ڈسپلن کی خلاف ورزی پر انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کے معاملے پر سابق کپتانوں ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن کا ردِعمل سامنے آ گیا۔
EPAPER
Updated: June 11, 2026, 7:03 PM IST | London
ڈسپلن کی خلاف ورزی پر انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کے معاملے پر سابق کپتانوں ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن کا ردِعمل سامنے آ گیا۔
ڈسپلن کی خلاف ورزی پر انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کے معاملے پر سابق کپتانوں ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن کا ردِعمل سامنے آ گیا۔اس حوالے سے ناصر حسین کا کہنا ہے کہ بین اسٹوکس نے انگلینڈ ٹیم کے لیے بہت کچھ کیا ہے، انگلینڈ کے بہترین لمحات میں وہ ٹیم کا حصہ تھے، ون ڈے ورلڈ کپ اور ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کی فتوحات کا حصہ تھے، وہ انگلینڈ ٹیم کے واریئر ہیں لیکن اس مرتبہ ان سے ایک بڑی غلطی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:`’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ کا ٹریلر جاری، اکشے کمار کی قیادت میں ستاروں کی کہکشاں
ناصر حسین کا کہنا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ یہ ایک ایسا جرم ہے کہ ان کو فارغ کر دیا جائے، بین اسٹوکس کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے، عظیم کرکٹرز کے لیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جذباتی پن میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیں، مجھے افسوس ہو گا اگر ہم آخری مرتبہ بین اسٹوکس کو ایکشن میں دیکھ چکے ہیں۔دوسری جانب مائیکل ایتھرٹن نے کہا ہے کہ یہ اس لیے اسٹوری بنی کیوں کہ ایشیز کے بعد انگلینڈ ٹیم کا ایک بیانیہ بن چکا ہے، فتح کے بعد رات گئے تک باہر رہنا فارغ کرنے یا استعفیٰ لینے والا جرم نہیں، وہ ۴؍ برس سے انگلینڈ ٹیم کے کپتان ہیں، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:پُرسکون اور بے فکری سے رہنا بہتر ہے: انفانٹینو
انہوں نے کہا کہ بین اسٹوکس نے کوئی فیصلہ کرنا ہے لیکن اس کا ہمیں نہیں پتہ کہ وہ کیا کریں گے، مستقبل میں جب کوئی پوچھے گا کہ بین اسٹوکس کیوں ریٹائرڈ ہوئے تو کیا کہا جائے گا؟
مائیکل ایتھرٹن کا کہنا ہے کہ یہ سن کر افسوس ہو گا کہ کرفیو کا قانون خود بنا کر توڑنے کی وجہ سے بین اسٹوکس ریٹائرڈ ہوئے۔واضح رہے کہ انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور گس اٹکنسن کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ کیا گیا ہے۔