Updated: September 01, 2026, 10:02 PM IST
| Washington
امریکہ نے اپنی خلائی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت جدید ٹریولنگ ویو ٹیوب ایمپلی فائرز (ٹی ڈبلیو ٹی اے) کی ملکی پیداوار بڑھانے کے لیے ۴ء۱۱؍ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ ایمپلی فائرز فوجی، تجارتی اور قومی سلامتی سے متعلق سیٹیلائٹ مواصلاتی نظام میں استعمال ہونے والے اہم اجزا ہیں۔
سیٹیلائٹ تصویر:آٓئی این این
امریکہ نے اپنی خلائی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت جدید ٹریولنگ ویو ٹیوب ایمپلی فائرز (ٹی ڈبلیو ٹی اے) کی ملکی پیداوار بڑھانے کے لیے ۴ء۱۱؍ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ ایمپلی فائرز فوجی، تجارتی اور قومی سلامتی سے متعلق سیٹیلائٹ مواصلاتی نظام میں استعمال ہونے والے اہم اجزا ہیں۔ دفاعی پیداوار ایکٹ (ڈی پی اے) کے ٹائٹل III کے تحت یہ سرمایہ کاری کیلیفورنیا کے ٹورنس میں واقع اسٹیلنٹ سسٹمز کی تنصیب کے لیے منظور کی گئی ہے۔ اس رقم سے اگلی نسل کے خلائی ایمپلی فائر کی آزمائشی پیداوار میں مدد ملے گی، جو ۷۱؍ سے۷۶؍ گیگا ہرٹز کے ڈاؤن لنک بینڈ میں کام کرے گا، جبکہ متعلقہ پاور کنڈیشننگ ٹیکنالوجی کو بھی جدید بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:پاکستان کے مصباح الحق نے سلیکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
اس منصوبے کا مقصد پیداواری صلاحیت میں اضافہ، مینوفیکچرنگ کی کارکردگی بہتر بنانا اور امریکی سیٹلائٹ پروگراموں کو درپیش لاگت، شیڈول اور کارکردگی سے متعلق خطرات کو کم کرنا ہے۔ صنعتی بنیاد پالیسی کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری آف وار مائیکل کیڈنازی نے کہا’’یہ مینوفیکچرنگ صلاحیت دفاعی اور تجارتی شعبوں کی موجودہ اور مستقبل کی ٹی ڈبلیو ٹی اے ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس سے امریکی حکومت کے سیٹیلائٹ پروگراموں میں شیڈول، لاگت اور کارکردگی سے متعلق خطرات میں نمایاں کمی آئے گی۔
منظور شدہ رقم کے تحت اسٹیلنٹ ۷۱؍ سے ۷۶؍ گیگا ہرٹز ڈاؤن لنک بینڈ میں کام کرنے والے خلائی ٹی ڈبلیو ٹی اے کی آزمائشی پیداوار اور معیار کی جانچ کرے گا۔ پروگرام کے تحت جدید ڈوئل ڈجیٹل الیکٹرانک پاور کنڈیشنر کی تیاری کو بھی مزید آسان بنایا جائے گا، جس سے اہم خلائی آلات کے لیے ملکی سپلائی چین مزید مضبوط ہوگی۔
ٹی ڈبلیو ٹی اے بہت سے سیٹیلائٹ مواصلاتی نظاموں کے اہم اجزا ہیں۔ یہ ایسے مقامات پر ریڈیو فریکوئنسی سگنلز کو زیادہ طاقت فراہم کرتے ہیں جہاں دیگر ٹیکنالوجیز طاقت، فریکوئنسی اور قابل اعتماد کارکردگی کا یکساں امتزاج فراہم نہیں کر پاتیں۔ اسی لیے ان کی مسلسل دستیابی سرکاری اور تجارتی دونوں طرح کے سیٹیلائٹ مواصلاتی نظام کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری ۱۸؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو جاری کیے گئے انتظامی حکم نامے۱۴۳۶۹؍ امریکی خلائی برتری یقینی بنانا کے تحت امریکی خلائی صنعتی بنیاد کو وسعت دینے کی انتظامیہ کی وسیع تر کوششوں کا بھی حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انشومن جھا اور رگھوبیر یادو کی فلم ’’اوم کا ہری‘‘۱۸؍ ستمبر کو ریلیز ہوگی
۴ء۱۱؍ملین ڈالر کی یہ سرمایہ کاری محکمہ جنگ کی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔ مالی سال ۲۰۲۶ء کے آغاز سے وار فائٹنگ انویسٹمنٹس، ریسورسنگ اینڈ ایگزیکیوشنز (ڈبلیو آئی آر ای) ڈائریکٹوریٹ نے ڈی پی اے ٹائٹل III کے تحت سات سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر ۱ء۱۲۱؍ ملین ڈالر فراہم کیے ہیں، جبکہ مستفید ہونے والے اداروں نے مالی سال ۲۰۲۶ء میں مزید ۱۵؍ ملین ڈالر کی مشترکہ سرمایہ کاری کی ہے۔
ان سرمایہ کاریوں کا مقصد اہم ملکی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، سپلائی چین کو زیادہ لچکدار بنانا اور امریکی فوج اور تجارتی خلائی شعبے کو تزویراتی اہمیت کی حامل ٹیکنالوجیز تک قابل اعتماد رسائی یقینی بنانا ہے۔ اسٹیلنٹ میں تازہ ترین سرمایہ کاری اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ محکمہ جنگ تزویراتی اہمیت کی حامل خلائی ٹیکنالوجیز، بشمول ہائی فریکوئنسی ایمپلی فائرز اور جدید پاور کنڈیشننگ نظام، کو امریکی صنعتی بنیاد کے اندر قابل اعتماد انداز میں بڑے پیمانے پر تیار کرنے پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔