Updated: June 11, 2026, 6:04 PM IST
| New Delhi
مرکزی حکومت نے پیٹرول میں ایتھنول کی زیادہ مقدار کی حوصلہ افزائی کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ۲۲؍ سے ۳۰؍ فیصد ایتھنول ملے پیٹرول پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ میں توسیع کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ہندوستان کے صاف توانائی پروگرام اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اگرچہ نئے ایندھن کے یہ مرکبات ابھی تجارتی طور پر دستیاب نہیں ہیں، تاہم حکومت مستقبل میں ان کے استعمال کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
گزشتہ دن مرکزی حکومت نے ایک اہم فیصلے کے تحت ۲۲؍ فیصد سے ۳۰؍ فیصد تک ایتھنول ملا پیٹرول پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ میں توسیع کر دی ہے، جسے ملک کی صاف توانائی اور متبادل ایندھن کی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے حکومت نے زیادہ ایتھنول ملاوٹ والے پیٹرول کے استعمال کی حوصلہ افزائی کا اشارہ دیا ہے۔ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) پہلے ہی مئی میں ایسے ایندھن کے لیے نئے معیارات جاری کر چکا ہے جن میں حجم کے لحاظ سے ۲۲، ۲۵، ۲۷؍ ا ۳۰؍ فیصد ایتھنول شامل ہوگا۔ تاہم یہ ایندھن ابھی تجارتی سطح پر مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں غیر قانونی شراب کے خلاف خصوصی مہم ، ۱۴۲؍ افراد گرفتار
فی الحال حکومت کے ایتھنول بلینڈنگ پروگرام کے تحت E20 پیٹرول نافذ ہے، جس میں ۲۰؍ فیصد ایتھنول شامل کیا جاتا ہے۔ ہندوستان نے جولائی ۲۰۲۵ء میں مقررہ ہدف سے پانچ سال پہلے ہی E20 ملاوٹ کا قومی ہدف حاصل کر لیا تھا، جسے توانائی کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ایتھنول ملے پیٹرول کے استعمال سے خام تیل کی درآمدات میں کمی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور گنے کے کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ ایتھنول بنیادی طور پر گنے اور زرعی پیداوار سے تیار کیا جاتا ہے، جس سے دیہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم اس پیٹرول کے استعمال پر کچھ خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ متعدد صارفین نے شکایت کی ہے کہ زیادہ ایتھنول ملاوٹ سے گاڑیوں کے انجن پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور ایندھن کی اوسط یا مائلیج میں کمی آ سکتی ہے۔
اکتوبر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جس میں سرکاری اور صنعتی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا تھا، میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ ۱۵؍ برسوں کے دوران ہندوستان میں فروخت ہونے والی نئی پیٹرول گاڑیوں میں سے صرف تقریباً ۲۰؍ فیصد گاڑیاں مکمل طور پر E20 ایندھن کے لیے موزوں تھیں۔ اس کے باوجود حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ایتھنول ملے ایندھن گاڑیوں کے لیے محفوظ ہے۔ مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری نے ۱۱؍ دسمبر کو پارلیمنٹ میں بتایا تھا کہ حکومت نے پرانی گاڑیوں پر بھی E20 ایندھن کے تجربات کیے اور انجن کی خرابی کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (ARAI) کی نگرانی میں مختلف گاڑیوں کو تقریباً ایک لاکھ کلومیٹر تک چلایا گیا، جس کے دوران انجن کی کارکردگی، اسٹارٹنگ، ڈرائیونگ کی صلاحیت اور دھاتی پرزوں کی پائیداری کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: کسانوں کے بہانے فرنویس پرنشانہ، ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ
گڈکری کے مطابق تحقیقات میں E20 ایندھن کے باعث گاڑیوں کی کارکردگی یا انجن کے پرزوں پر کسی نمایاں منفی اثر کے شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ’’تحقیقات میں گاڑیوں کی کارکردگی، اسٹارٹ ہونے کی صلاحیت، ڈرائیونگ کے معیار اور دھاتی پرزوں پر E20 ایندھن کا کوئی منفی اثر نہیں پایا گیا۔‘‘ توانائی کے ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے 30 فیصد تک ایتھنول ملا پیٹرول کو ٹیکس مراعات دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ آنے والے برسوں میں E20 سے بھی زیادہ ایتھنول والے ایندھن کو مرحلہ وار متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے گاڑیوں کی ٹیکنالوجی، ایندھن کی فراہمی کے نظام اور صارفین کی آگاہی میں مزید بہتری ضروری ہوگی۔