• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوَرا بھاسکر کا وضاحتی بیان: ’’میں نے رانی پدماوتی کو کبھی بزدل نہیں کہا‘‘

Updated: September 02, 2026, 6:01 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ سوَرا بھاسکر نے فلم ’’پدماوت‘‘ کے جَوہر منظر پر اپنے حالیہ بیان کے بعد پیدا ہونے والے تنازع پر وضاحت جاری کردی ہے۔ سوَرا نے کہا ہے کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں ترجمہ کرکے سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا اور انہوں نے کبھی بھی رانی پدماوتی یا جَوہر کرنے والی خواتین کو ’’بزدل‘‘ نہیں کہا۔

Swara Bhaskar.Photo:INN
سورا بھاسکر۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ اداکارہ  سوَرا بھاسکر نے فلم ’’پدماوت‘‘ کے جَوہر منظر پر اپنے حالیہ بیان کے بعد پیدا ہونے والے تنازع پر وضاحت جاری کردی ہے۔ سوَرا نے کہا ہے کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں ترجمہ کرکے  سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا اور انہوں نے کبھی بھی رانی پدماوتی یا جَوہر کرنے والی خواتین کو ’’بزدل‘‘ نہیں کہا۔ 
سوَرا نے ۳۱؍ اگست  کو دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں منعقدہ’’لائف، ویمن، فریڈم ‘‘ پروگرام میں شرکت کی تھی۔ اس دوران انہوں نے ۲۰۱۸ء میں سنجے لیلا بھنسالی کی فلم  ’’پدماوت‘‘ دیکھنے کے بعد لکھے گئے اپنے کھلے خط کا حوالہ دیا اور فلم کے آخری حصے میں دکھائے گئے  جَوہر  کے منظر پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔  ان کے خطاب کی ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد کچھ لوگوں نے یہ الزام لگایا کہ سوَرا نے رانی پدماوتی اور جَوہر کرنے والی خواتین کو ’’کائر‘‘ یا بزدل قرار دیا ہے۔ اس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ 

یہ بھی پڑھئے:کانسرٹس اور فلم فیسٹیول کے باعث سرائیو میں سیاحوں کی ریکارڈ آمد، معیشت کو فائدہ

 سوَرا نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرکے کہا کہ ان کے الفاظ کا مکمل طور پر غلط ترجمہ  کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد رانی پدماوتی یا جَوہر کرنے والی خواتین کو بزدل کہنا نہیں تھا۔  انہوں نے کہا کہ اگر لوگ ان کے خیالات سے اختلاف کرنا چاہتے ہیں تو انہیں تنقید کرنے کا حق ہے، لیکن کم از کم  ان کے اصل بیان کو سمجھ کر  تنقید کی جائے۔
 سوَرا کے مطابق ان کا سوال جَوہر کرنے والی خواتین کی ذاتی بہادری یا بزدلی کے بارے میں نہیں بلکہ  فلم کے ممکنہ سماجی پیغام  کے بارے میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’پدماوت‘‘ کا جَوہر منظر انہیں اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر کسی عورت کے ساتھ جنسی زیادتی ہو تو کیا اس کی زندگی ختم ہوجانی چاہیے، یا اسے زندہ رہنے کا پورا حق حاصل ہے۔ سوَرا نے خاص طور پر اس تصور پر اعتراض کیا کہ عورت کی  جسمانی یا جنسی پاکیزگی کو اس کی زندگی سے زیادہ قیمتی  سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنسی زیادتی سے بچ جانے والی خواتین کو یہ پیغام نہیں ملنا چاہیے کہ زندہ بچ جانا کسی طرح شرم یا ناکامی کی بات ہے۔ 

یہ بھی پڑھئےسادھنا کی زلفوں کا انداز مختلف تھاجو’سادھناکٹ‘کےنام سے پوری دنیا میں مشہور تھا

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سوَرا بھاسکر نے ’’پدماوت‘‘ کے جَوہر منظر پر سوال اٹھایا ہو۔ فلم کی ریلیز کے بعد انہوں نے سنجے لیلا بھنسالی کو ایک  کھلا خط  لکھا تھا، جس میں انہوں نے فلم کے آخری منظر اور خواتین کی جانب سے جَوہر کے فیصلے کی پیشکش پر اعتراض کیا تھا۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا کسی عورت کی عزت کو اس کی زندگی سے جوڑنا درست ہے، خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں جنسی تشدد آج بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ 
 سوَرا کے تازہ بیان کے بعد ’’پدماوت‘‘ میں جَوہر کی عکاسی، تاریخی واقعات کی فلمی پیشکش اور خواتین کے وقار و زندگی کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ناقدین کا ایک حلقہ سوَرا کے مؤقف کو تاریخی تناظر سے متصادم قرار دے رہا ہے، جبکہ ان کے حامی اسے  جنسی تشدد سے بچ جانے والی خواتین کے حقِ زندگی  کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK