• Sat, 07 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’گھوس خور پنڈت‘ تنازع: مظاہرین سڑکوں پر، منوج باجپائی اور نیرج پانڈے کے پتلے جلائے، صورتحال کشیدہ

Updated: February 07, 2026, 7:09 PM IST | New Delhi

مظاہرین نے الزام لگایا کہ فلم کا عنوان منفی تاثرات کو فروغ دیتا ہے اور ہندوؤں اور برہمنوں کے جذبات کی توہین کرتا ہے۔ انہوں نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فلم کی اسٹریمنگ کو اجازت نہ دی جائے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بالی ووڈ اداکار منوج باجپائی کی آنے والی فلم ’گھوس خور پنڈت‘ کے متنازع نام کے خلاف ہنگامہ نے شدت اختیار کرلی ہے۔ فلم کے مخالفین اب سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور پروڈیوسر اور اداکاروں کے خلاف ملک گیر احتجاج کر رہے ہیں۔ متعدد شہروں میں مظاہرین کے ذریعے اداکار منوج باجپائی اور فلم ساز نیرج پانڈے کے پتلے جلانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، جمعرات کو پریاگ راج میں ’گھوس خور پنڈت‘ کے خلاف احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ مختلف تنظیموں نے شہر کے سبھاش چوک پر جمع ہو کر پروڈیوسر نیرج پانڈے، ہدایت کار ریتیش شاہ اور فلم میں اہم کردار نبھانے والے کئی اداکاروں کے پتلے نذرِ آتش کیے۔ مظاہرین نے فلم سازوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایسا عنوان منتخب کیا ہے جو برہمن برادری کے لیے توہین آمیز ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر فلم کی ریلیز پر فوری پابندی لگائی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: اہان پانڈے اور انیت پڈا کی ’’سیارہ‘‘ ویلنٹائن سے پہلے سنیما گھروں میں ری ریلیز

مظاہرین نے فلم کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے بینز اور نعرے بازی کا سہارا لیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فلم کا عنوان منفی تاثرات کو فروغ دیتا ہے اور ہندوؤں اور برہمنوں کے جذبات کی توہین کرتا ہے۔ انہوں نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) اور مرکز کی بی جے پی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نیٹ فلیکس پر کی اسٹریمنگ کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

اندور میں بھی فلم کے خلاف احتجاج

اسی طرح کے احتجاج کی اطلاعات اندور سے بھی ملیں، جہاں برہمن برادری اور پرشورام سینا نامی تنظیم کے ممبران نے فلم کی مخالفت میں مظاہرہ کیا اور نیٹ فلکس اور مرکزی اداکار منوج باجپائی کے پتلے جلائے۔ گروپ نے فلم سازوں کو براہِ راست وارننگ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فلم کو واپس لیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: پرینکا چوپڑا اور کارل اربن کی فلم ’’دی بلف‘‘ پرائم ویڈیو پر ریلیز ہوگی

مظاہرے میں شامل ایک شخص نے بتایا کہ ”ہم اس فلم کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس پر فوری پابندی لگنی چاہیے۔ اگر ہمارے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو ہم منوج باجپائی اور نیرج پانڈے کے چہروں پر کالک مل دیں گے۔“ دیگر کئی مظاہرین نے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور سینسر بورڈ سے مداخلت کرکے فلم کی ریلیز روکنے کی اپیل کی۔

ابھی تک نیٹ فلکس یا فلم سازوں کی طرف سے ان مظاہروں پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، فلم کے عنوان کو چیلنج کرنے والی قانونی درخواستیں عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK