Updated: September 01, 2026, 9:04 PM IST
| New Delhi
مرکزی حکومت نے تہواروں کے سیزن سے قبل چینی کی ذخیرہ اندوزی روکنے اور بازار میں مناسب سپلائی برقرار رکھنے کے لیے تاجروں کے لیے چینی ذخیرہ کرنے کی حد ۴؍ہزارکوئنٹل سے کم کر کے ۲؍ہزار کوئنٹل کر دی ہے۔ یہ نئی حد ۱۵؍ ستمبر سے ۳۰؍ نومبر ۲۰۲۶ء تک نافذ رہے گی۔
مرکزی حکومت نے تہواروں کے سیزن سے قبل چینی کی ذخیرہ اندوزی روکنے اور بازار میں مناسب سپلائی برقرار رکھنے کے لیے تاجروں کے لیے چینی ذخیرہ کرنے کی حد ۴؍ہزارکوئنٹل سے کم کر کے ۲؍ہزار کوئنٹل کر دی ہے۔ یہ نئی حد ۱۵؍ ستمبر سے ۳۰؍ نومبر ۲۰۲۶ء تک نافذ رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے:فیڈرر کے شاندار کریئر کا ایک اور بڑا اعزاز، ہال آف فیم میں شمولیت
وزارتِ صارفین امور، خوراک اور عوامی تقسیم کے مطابق ۱۵؍ ستمبر سے کوئی بھی چینی کا تاجر: ایک وقت میں ۲۰۰۰؍کوئنٹل سے زیادہ چینی ذخیرے میں نہیں رکھ سکے گا۔ چینی موصول ہونے کی تاریخ سے ۳۰؍ دن سے زیادہ تک ذخیرہ نہیں رکھ سکے گا۔ اس سے قبل یکم اگست ۲۰۲۶ءسے ملک بھر میں تاجروں کے لیے ذخیرہ کرنے کی حد ۴؍ہزار کوئنٹل مقرر تھی۔
حکومت نے کولکاتا اور اس کے آس پاس کے میٹروپولیٹن علاقوں کے لیے موجودہ۴؍ہزار کوئنٹل کی حد برقرار رکھی ہے۔ وزارت کے مطابق کولکاتا، اتر پردیش اور مہاراشٹر سے چینی منگوا کر مشرقی ہندوستان اور شمال مشرقی ریاستوں تک سپلائی پہنچانے کا اہم مرکز ہے، اس لیے وہاں زیادہ ذخیرہ رکھنے کی اجازت برقرار رکھی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد: ذخیرہ اندوزی پر قابو پانا، سٹے بازی پر مبنی تجارت کی حوصلہ شکنی کرنا، سپلائی چین میں چینی کی روانی برقرار رکھنا اور صارفین کو مناسب قیمت پر مسلسل چینی کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔ وزارت کے مطابق حکومت نے ملک بھر میں شوگر ملوں، ڈیلروں اور تاجروں کے پاس موجود چینی کے ذخیرے کی سخت نگرانی اور فزیکل ویریفکیشن کی ہے۔ اس نگرانی کے دوران: ضرورت سے زیادہ ذخیرہ کرنے، اسٹاک کی معلومات چھپانے اور چینی کی نقل و حرکت اور فروخت میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:’’اونجرز: ڈومزڈے ‘‘ کی ری شوٹنگ نے کیمیوز کی قیاس آرائیاں بڑھا دیں
حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات اور بہتر سپلائی کی وجہ سے شوگر ملوں سے نکلنے والی چینی (ایکس مل) کی قیمتوں میں تقریباً ۲۰؍ فیصد کمی آئی ہے، جبکہ خوردہ قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں بھی ملک بھر میں شوگر ملوں، ڈیلروں اور تاجروں کے پاس موجود چینی کے ذخیرے کی فزیکل ویریفکیشن اور نگرانی مسلسل جاری رکھی جائے گی تاکہ تہواروں کے دوران مصنوعی قلت اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکا جا سکے۔