مدھیہ پردیش میں ایک دلت دولہا اپنے ہاتھ میں آئین کی کتاب لئے گھوڑے پر سوار ہوکر بارات لے کر پہنچا، بنسل برادری سے تعلق رکھنے والے دولہے کے گھوڑے پر سوار ہونے سے بنسل برادری نے مساوات اور برابری کا اظہار کیا ۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 7:09 PM IST | Bhopal
مدھیہ پردیش میں ایک دلت دولہا اپنے ہاتھ میں آئین کی کتاب لئے گھوڑے پر سوار ہوکر بارات لے کر پہنچا، بنسل برادری سے تعلق رکھنے والے دولہے کے گھوڑے پر سوار ہونے سے بنسل برادری نے مساوات اور برابری کا اظہار کیا ۔
پردیش کے ضلع داموہ میں ایک دلت دولہے نے اپنی بارات کے دوران ہندوستانی آئین کی ایک نقل پکڑ کر گھوڑے پر سوار ہوکر شادی کے منڈپ میں پہنچا۔ دولہا، نندو بنسل جو بنسل برادری سے تعلق رکھتا ہے، نے یہ علامتی عمل اس بات کو واضح کرنے کے لیے کیا کہ ملک کا قانون تمام شہریوں کو، ذات پات سے قطع نظر، برابر کی ذاتی اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔جیسے جیسے ڈھول بج رہا تھا رشتے دار ناچ رہے تھے، ساتھ ہی انہیں یہ بارات مساوات اور برابری کا احساس کرارہی تھی، جو مساوات اور عزت کے ان کے مطالبے کی عکاسی کرتی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ گاؤں میں۷۵؍ سالوں میں پہلی دلت بارات تھی جس میں دولہا گھوڑے پر سوار ہوا تھا۔یہ واقعہ گجرات اور راجستھان جیسی ریاستوں میں ہونے والے مشابہ واقعات کے برعکس ہے، جہاں دلت دولہے کو شادی کے دوران گھوڑے پر سوار ہونے پر اعلیٰ ذات کے افراد کے ہاتھوں تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بعد ازاں بنسل برادری کے اراکین نے کہا کہ داموہ کی بارات نے ثابت کیا کہ دلت ملک کے برابر کے شہری ہیں اور یہ اقدام خود اعتمادی کا معاملہ تھا۔برادری کے ایک رکن کے حوالے سے کہا گیا، ’’یہ ہماری وقار کا معاملہ تھا۔ آئین کی نقل پکڑے ہوئے ہم نے یہ دکھایا کہ ہم اس ملک کے برابر شہری ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ بارات سےقبل ، بنسل برادری کے اراکین نے ایس سی مہاسبھا کے ساتھ مل کر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شروت کیرتی سومونشی کو ایک درخواست جمع کرائی، جس میں ممکنہ رخنہ اندازی کی صورتحال کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے تحفظ کی درخواست کی گئی تھی۔ ایس پی نے ہاٹاپولیس اسٹیشن کو ہدایت کی کہ وہ قانون و انتظام کی یقین دہانی کرائے۔ایک پولیس ٹیمنے تحصیلدار اومیش تیواری کے ساتھ، گاؤں کا دورہ کیا تاکہ شادی کے پروگرام کی تصدیق کی جا سکے اور مقامی جذبات کا جائزہ لیا جا سکے۔ دیگر برادریوں کے گاؤں والوں نے انتظامیہ کو یقین دلایا کہ انہیں دلت دولہا کی گھوڑے پر سوار بارات پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔جمعرات کو بارات پرامن طور پر آگے بڑھی، پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے مناسب سیکیورٹی تعینات کی تھی۔برادری کے اراکین نے پولیس کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے محفوظ تقریب کو یقینی بنایا۔دولہا کے بھائی، جیون بنسل نے ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے گاؤں والوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ’’گاؤں میں ہمیشہ ایسا بھائی چارہ قائم رہنا چاہیے تاکہ ہر کوئی عزت اور باہمی احترام کے ساتھ رہ سکے۔‘‘