سیاہ قانون کیخلاف ۱۵؍ فروری کو آزاد میدان پر مہا مورچہ

Updated: February 13, 2020, 10:23 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ۱۵؍فروری کوآزاد میدان میں مہا مورچے کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت کو یقینی بنانے کی خاطر ’الائنس اگینسٹ سی اے اے، این پی آر اینڈ این آرسی‘ کی جانب سےمختلف علاقوں کے ذمہ داران کے ہمراہ مسلسل میٹنگیں کی جارہی ہیں۔

سیاہ قانون کیخلاف ۱۵؍ فروری کو آزاد میدان پر مہا مورچہ
مراٹھی پترکار سنگھ میں پریس کانفرنس ۔ تصویر : انقلاب

ممبئی : شہریت ترمیمی قانون  کے خلاف ۱۵؍فروری کوآزاد میدان میں مہا مورچے کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میںزیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت کو یقینی بنانے کی خاطر  ’الائنس اگینسٹ سی اے اے ،این پی آر اینڈ این آرسی‘ کی جانب سےمختلف علاقوں کے ذمہ داران کے ہمراہ مسلسل میٹنگیں کی جارہی ہیں۔ اسی تعلق سے بد ھ کو مراٹھی پترکار سنگھ میں مشترکہ محاذکی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی اوریہ  سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ جتنی پُراثر آوازممبئی سے بلند ہوگی سیاہ قانون کو منسوخ کروانا اتنا ہی آسان  ہوگا ۔
  اس کانفرنس میں مہامورچے کے چیف کنوینر جسٹس کولسے پاٹل کی جانب سے دیئے گئے پیغام کا اعادہ کیا گیا کہ ’’سی اے اے ،این پی آر اور این آرسی صرف مسلمانوں ہی کیلئے  خطرناک نہیں ہے بلکہ ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سیبھی  اس سے راست طور پرمتاثر ہونگے۔اس لئے ہم سب گھروں سے۱۵؍ فروری کو اتنی بڑی تعداد میں نکلیںکہ آزاد میدان بھرجائے ۔‘‘الائنس کے ایک اور کنوینر ایڈوکیٹ راکیش راٹھور نے بھی ان ہی باتوں کودہراتے ہوئے کہاکہ ’’اس سیاہ قانون سے خاص طور پرغریب اور پسماندہ طبقات متاثر ہوں گے اور یہ لڑائی صرف مسلمانوں کی نہیں ہے بلکہ یہ ان سب کی  ہے جو اس قانون کی زد میں آنے والے ہیں۔‘‘پریس کانفرنس کے دوران مولانا سید اطہرعلی ،مولانا اعجازاحمد کشمیری، عبدالحسیب  بھاٹکر،مولانا محموددریابادی ،ڈاکٹر عظیم الدین اور فرید شیخ نے بھی اظہارخیال کیا اور اس مہامورچے کا حصہ بننے کی شہریوں سے اپیل کی ۔ اس موقع پرمولانا سید خالد ا شرف کامہا مورچے سے متعلق آڈیوپیغام بھی سنایاگیا ۔ان حضرات نے دیگر علاقوں کی میٹنگوں کے تعلق سےبتایا کہ لوگوں کا خاص تعاون مل رہا ہے اوروہ اپنی جانب سے بڑی تعداد میں شرکت کی یقین دہانی کروا رہے ہیں۔ اسی کے سا تھ بودھ وہار ،گرودوارہ اور دیگر مذہبی مقامات اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کے علاوہ سیاسی جماعتوںکے نمائندوں سے بھی رابطہ قائم کیا جارہا ہے اوران کو یہ بتایا جارہا ہے کہ مذہب یا فرقہ کو شہری ترمیم قانون میں شامل کرنا دستور کی روح کے خلاف ہے ۔
کہاں کہاں میٹنگ کی گئی 
 منگل کی شب میںکرافورڈ مارکیٹ کے قریب بودھ وہار اورتھانے میںدلتوں کے ہمراہ میٹنگ کی گئی۔ بدھ کی شب میں ساکی ناکہ کے نورالاسلام ا سکو ل میں، چیتا کیمپ کے آزاد اسکول میں اورگورے گاؤں کی اعتماد مسجد میں اور ممبرا میں میٹنگیں کی گئیں۔ان میٹنگوں میں لوگوں سےبڑی تعداد میں موچے میں شریک ہونے کی اپیل کی جا رہی ہے ساتھ ہی   امن وامان قائم رکھنے کی غرض سے مختلف ہدایات بھی دی جا رہی ہیں۔

 آزادمیدان پہنچنے والے شرکاء کیلئے ہدایات 
 (۱) راستے میں اور ریلی کے دوران خالص مذہبی نعروں سے اور ـ اشتعال انگیز نعروں سے پرہیز کیا جائے (۲)راستے میں اگرخدانخواستہ کوئی خلافِ مزاج بات پیش آجائے تب بھی مشتعل نہ ہوں کیونکہ ـ شر پسند  ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں (۳)مورچے کے دوران چھوٹی چادر اورپینے کا پانی ساتھ رکھیں (۴) خواتین قیمتی زیورات اور چھوٹے بچوں کوساتھ نہ لائیں( ۵) میدان کے اندر او رباہر تعینات رضاکاروں سے تعاون کریں اورہدایات پرعمل کریں( ۶) بسوں کے ذریعہ آنے والے ایک ساتھ بیٹھیں (۷) آتے جاتے وقت اورمیدان میںاس طرح سے ایک دوسرے کاتعاون کریںکہ شرکاء کو سہولت ہو ا ور وہ مقررین کی جانب سے دیئے جانے والے پیغام کو بغور سماعت کر سکیں (۸)قومی پرچم ساتھ رہے (۹)جمہوری طریقوں سے آوازبلند کریںاورکوئی ایسا عمل ہرگزنہ ہونے دیں جس سے کسی کولب کشائی کا موقع ملے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK