کی تصدیق ہوتے ہی، کسان گھروں سے نکلنے لگے۔ لکھنؤ کے حضرت گنج پولیس اسٹیشن پر بڑی تعداد میں کسان جمع ہونے لگے اور زبردست احتجاج کیا۔ اس دوران تھانے کے اطراف ٹریفک جام لگ گیا جس کی وجہ سے لوگ کافی دیر تک پھنسے رہے۔ کسانوں نےحضرت گنج پولیس اسٹیشن کے باہر حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور راکیش ٹکیت کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ اس دھرنا اور مظاہرے کو دیکھتے ہوئے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔
راکیش ٹکیت کی گرفتاری کا اثر مغربی اتر پردیش کے مراد آباد میں بھی محسوس کیا گیا۔ ناراض کسانوں نے مراد آباد کے مختلف پولیس اسٹیشنوں کے باہر مظاہرہ کیا اور ٹکیت کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ پیر کی شام میں بڑی تعداد میں کسان مرادآباد میں جمع ہونا شروع ہوگئے اور وہیں سڑک پر بیٹھنے لگے۔
وہاں سڑک پر مظاہرہ کرنے والےکسانوں کا کہنا تھا کہ راکیش ٹکیت کسانوں کے مسائل کے سلسلے میں ادیشہ میں جاری احتجاج کو مضبوط کرنے جا رہے تھے لیکن وہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ احتجاج کرنے والے کسانوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا احتجاج اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ٹکیت کو باعزت رہا نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ راکیش ٹکیت کی گرفتاری بالکل غلط ہے، یہ کسانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے، اسلئے جب تک انہیں رہا نہیں کیاجائے گا، یہ احتجاج جاری رہے گا اور ہم یہیں سڑک پر بیٹھے رہیں گے۔
اسی طرح میرٹھ اور بجنور میں بھی بی کے یو کے کارکنوں نے جیل بھرو اور تھانہ گھیراؤ کا اعلان کیا ۔ موانا میں کسانوں نے سی او آفس کا گھیراؤ کیا اور جم کر نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ٹکیت کو رہا نہیں کیا جاتا وہ یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ کسان لیڈر کی گرفتاری کے سبب شروع ہوئے دھرنے اور مظاہروں کے درمیان اترپردیش کی سیاست میں ایک بار پھر گھمسان مچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا نے لگا تھا۔ انہیں اندیشوں کے پیش نظر دیر رات حکومت انہیں رہا کرنے پر مجبور ہوگئی۔
بجنورمیںاحتجاج کی قیادت کرنےوالے کسان لیڈر امر پال چودھری نے کہا کہ وہ تب تک گھر نہیں لوٹیں گے جب تک کہ ٹکیت کو رہا نہیں کیا جاتا۔ یہ احتجاج شام ۶؍ بجے کے قریب شروع ہوا اور رات ۱۱؍ بجے تک جاری رہا۔رات ۱۱؍ بجے راکیش ٹکیت کی رہائی کی خبر ملنے کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا۔ احتجاج ختم ہونے کے بعد مظاہرین نے وہیں دھرنے کے مقام پر کھانا کھایا اور پھر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
خیال رہے کہ بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت کو پیر کے دن ادیشہ کی راجدھانی بھونیشور میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت کسانوں کی تحریک میں شامل ہونے اور انہیں حمایت دینے کیلئے وہاں گئے تھے، لیکن مظاہرہ گاہ کی طرف جاتے وقت ہی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ اس گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی بھارتیہ کسان یونین اور دیگر کسان تنظیموں کے کارکنان میں ناراضگی اور غصے کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مختلف مسائل کے حوالے سے بھونیشور میں کسانوں کی تحریک۲۲؍ مارچ ہی سے جاری ہے۔اسی سلسلے میں سنیوکت کسان مورچہ کی اپیل پر پیر کو بڑی تعداد میں کسان اس تحریک میں شامل ہونے کیلئے جمع ہوئے تھے۔ اسی دوران تحریک میں حمایت کیلئے جا رہے بی کے یو ترجمان راکیش ٹکیت کو پولیس نے روک لیا اور گرفتار کر لیا۔