• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی اسمبلی میں ’واپس جاؤ‘ کے نعروں میں گورنر کا خطاب

Updated: February 09, 2026, 11:46 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

بجٹ اجلاس کا پہلا دن، اپوزیشن کا سخت احتجاج ، اقتصادی سروے رپورٹ پیش کرنے کے بعد ایوان کی کارروائی ایک دن کیلئے ملتوی

Opposition protests in Uttar Pradesh Assembly during Governor Anandiben Patel`s address
اترپردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے اسمبلی میں زبردست احتجاج کیا

اتر پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا پیر کو آغاز ہوا، جس کے پہلے دن گورنر آنندی بین پٹیل نے اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ گورنر کے خطاب کے دوران اپوزیشن جماعت سماجوادی پارٹی کے اراکین نے مختلف عوامی مسائل پر ایوان کے اندر زبردست احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، جس کے باعث ایوان کا ماحول خاصہ ہنگامہ خیز رہا۔اس دوران ’گو بیک‘ کے نعرے بھی لگے۔ اپوزیشن کے سخت احتجاج کی وجہ سے اسپیکر کو ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
 اسمبلی کی کارروائی صبح  ۱۱؍ بجے شروع ہوئی۔ جیسے ہی اسپیکر ستیش مہانا نے گورنر کو خطاب کیلئے مدعو کیا، سماجوادی  کے سینئر رکن ڈاکٹر سنگرام یادو نے ’ایس آئی آر‘ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھایا۔ گورنر کے خطاب شروع کرتے ہی سماجوادی کے  ایم ایل ایز اسپیکر کے ڈائس کے سامنے ’ویل ‘میں پہنچ گئے اور نعرے لگانے لگے۔ انہوں نے اہلیابائی ہولکر کی مبینہ توہین، منی کرنیکا گھاٹ (بنارس) میں انہدامی کارروائیوں، ریزرویشن مخالف پالیسیوں اور دلت و پسماندہ طبقات کے حقوق جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس دوران ’ اہلیابائی کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی‘ ،’ جھوٹا خطاب نامنظور‘، ’گورنر واپس جاؤ‘ اور ’ریزرویشن مخالف حکومت نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے گونجتے رہے۔ کئی اراکین ہاتھوں میںپلے کارڈز لئے ہوئے تھے جن پر ’سب کیلئے حقوق، سب کیلئے انصاف، پی ڈی اے کی جیت ہوگی،نوجوانوں کو روزگار دو، بے روزگاری ختم کرو اورترقی کے نام پر تباہی، بی جے پی سے کوئی امید نہیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔ ایس پی ایم ایل اے سچن یادو اہلیابائی ہولکر کی تصویر والا کرتا پہن کر ایوان میں پہنچے جبکہ ایم ایل اے اتل پردھان نے اہلیابائی کی بڑی تصویر اٹھا رکھی تھی۔
 شدید نعرے بازی کے باوجود گورنر آنندی بین پٹیل نے تقریباً  ۳۰؍منٹ تک خطاب کیا۔ انہوں نے تین مرتبہ احتجاج کرنے والے اراکین سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس جائیں، مگر نعرے بازی خطاب کے اختتام تک جاری رہی۔ گورنر نے اپنے ۵۵؍ صفحات پر مشتمل خطاب میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں ریاستی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یوپی نے خود کو’باٹل نیک اسٹیٹ(رکاوٹوں میں پھنسی ہوئی ریاست) سے’بریک تھرو اسٹیٹ ‘(ترقی میں نمایاں چھلانگ لگانے والی ریاست) میں تبدیل کر لیا ہے۔ گورنر نے دعویٰ کیا کہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے عزم کے تحت تقریباً ۶؍ کروڑ افراد کو غربت سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے قانون و نظم، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری، روزگار، زرعی اصلاحات اور فلاحی اسکیموں میں حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت  ۲۰۴۷ء تک ترقی یافتہ اتر پردیش کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور۲۰۲۶ء کو انتودیہ، سماجی انصاف اور جامع فلاح کی علامت بنانے کیلئے پُرعزم ہے۔
 دوسری جانب، بجٹ اجلاس سے قبل بھی سماجوادی پارٹی کے اراکین اسمبلی نےچودھری چرن سنگھ کے مجسمہ کے سامنے  عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ پارٹی کے قومی ترجمان اور قانون ساز کونسل کے رکن راجندر چودھری نے الزام لگایا کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور پی ڈی اے برادری کے حقوق کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران، بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے گورنر کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر تقریر روایتی انداز سے ہٹ کر زیادہ حقیقت پسندانہ ہوتی تو بہتر ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے لاکھوں لوگ غربت، بے روزگاری اور عدم تحفظ سے پریشان ہیں، جن پر خطاب میں خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔کانگریس کی قانون ساز پارٹی کی  لیڈر آرادھنا مشرا ’مونا‘ نے بھی گورنر کے خطاب کو سرکار کے ’جھوٹے وعدوں کا پلندہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ۵۵؍ صفحات پر مشتمل خطاب میں کوئی نئی بات نہیں اور قانون و نظم، روزگار اور بدعنوانی سے متعلق دعوے زمینی حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔
 گورنر کے خطاب کے بعد اسمبلی میں اقتصادی سروے رپورٹ پیش کی گئی۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی منگل کی صبح۱۱؍ بجے تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔ وزیر خزانہ سریش کمار کھنہ نے بجٹ اجلاس میں اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی معیشت میں اتر پردیش کا حصہ اب تقریباً ۹؍ فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے جو ۱۷۔۲۰۱۶ء  میں لگ بھگ ۸؍ فیصد تھا۔ موجودہ مالی سال میں اتر پردیش کی فی کس آمدنی کے۱ء۲۰؍ لاکھ روپے ہونے کا امکان ہے۔ 
 اس سے قبل بجٹ اجلاس کے آغاز سے پہلے وزیر اعلیٰ یوگی نے میڈیا سے گفتگو کی اور حکومت کا ایجنڈا پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست کی ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کے مسائل کو ترجیحی بنیاد پر ایوان میں رکھے گی۔ وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن سے تعمیری تعاون کی اپیل بھی کی تھی۔ یہ بجٹ اجلاس۹؍فروری سے۲۰؍ فروری تک چلے گا۔اس تعلق سے اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ اس  نے حکومت کو گھیرنے کی زبردست حکمت عملی تیار کررکھی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK