• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوئل نے برکس ممالک کے اندر مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر زور دیا

Updated: September 11, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi

کامرس اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے جمعہ کو برکس ممالک کے اندر مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، سپلائی چین کو مضبوط کرنے اور ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ ڈگریوں کو تسلیم کرنے کی اپیل کی۔

Piyush Goyal.Photo:PTI
پیوش گوئل۔ تصویر:پی ٹی آئی

کامرس اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے جمعہ کو برکس  ممالک کے اندر مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، سپلائی چین کو مضبوط کرنے اور ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ ڈگریوں کو تسلیم کرنے کی اپیل کی۔پیوش گوئل نے نئی دہلی میں بھارت منڈپم میں برکس بزنس فورم کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل عالمی تجارت میں برکس ممالک کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ انہوں نے معاشی تعاون کے لیے مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے زیادہ مارکیٹ رسائی، سپلائی چین کے تنوع اور آسان ریگولیٹری طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا۔ سیشن سے روس کے وزیر برائے اقتصادی ترقی میکسم ریشیتنیکوف، ہندوستان کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، کامرس اور صنعت کے وزیرِ مملکت جتن پرساد اور کامرس سکریٹری راجیش اگروال نے بھی خطاب کیا۔
پیوش گوئل نے کہا کہ برکس ممالک کے باہمی تجارتی تعلقات میں ہندوستان ایک لازمی ستون ہے۔ انہوں نے ملک کی انجینئرنگ مصنوعات، الیکٹرانکس اور فارما کے شعبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ان اور دیگر مصنوعات کے لیے برکس کو ایک اہم مارکیٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے برکس ممالک سے ایک دوسرے کی مصنوعات کے لیے اپنی مارکیٹ کھولنے کی اپیل کی، جس میں خام مال اور اہم معدنیات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی چین تبھی مضبوط ہوگی جب وہ دوطرفہ ہوگی۔ آسان مارکیٹ رسائی کی وکالت کرتے ہوئے پیوش گوئل نے برکس کے رکن ممالک اور شراکت دار ممالک سے اپنی مارکیٹ کھولنے اور ریگولیٹری طریقہ کار کو آسان بنانے کی اپیل کی۔

یہ بھی پڑھئے:دو ماہ کے وقفے سے گیند بازی کی رفتار میں نمایاں کمی آئی : محمد سراج

مرکزی وزیرِنے برکس ممالک سے زراعت کے شعبے میں تعاون بڑھانے، ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے، خدمات کے شعبے کو ایک دوسرے کے لیے کھولنے، سرحد پار پیشہ ور افراد کی نقل و حمل کو آسان بنانے اور ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ ڈگریوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بزنس فورم سے برکس کے اندر تجارت اور معاشی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تعمیری تجاویز سامنے آئیں گی۔ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس سال برکس کے ادارہ جاتی تعاون کے ۲۰؍سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اس دوران برکس کی رکنیت، ایجنڈے اور تعاون کے طریقوں میں کافی تبدیلیاں اور پیش رفت ہوئی ہے۔ اس سربراہ اجلاس کے تھیم مضبوط ، اختراع ، تعاون اورپائیدارترقی کاقیام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ترجیحات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ عالمی سیاسی اور معاشی نظام میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ عدم استحکام، غیر یقینی صورتحال اور پیچیدگی اس کی اہم خصوصیات بن چکی ہیں، جبکہ جیو پولیٹیکل تنازعات، وبا، موسمیاتی تبدیلیاں، ڈجیٹلائزیشن اور تکنیکی پیش رفت معاشی منظرنامے کو بدل رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:پروٹین پاؤڈر میں کیڑے ملنے کا بپاشا باسو کا دعویٰ، تُکا رام منڈے سے مدد کی اپیل

جتن پرساد نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ برکس بزنس فورم رکن ممالک کی صلاحیتوں کو ٹھوس کاروباری نتائج میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر ڈجیٹل خدمات، خصوصاً مصنوعی ذہانت  پر زور دیا۔ انہوں نے اے آئی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے زیادہ تبادلے اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر مشن  ۰ء۲؍ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے پورے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کو تیار کرنے کے لیے تعاون کی دعوت دی۔کامرس سکریٹری نے کہا کہ برکس ایک اہم اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ ہے۔ رکن ممالک کے درمیان تجارت ۲۰۰۳ءمیں ۸۴؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر ۲۰۲۴ء میں تقریباً ۲ء۱؍ ٹریلین ڈالر ہو گئی ہے۔ انہوں نے کثیر جہتی تجارتی نظام کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط کرنے پر زور دینے کے ساتھ ساتھ مناسب اور ارزاں ورکنگ کیپٹل کے ذریعے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) کی مدد کرنے کی بات کہی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK