• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت نے ڈیزل اور طیارہ ایندھن کی برآمد پر محصول کم کردیا، نئی شرح یکم اکتوبر سے نافذ

Updated: October 01, 2026, 6:05 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت نے ڈیزل اور طیارہ ایندھن یعنی ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی برآمد پر عائد محصول میں ایک بار پھر کمی کردی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرحیں یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء سے نافذ ہوگئی ہیں اور آئندہ پندرہ دن کے لیے قابلِ اطلاق رہیں گی۔

ATF.Photo:INN
اے ٹی ایف۔ تصویر:آئی این این

مرکزی حکومت نے ڈیزل اور طیارہ ایندھن یعنی  ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف)  کی برآمد پر عائد محصول میں ایک بار پھر کمی کردی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرحیں  یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء  سے نافذ ہوگئی ہیں اور آئندہ پندرہ دن کے لیے قابلِ اطلاق رہیں گی۔ یہ مسلسل دوسری پندرہ روزہ مدت ہے جب حکومت نے ڈیزل اور اے ٹی ایف کی برآمد پر عائد محصول کم کیا ہے۔
نئی شرح کے تحت ڈیزل کی برآمد پر عائد محصول کو  ۲۰ ؍روپے فی لیٹر سے کم کرکے ۱۶؍ روپے فی لیٹر کردیا گیا ہے، یعنی اس میں  ۴؍ روپے فی لیٹر  کی کمی کی گئی ہے۔ اسی طرح ایوی ایشن ٹربائن فیول کی برآمد پر محصول  ۱۵ ؍ روپے فی لیٹر سے گھٹا کر ۱۰ء۵؍ روپے فی لیٹر  کردیا گیا ہے، جو  ۴ء۵ ؍روپے فی لیٹر  کی کمی ہے۔حکومت نے پیٹرول کی برآمد پر عائد محصول میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ پیٹرول کی برآمد پر موجودہ محصول  ۰ء۵ روپے فی لیٹر  برقرار رکھا گیا ہے اور یہ شرح بھی اگلے پندرہ دن کے لیے نافذ رہے گی۔
 ڈیزل اور اے ٹی ایف کی برآمد پر محصول میں یہ تازہ کمی ستمبر میں کی گئی کمی کے بعد سامنے آئی ہے۔  ۱۶؍ ستمبر ۲۰۲۶ء  سے ڈیزل پر محصول ۲۵؍ روپے سے گھٹا کر ۲۰ ؍روپے فی لیٹر اور اے ٹی ایف پر ۱۹؍ روپے سے گھٹا کر ۱۵ ؍روپے فی لیٹر کیا گیا تھا۔ اس طرح یکم ستمبر سے اب تک ڈیزل کی برآمد پر محصول مجموعی طور پر ۹ ؍روپے فی لیٹر  اور اے ٹی ایف پر  ۸ء۵ روپے فی لیٹر  کم ہوچکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:راج کمار اورشردھا کپور کی فلم ’’استری ۳‘‘ کی ریلیز کی تاریخ کا انکشاف

حکومت ڈیزل، اے ٹی ایف اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد پر عائد خصوصی محصول کی شرحوں کا باقاعدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔ یہ شرحیں عالمی سطح پر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پندرہ روزہ بنیاد پر تبدیل کی جاتی ہیں۔ حکومت نے مارچ ۲۰۲۶ء میں مغربی ایشیا کے بحران کے پس منظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ملکی دستیابی یقینی بنانے اور برآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے یہ محصولات متعارف کرائے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ تازہ فیصلہ  برآمدی محصولات  سے متعلق ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق ملک کے اندر استعمال کے لیے کلیئر کیے جانے والے پیٹرول اور ڈیزل پر موجودہ ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے صرف اس فیصلے کی بنیاد پر گھریلو مارکیٹ میں پیٹرول یا ڈیزل کی خوردہ قیمت میں براہِ راست تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ویبھو سوریہ ونشی ٹائمز کی ۱۰۰؍ رائزنگ اسٹارس کی فہرست میں شامل

ڈیزل اور اے ٹی ایف کے برآمدی محصول میں کمی سے ہندوستان سے پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والی ریفائنری کمپنیوں پر ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ہندوستانی ریفائنری مصنوعات کی مسابقتی پوزیشن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، اس فیصلے کا اصل تجارتی اثر عالمی خام تیل کی قیمتوں، ریفائننگ مارجن، بین الاقوامی طلب اور آئندہ پندرہ روز میں حکومت کی جانب سے محصول کی شرحوں کے دوبارہ جائزے سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔
حکومت کی جانب سے ڈیزل اور اے ٹی ایف کی برآمد پر محصول میں مسلسل دوسری مرتبہ کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب عالمی توانائی بازار میں سپلائی اور قیمتوں کو لے کر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ نئی شرحیں  ۱۵ ؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء تک  موجودہ ۱۵؍ روزہ مدت میں لاگو رہیں گی، جس کے بعد عالمی قیمتوں اور مارکیٹ کے حالات کی بنیاد پر حکومت اگلا فیصلہ کرسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK