کئی کیسوں میں مطلوب انمول کو امریکہ نے ہندوستان کے حوالے کیا تھا تب سے وہ دہلی کی جیل میں ہے۔
EPAPER
Updated: July 05, 2026, 3:01 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
کئی کیسوں میں مطلوب انمول کو امریکہ نے ہندوستان کے حوالے کیا تھا تب سے وہ دہلی کی جیل میں ہے۔
بالی ووڈ اسٹار سلمان خان کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی سازش کے ملزم انمول بشنوئی نے ’مکوکا‘ (مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ) کی خصوصی عدالت میں درخواست دی ہے کہ انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے اور مقدمہ کا سامنا کرنے کیلئے وہ خودسپردگی کرنا چاہتا ہے۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو اس درخواست پر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ انمول گجرات کی جیل میں قید گینگسٹر لارینس بشنوئی کا چھوٹا بھائی ہے اور ہندوستان میں کئی کیسوں میں ملزم ہے جن میں ۱۴؍ اپریل ۲۰۲۴ء کو سلمان خان کی رہائش گاہ گیلکسی اپارٹمنٹ پر فائرنگ اور اسی سال ہونے والے این سی پی کے سینئر لیڈر بابا صدیقی کے قتل کا معاملہ بھی شامل ہے۔ انمول کو گزشتہ برس نومبر میں امریکی حکام نے ہندوستان کے حوالے کیا تھا جس پر ’نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی‘ نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا تھااور اب وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔
انمول کے ساتھ لارینس بھی اس کسی میں مطلوبہ ملزم ہے لیکن حکومت نے اس کے تحفظ کے پیش نظر اسے سابر متی جیل سے باہر نکالنے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لوکل ٹرینو ں میں جرمانہ بڑھاکر۵۰۰؍ روپے کر دیا گیا
سلمان خان کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے کیس میں خود سپردگی کے تعلق سے انمول نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ پہلے سے ایک دیگر کیس میں ’این آئی اے‘ کی تحویل میں ہے اس لئے بذات خود عدالت میں حاضر ہوکر خود سپردگی نہیں کرسکتا اور اس کیس کی تفتیش کیلئے ضروری ہے کہ پولیس اس اسے باقاعدہ گرفتار کرے۔ اس لئے اگر عدالت حکم دے تو اسے سلمان خان فائرنگ کیس میں خود سپردگی کیلئے ممبئی کی عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔
اس نے مزید کہا ہے کہ اس سے استغاثہ کو فائدہ ہی ہوگا کہ اس کیس پر جلد سماعت مکمل ہوسکے گی اس لئے عدالت تہاڑ جیل انتظامیہ کو حکم جاری کرے کہ اسے ممبئی کی عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملے میں مقدمہ پر سماعت شروع ہوچکی ہے اور ۳؍ گواہوں کے بیانات بھی درج کئے جاچکے ہیں۔
یاد رہے کہ بابا صدیقی کو باندرہ (مشرق) میں ان کے دفتر کے باہر ۳؍ افراد نے ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۲۴ء کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔
انمول کی خود سپردگی کی درخواست کا علم ہونے کے بعد مرحوم کی دختر شہزین صدیقی نے سیشن کورٹ سے رجوع ہوکر درخواست کی ہے کہ وہ پولیس کو حکم دے کہ انمول کو تحویل میں لے لیں۔ انہوں نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ دبائو کی وجہ سے پولیس انمول کو اپنی تحویل میں لینے سے گریز کررہی ہے۔ ان کے مطابق انمول کو تحویل میں لےکر پوچھ گچھ کرنے سے ان کے والد کے قتل کی سازش میں ملوث مزید افراد کے نام سامنے آسکتے ہیں۔