بو ریولی خان کمپاؤنڈ کا معاملہ۔ قرآن کریم کے نسخے اور دینی کتابیں بھیگ گئیں۔نماز کی ادائیگی میں دشواری
EPAPER
Updated: June 26, 2023, 11:00 AM IST | Borivali
بو ریولی خان کمپاؤنڈ کا معاملہ۔ قرآن کریم کے نسخے اور دینی کتابیں بھیگ گئیں۔نماز کی ادائیگی میں دشواری
بوریولی (مشرق ) خان کمپاؤنڈ کاتھا روڈ کی مسجد و مدرسہ حبیبیہ رضویہ میں بارش کا پانی بھرنے سے چٹائیاں، قرآن کریم کے نسخے اور دینی کتابیں بھیگ گئیں۔ دراصل یہاں مسجد سے متصل روڈ پر بڑی مقدار میں ڈیولپر نے توڑی گئیں عمارتوں کا ملبہ ڈال دیا ہے جس سے پانی کی نکاسی بند ہوگئی ہے۔ اس کی تحریری شکایت بی ایم سی اور پولیس میں متعدد مرتبہ کی گئی ہے لیکن کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ نتیجتاً پہلی ہی بارش میں مسجد میں پانی بھرنے کی صورت میں برآمد ہوا۔ اس سے مقامی لوگوں اور مصلیان میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔
مسجد کا مسئلہ کیا ہے
مسجد حبیبیہ رضویہ کے صدر حسن حبیب اللہ خان نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ یہ مسجد میرے والد حبیب اللہ خان نے ۱۹۸۶ء میں قائم کی تھی اور اس کیلئے ۳؍ہزاراسکوائر فٹ کی جگہ وقف کی تھی۔ اس وقت یہاں سراج الدین شیخ نام کے ڈیولپر کے ذریعے ڈیولپمنٹ کا کام چل رہا ہے اور کئی عمارتوں کو توڑ دیا گیا ہے۔ عمارتوں کا ملبہ مسجد کے قریب بیچ راستے پر ڈال دیا گیا ہے جس کی وجہ سے پانی کی نکاسی بند ہو گئی ہے ۔ اسی سبب گزشتہ روز ہونے والی بارش کا پانی مسجد میں بھر گیا جس سے قرآن کریم کے نسخے، چٹائیاں، دینی کتابیں اور دیگر چیزیں بھیگ گئیں۔‘‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’توڑی گئی عمارتوں کا ملبہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے اسی طرح پڑا ہوا ہے ۔ ہم لوگوں نے بار بار متوجہ کیا پولیس اور بی ایم سی میں تحریری شکایت کی ۔ پولیس اہلکار بھی آئے اور مسجد میں گندہ پانی بھرنے کو اپنی نگاہوں سے دیکھا اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی، نہ ملبہ ہٹایا گیا۔‘‘
حسن خان نے مزید بتایا کہ علاقے کے ڈیولپمنٹ کے ساتھ مسجد کو بھی شفٹ کرنے اور اسے روڈ کی جانب تعمیر کرنے کا ڈیولپر سے معاہدہ کیا گیا تھا مگر بعد میں پتہ چلا کہ وہ صرف۱۲۰۰؍ اسکوائر فٹ جگہ ہی مسجد کیلئے مختص کر رہا ہے تو ٹرسٹیان اور مصلیان نے اعتراض کیا کہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا،اس لئے زیادہ بہتر ہے کہ مسجد جہاں ہے وہیں قائم رکھی جائے ٹرسٹیان اور مصلیان کے اس فیصلے کے بعد سے ہر معاملے میں ضد کی جارہی ہے اور ملبہ نہ ہٹانا بھی ڈیولپر کی ہٹ دھرمی ہے جس سے یہ حالات پیدا ہوئے۔‘‘
مسجد کمیٹی کے رکن محمد آدم لمڈانی نے کہا کہ پہلی ہی بارش میں مسجد میں پانی داخل ہوگیا ، بارش کے بقیہ دنوں میں نامعلوم کیا حالات ہوں گے۔
"انہوں نے یہ بھی بتایا کہ" ہم لوگوں نے کستوربا مارگ پولیس اسٹیشن میں، بی ایم سی میں تحریری شکایت کی ہے اور ٹویٹر کے ذریعے بھی شکایت کی ہے ۔ کل جب مسئلہ پیدا ہوا تھا تو 100 نمبر پر پولیس میں شکایت کی گئی تھی ۔ شکایت کرنے پر ایک پولیس انسپکٹر اور کچھ حولدار وہاں پہنچے۔ حالات کا مشاہدہ کیا اور کہا کہ میں آپ لوگوں کی بات بی ایم سی تک پہنچاتا ہوں اور آپ کی پریشانی حل کرنے کے لئے کہتا ہوں ۔ اسی دوران جب وہ ہم لوگوں کو تسلی دے رہے تھے نامعلوم کس شخص کا افسر کا فون آیا کہ تھری اسٹار پولیس انسپکٹر ہمیں لوگوں کو دھمکانے لگا۔ وہ کہنے لگا کہ تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ تم لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘‘