• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپولین کے دور کا ۲۱۷ سال پرانا پراسرار خط جی پی ٹی-۶ ایسٹرا نے ۶ گھنٹوں میں ڈی کوڈ کر لیا

Updated: October 05, 2026, 3:00 PM IST | Washington

سائبر سیکوریٹی فرم ’سینٹینل ون‘ (SentinelOne) کے اے آئی انجینئر، کارٹر چرچ نے اس کوڈ کو توڑنے اور پیغام کو تحریری شکل میں لانے کیلئے اوپن اے آئی کے ’جی پی ٹی-۶ ایسٹرا` (GPT-6 Astra) سسٹم کا استعمال کیا۔ تقریباً چھ گھنٹے کی پروسیسنگ کے بعد، اس نظام نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس خط میں فرانس اور ہیبسبرگ سلطنت کے درمیان جنگ کے دہانے پر فرانسیسی اور آسٹرین فوج کی نقل و حرکت کی تفصیلات درج تھیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فرانسیسی شہنشاہ نیپولین بونا پارٹ کے دور میں لکھا گیا ایک پراسرار خط ۲۱۷ برس بعد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ڈی کوڈ کر لیا گیا ہے۔ یہ خط ۱۸۰۹ء میں نیپولین کے سوتیلے بیٹے اور اٹلی کے وائسرائے یوجین نے آگسٹ ڈی مارمونٹ کو بھیجا تھا، جو دو صدیوں سے زائد عرصے تک مورخین کیلئے ایک معمہ بنا رہا۔ اگرچہ اس کی ابتدائی سطر فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی، لیکن باقی ۲۴ سطریں دو ہندسی اعداد، بکھرے ہوئے حروف اور خود سے وضع کردہ علامتوں پر مشتمل تھیں جنہیں پہلے کبھی کامیابی سے ڈی کوڈ نہیں کیا جا سکا تھا۔

سائبر سیکوریٹی فرم ’سینٹینل ون‘ (SentinelOne) کے اے آئی انجینئر، کارٹر چرچ نے اس کوڈ کو توڑنے اور پیغام کو تحریری شکل میں لانے کیلئے اوپن اے آئی کے ’جی پی ٹی-۶ ایسٹرا` (GPT-6 Astra) سسٹم کا استعمال کیا۔ تقریباً چھ گھنٹے کی پروسیسنگ کے بعد، اس نظام نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس خط میں فرانس اور ہیبسبرگ سلطنت کے درمیان جنگ کے دہانے پر فرانسیسی اور آسٹرین فوج کی نقل و حرکت کی تفصیلات درج تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی ایجنٹس کنٹرول سے باہر ؟۱۰۰؍زائد عالمی اداروں کے نظام میں سیندھ ماری

چرچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”میں نے جی پی ٹی-۶ ایسٹرا کا استعمال کرتے ہوئے نیپولین کے ایک جرنیل کو بھیجے گئے غیر حل شدہ خفیہ پیغام (سائفر) کو حل کر لیا ہے جو گزشتہ ۲۱۷ برسوں سے ڈی کوڈ نہیں جا سکا تھا۔ اس میں اصل متاثر کن بات محض کوڈ توڑنا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ ایسٹرا نے ایک واحد تصویر اور تقریباً ۶ گھنٹوں میں مکمل ملٹی ماڈل ورک فلو انجام دیا۔“ انہوں نے بتایا کہ ایک ہی پرامپٹ کی مدد سے ایسٹرا نے ہاتھ سے بنی ۱۳۰۰ علامات کو ٹرانسکرائب کیا، خط سے غیر متعلقہ ایک جزوی کلید کی شناخت کی اور باقی حصے کو اپنے ”سمیولیٹڈ اینیلنگ سالور“ (simulated-annealing solver) کے ذریعے حل کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی چیٹ بوٹس نے امیج ٹیسٹ میں مسلم خواتین کا حجاب ہٹایا : رپورٹ

چرچ نے بتایا کہ اس خط میں آسٹریا کے حملے سے دو ہفتے قبل بھیجی گئی جنگی بریفنگ شامل ہے۔ خاص طور پر یہ نیپولین کی ۱۸۶۵ کی اپنی یادداشتوں میں ادھورے چھوڑے گئے ایک جملے کو مکمل کرتا ہے، جہاں مارمونٹ کو دیا گیا ایک حکم جملے کے درمیان ”ایک مٹھی بھر...“ (a handful of...) پر ٹوٹ جاتا ہے۔ ڈی کوڈ شدہ خط اس گمشدہ جملے کو بے نقاب کرتا ہے: ”اوباشوں کا ایک ہجوم“ (a gathering of rabble)۔ چرچ نے کہا کہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی کسی سائفر کو ڈی کوڈ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی، لیکن ۱۹۴۱ء کے جرمن فوج کے ایک پیغام کو ایک اے آئی ماڈل کی جانب سے ڈی کوڈ کئے جانے کا مشاہدہ کرنے کے بعد انہیں اس کی ترغیب ملی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK