Inquilab Logo Happiest Places to Work

گرین لینڈ کا ٹرمپ سے منسلک آئل کمپنی کو غیر مجاز ڈرلنگ پر انتباہ!

Updated: August 11, 2026, 12:31 PM IST | Agency | Istanbul

الزام ہے کہ ٹیکساس میں قائم کمپنی نے ضروری سرکاری منظوری کے بغیر ڈرلنگ کی مشینری ساحل پر اتاری ہے۔

The area where drilling for oil exploration will take place. Picture: INN
وہ علاقہ جہاں تیل کی تلاش کیلئے کھدائی کی جائے گی۔ تصویر: آئی این این

گرین لینڈ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے منسلک ایک آئل کمپنی کو ’’سخت وارننگ‘‘ جاری کی ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق کمپنی نے ضروری سرکاری منظوری حاصل کیے بغیر تیل کی تلاش کے لئے استعمال ہونے والی ڈرلنگ مشینری ساحل پر اتاری تھی۔ برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ گرین لینڈ کے محکمہ صنعت و معدنیات کے مطابق گزشتہ ماہ جزیرہ کے مشرقی ساحل پر تیل کی تلاش کے لئے مجوزہ ڈرلنگ کے مقصد سے مشینری اتاری گئی، تاہم کمپنی کے پاس اس کے لئے ضروری اجازت نامے موجود نہیں تھے۔ محکمے نے کہا کہ’’لائسنس ہولڈر کو سخت وارننگ بھیجی جائے گی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے:نیتن یاہو کےمسترد کرنےکےباوجود غزہ منصوبہ ہی ”آگے بڑھنے کا واحد راستہ“: غزہ کیلئےہائی کمشنر ملادینوف

اس منصوبے کی مالی معاونت گرین لینڈ انرجی نامی ٹیکساس میں قائم کمپنی کر رہی ہے، جو گزشتہ سال قائم ہوئی تھی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جیمیسن لینڈ کے علاقے کے زیرِ زمین تقریباً ایک ٹریلین ڈالر مالیت کا خام تیل موجود ہو سکتا ہے۔ کمپنی نے مالی معاونت کے عوض تیل کی تلاش کے اس منصوبے میں اکثریتی حصص حاصل کیے ہیں۔ گرین لینڈ کے حکام کی منظوری کے بغیر ڈرلنگ کا کام شروع نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ میں ایک بار پھر دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مقامی باشندوں کی جانب سے ڈرلنگ کا سامان ساحل پر اتارے جانے کی اطلاع دیے جانے کے چند روز بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ٹروتھ سوشل‘ پر مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے تیار کردہ ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں انہیں گرین لینڈ کے ایک گاؤں کا نظارہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا: ’’ہیلو، گرین لینڈ!‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکی عدالت نے گوتم اور ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات خارج کر دیے

جنوری۲۰۲۵ءمیں ٹرمپ کو اس وقت عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو یہ جزیرہ ’’قومی سلامتی کے مقاصد‘‘ کے لیے درکار ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK