Inquilab Logo Happiest Places to Work

اِتھنال پر سوالوں سے حکومت پریشان، دفاع کیلئے ماہرین کو اُتارا

Updated: July 05, 2026, 2:27 PM IST | New Delhi

سوشل میڈیا پر شکایتوں  کا انبار، نالاں  افراد میں  بی جےپی حامی بھی شامل، ’انجینئرس انڈیا لمیٹڈ‘ کی منیجنگ ڈائریکٹر اور کار کمپنیوں  کے ذمہ داران نے ای -۲۰؍ کو محفوظ قرار دیا۔

At a press conference on Saturday, experts and representatives of car manufacturers. Photo: INN
سنیچر کو ماہرین اور گاڑی بنانے والی کمپنیوں کے ذمہ دار پریس کانفرنس میں۔ تصویر: آئی این این

پیٹرول میں  اِ تھنال کی ملاوٹ کے خلاف ملک بھر میں  گاڑی مالکان کی برہمی تیزی سے بڑھ رہی ہے، سوشل میڈیا پر شکایتوں  کے انبار اور بی جےپی حامی افراد کے بھی اس شامل ہوجانے کے بعد ایک طرف جہاں   دفاع کیلئے سنیچر کو ماہرین اور کاربنانے والی کمپنیوں  کے ذمہ داران کو میدان میں  اتارا گیا وہیں  عوامی سطح پر سڑک پر اتر کر احتجاج کی تیاری بھی ہورہی ہے۔ تحسین پونا والا نے اِتھنال آمیز پیٹرول ’ای -۲۰‘ ’’گھوٹالہ‘‘ اور ’’بیٹا بڑھاؤ مہم ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اتوار کو جنتر منتر پر احتجاج کا نعرہ دیا ہے۔ اُدھر کرناٹک کانگریس کے صدر بی کے ہری پرساد نے بھی ’ای -۲۰‘ پر مرکز کو کٹہرے میں  کھڑا کرتے ہوئے حکومت سے اسے فوری طو رپر واپس لینے کی مانگ کی ہے۔ 
پیٹرول میں اِتھنال کی ملاوٹ یا ’’گھوٹالہ‘‘
ہری پرساد نے نریندر مودی سرکار کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ عالمی منڈی میں  خام تیل کی قیمتوں  میں  کمی کا فائدہ صارفین تک پہنچانے کے بجائے حکومت پیٹرول میں  اِتھنال کی ملاوٹ بڑھا دی ہے۔ انہوں  نے کہا کہ’’اگر عوام کم مائلیج اور گاڑیوں  میں  خرابی کے باوجود(پیٹرول کی قیمت کے طور پر) اُتنا ہی یا اس سے زیادہ ادا کررہے ہیں تو یہ سنگین سوال ہے جس کا جواب ملنا چاہئے۔ یہ گھوٹالہ ہے۔ ‘‘انہوں  نے کہا کہ ’’اگر یہ تجرباتی طور پر کیا جارہاہے تو اس میں  شفافیت، سائنسی شواہد اور صارفین کے حقوق کا تحفظ ضرورت ہے۔ بی جےپی حکومت کو جواب دینا چاہئے کہ جب پیٹرول میں  ۲۰؍ فیصد اِتھنال ملایا جارہاہے تو قیمتیں کم کیوں نہیں کی گئیں ؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: پارلے جی بنانے والی کمپنی کاآئی پی او،ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ کی قدر

عوام کیلئے خالص پیٹرول کا متبادل کیوں نہیں 
اس بیچ تحسین پونا والا نے برہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ ’’ہماری صرف ایک ہی مانگ ہے کہ صارفین کو اپنی پسند کے مطابق اختیار دیا جائے کہ وہ خالص پیٹرول، ای -۵، ای-۱۰ اور ای -۲۰؍ میں  سے اپنی مرضی کے مطابق ایندھن بھروائیں۔ ‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں  نے مطالبہ کیا کہ ’’ اس سے متعلق تمام دستاویزات کو بھی عام کیا جانا چاہئے۔ ‘‘انہوں   نے ایک ’ایکس پوسٹ‘ میں  دعویٰ کیاکہ’’نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق پیٹرول میں  اتھنال کی ۲۰؍ فیصد ملاوٹ کیلئے ۲۰۳۰ء کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ ‘‘ اس الزام کی تائید کرتے ہوئے کہ مرکزی وزیر نتن گڈکری کا بیٹا اتھنال کے کاروبار سے وابستہ ہے، پونا والا نے اسے ’’بیٹا بڑھا یوجنا‘‘ کا نام دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں   نے ’’ہماری گاڑی، ہماراحق‘‘ کے نعرہ کے ساتھ ۵؍ جولائی کو جنتر منتر پر دوپہر ۲؍ بجے احتجاج کا اعلان کیااور عوام سے اس میں شرکت کی اپیل کی۔ 
ماہرین نے صفائی دی، پرانی گاڑیوں  کیلئے بھی محفوظ بتایا
اس بیچ سنیچر کو آٹوموبائل صنعت کے ماہرین اور گاڑی ساز کمپنیوں کے ذمہ داران نے ای -۲۰؍پیٹرول کے استعمال پر پائے جانے والے خدشات کو مسترد کیا اور کہا کہ اس ایندھن پر وسیع سائنسی تحقیق کی جا چکی ہے اور یہ ای -۲۰؍پالیسی سے پہلے تیار کی گئی گاڑیوں کیلئے بھی محفوظ ہے۔ انہوں  نے حکومت کے اس موقف کو بھی دہرایا کہ ’’اس سے ہندوستان کو خام تیل کی درآمدات کم کرنے اور کاربن کے اخراج میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ ‘‘ انجینئرس انڈیا لمیٹڈ کی سابق چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ورتیکا شکلا نے کہا کہ ہندوستان کا اتھنال بلینڈنگ پروگرام کئی برسوں کی سائنسی تحقیق اور غوروخوض کا نتیجہ ہے۔ انہوں نےصفائی دی کہ یہ فیصلہ راتوں رات نہیں کیا گیا بلکہ مرحلہ وار، سائنسی بنیادوں پر نافذ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ۱۴-۲۰۱۳ء میں پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش تقریباً۱ء۵؍ فیصد تھی، جو دسمبر۲۰۲۵ء تک ۲۰؍ فیصد کی گئی اور اس طرح  ہندوستان نے اپنا ہدف مقررہ وقت سے ۵؍ سال پہلے حاصل کر لیا۔ 
گاڑیوں  کو نقصان پہنچنے کا ثبوت نہیں : انڈسٹری مالکان
اس موقع پر آٹوموبائل کمپنیوں کے نمائندوں نے کہا کہ لیبارٹری ٹیسٹ اور عملی استعمال کے اعداد و شمار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ای-۲۰؍پیٹرول انجن کو نقصان پہنچاتا ہے یا معمول سے زیادہ گھساؤ پیدا کرتا ہے۔ ٹو یوٹا کرلوسکر موٹر کے نائب صدر وکرم گلاٹی نے اِتھنال کو بہترین ایندھن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہتر کارکردگی کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لاتا ہے۔ ماروتی سوزوکی کے سینئر افسر راہل بھارتی نے دعویٰ کیا کہ ای-۱۰؍ کیلئےتیار کی گئی گاڑیوں کو بھی ای -۲۰؍ پر آزمایا اور کسی قسم کی تشویشناک خرابی سامنے نہیں آئی۔ ان کے مطابق کمپنی نے پہلے ہی انجینئرنگ کے لحاظ سے ایسے حفاظتی معیار اختیار کئے تھے کہ۲۳ء سے پہلے تیار کی گئی گاڑیوں میں بھی گھساؤ، زنگ یا پرزوں کی عمر پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK