• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

متھرا میں  انتظامیہ کو ہیڈ ماسٹر جان محمد کو بحال کرنا پڑا

Updated: February 08, 2026, 8:23 AM IST | Mathura

 طلبہ کی ’’ذہن سازی‘‘ اور نماز پڑھنے پر مجبور کرنے کے بی جےپی لیڈر کے الزامات بے بنیاد نکلے، گاؤں  کے لوگوں اور طلبہ کی حمایت رنگ لائی

The entire village came out in support of Headmaster Jan Muhammad.
ہیڈ ماسٹر جان محمد جن کی حمایت میں پورا گاؤں امڈ آیا

متھرا کے نوہ جھیل علاقہ کے سرکاری اسکول  میں  طلبہ کی ذہن سازی، ہند و دھرم کے مقابلے میں اسلام کو بہتر بتانے، اسکول میں  بچوں  سے زبردستی نماز پڑھوانے  اور قومی ترانہ  نہ پڑھنے دینے   کے الزامات  کے بعد معطل کئے گئے  ہیڈماسٹر جان محمدکو انتظامیہ کو بالآخر بحال کرنا پڑا۔ انہیں بغیر انکوائری کے ہی صرف بی جےپی لیڈر درگیش پردھان کی شکایت پر چند گھنٹوں میں   ۳۱؍ جنوری کو معطل کردیاگیاتھا جس  پر نہ صرف گاؤں  کے اکثریتی طبقہ کے افراد  نے بلکہ اساتذہ کی تنظیموں  نے بھی سخت اعتراض کیا تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے  الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ضلع کلکٹر  سے ملاقات کرکےجان محمد کی بحالی کیلئے میمورنڈم دیاتھا جبکہ طلبہ  اور اسکول کے دیگر اساتذہ نے بھی کھل کر جان محمد کی حمایت کی تھی۔ اسکول کے ۸؍ ٹیچروں میں جان محمد واحد مسلمان ہیں جبکہ ۲۳۵؍ طلبہ میں صرف ۸۹؍ مسلمان ہیں۔ 
 جانچ  میں الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے
   جان محمد جو ۲۰۰۷ء سے مذکورہ اسکول میں  تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں کوکوئی وجہ بتاؤنوٹس دیئے بغیر ہی معطل کردیا گیا تھا تاہم معطلی کے بعد جب جانچ ہوئی، اسکول کے دیگر اساتذہ، طلبہ،  انتظامیہ اور طلبہ سے معلومات حاصل کی گئی تو انہوں نے جان محمد کی بے گناہی کی گواہی دی ۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ اسکول کے ۸؍  ٹیچروں میں جان محمد واحد مسلم ٹیچر ہیں جبکہ ۲۳۵؍ طلبہ میں صرف ۸۹؍ مسلمان ہیں۔ تمام طلبہ اور اساتذہ نے  اپنے ہیڈ ماسٹر پر عائد کئے گئے الزامات کو بے بنیاد قراردیا۔ ایک ٹیچر نے  پوچھ تاچھ میں  بتایا کہ ’’اسکول میں کسی سے زبردستی نماز نہیں پڑھوائی جاتی تھی ۔ یہ الزام قطعی بے بنیاد ہے جبکہ قومی ترانہ نہ پڑھنے کی بات بھی غلط ہے، اسکول میں ہرروز قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے۔‘‘  جانچ میں کسی غیر مسلم طالب علم نے ہندو دھرم کی برائی ، نماز پڑھنے پر مجبور کرنے یا قومی ترانہ نہ پڑھنے دینے کے الزام کی تائید نہیں کی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی ان کے بیانوں کی توثیق ہوئی جس کے بعد انتظامیہ نے  ۴؍ دن بعد ہی معطلی  کے احکامات کو واپس لینے کی ہدایت جاری کی۔  
بغیر ثبوت کے مجھے نشانہ بنایاگیا: جان محمد
  اس بیچ  ہیڈماسٹر نے پہلی بار اپنے اوپر عائد کئے گئے الزامات پر تفصیل سے اپنا مؤقف بیان کیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ اُن کے خلاف کئے گئے دعوے جھوٹے، غلط فہمی اور سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔جان محمد نے کہا کہ انہیں بغیر کسی ثبوت کے نشانہ بنایا گیا اور ان کے کام کی گمراہ کن تصویر پیش کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ’’جن لوگوں نے  میرے خلاف شکایت کی ہے  وہ مجھے جانتے تک نہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنا مؤقف مناسب فورم پر پیش کریں گے ،انہیں انصاف پر بھروسہ ہے۔ پورے معاملہ کو سیاسی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے نام کا استعمال کچھ لوگ اپنے ذاتی فائدہ کیلئے نہیں ہونا چاہیے۔  جان محمد کےمطابق ’’میرا کسی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں نہ حکومت سے اور نہ محکمۂ تعلیم سے۔ میں صرف ایک استاد کے طور پر اپنا فرض ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
عوام کی بھرپور حمایت
  دلچسپ بات یہ ہے کہ معطلی کے بعد ۵۲؍ سالہ جان محمد کی حمایت میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ تقریباً۲۵۰؍ مقامی  افراد جن میں طلبہ کے والدین بھی شامل تھے، نے۴؍ فروری کو نوہ جھیل میں احتجاج کیا اور الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ گاؤں والوں کے ایک وفد نے ایک روز قبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے بھی یہی مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK