Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت نے سونے اور چاندی کی درآمد پر ڈیوٹی بڑھا کر ۱۵؍ فیصد کی

Updated: May 13, 2026, 3:05 PM IST | New Delhi

حکومت ہند نے سونے اور چاندی کی درآمد پر عائد کسٹم ڈیوٹی ۶؍ فیصد سے بڑھا کر مجموعی طور پر۱۵؍ فیصد کر دی ہے، تاکہ ملک میں ان قیمتی دھاتوں کی خریداری کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہو۔

Gold Rate.Photo:INN
سونے کی قیمت۔ تصویر:آئی این این

حکومت ہند نے سونے اور چاندی کی درآمد پر عائد کسٹم ڈیوٹی ۶؍ فیصد سے بڑھا کر مجموعی طور پر۱۵؍ فیصد کر دی ہے، تاکہ ملک میں ان قیمتی دھاتوں کی خریداری کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہو۔  ذرائع کے مطابق سونے اور چاندی پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی ۱۰؍ فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ اس کے علاوہ ۵؍ فیصد زرعی سیس بھی عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی ڈیوٹی ۱۵؍ فیصد ہو گئی ہے۔ 
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے تیل اور گیس کی درآمد پر حکومت کو زیادہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی لیے حکومت دیگر اشیاء کی درآمد کم کر کے غیر ملکی کرنسی کے استعمال کو محدود کرنا چاہتی ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کریں، غیر ضروری بیرونِ ملک سفر سے بچیں اور حیاتیاتی ایندھن کے استعمال میں بھی کمی کریں۔ حکومت کے دیگر وزراء بھی اس اپیل کو دُہرا چکے ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ کرنے کے بعد سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی تیزی دیکھی جا رہی ہے، اور دونوں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بدھ کو۶۶ء۶؍فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر سونے کا ۵؍ جون ۲۰۲۶ءکا معاہدہ صبح ۰۹ء۶؍فیصد یا  ۹۳۴۸؍ روپے کی مضبوطی کے ساتھ۱۶۲۷۹۰؍روپے پر تھا۔

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’پتی پتنی اور وہ دو‘‘کے ساتھ آیوشمان کھرانہ مزاحیہ سلسلے کو آگے بڑھائیں گے


اسی طرح چاندی میں بھی تیز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ چاندی کا ۵؍ جولائی ۲۰۲۶ء کا معاہدہ ۶۶ء۶؍فیصد یا۱۸۵۹۳؍ روپے کے اضافے کے ساتھ ۲۹۷۶۵۵؍ روپے پر تھا۔ سونے اور چاندی میں اس تیزی کی وجہ مرکزی حکومت کی جانب سے قیمتی دھاتوں پر کسٹم ڈیوٹی یا درآمدی محصول میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ حکومت نے سونے اور چاندی پر درآمدی محصول (سیس سمیت) کو ۶؍ فیصد سے بڑھا کر ۱۵؍ فیصد کر دیا ہے جبکہ پلاٹینم پر درآمدی محصول کو ۴ء۶؍ فیصد سے بڑھا کر ۴ء۱۵؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پلےآف کی جنگ: کیا آر سی بی اپنی برتری برقرار رکھ پائے گی یا کے کے آر کا جادو چلے گا؟


سرکاری ذرائع نے بتایا کہ قیمتی دھاتوں پر درآمدی محصول میں اضافہ غیر ملکی زرمبادلہ کے تحفظ، کرنٹ اکاؤنٹ کی سلامتی، ضروری درآمدات کو ترجیح دینے اور عالمی غیر یقینی حالات میں ہندوستان کی اقتصادی مضبوطی بڑھانے کی ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قدم غیر معمولی بیرونی حالات کے مقابلے میں ایک متوازن، مناسب اور قومی سطح پر ذمہ دارانہ ردِعمل ہے، جس میں مجموعی معاشی استحکام اور طویل المدتی اقتصادی مضبوطی کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK