Updated: August 10, 2026, 9:08 PM IST
| Gaza
ملادینوف نے معاہدے کے موجودہ مرحلے کو ایک ایسا عہد قرار دیا جس میں امریکہ، حماس اور بورڈ آف پیس شامل ہیں، جبکہ اسرائیل کو خاص طور پر اس سے باہر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کو دی گئی اس یقینی دہانی کا اعادہ کیا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہی اسرائیل پیچھے ہٹے گا۔
نکولے ملادینوف۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ کے غزہ کیلئے ہائی کمشنر نکولے ملادینوف نے اسرائیل کے چینل ۱۲ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ۷ اکتوبر جیسے کسی حملے کو دہرائے جانے سے روکنے کیلئے امریکہ کی حمایت یافتہ غزہ منصوبہ ہی ”آگے بڑھنے کا واحد راستہ“ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم آج جو متبادل پیش کر رہے ہیں وہ آگے بڑھنے کا واحد طریقہ ہے، یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ المیہ دوبارہ پیش نہ آئے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ تبادلۂ خیال جاری ہے اور انہیں ”ہر ایک کیلئے ایک مثبت نتیجہ“ نکلنے کی امید ہے۔
ملادینوف نے معاہدے کے موجودہ مرحلے کو ایک ایسا عہد قرار دیا جس میں امریکہ، حماس اور بورڈ آف پیس شامل ہیں، جبکہ اسرائیل کو خاص طور پر اس سے باہر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کو دی گئی اس یقینی دہانی کا اعادہ کیا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہی اسرائیل پیچھے ہٹے گا۔ ملادینوف اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹ گئے جس میں انہوں نے مرحلہ وار انخلاء کی تجویز دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر واقعی غیر عسکری سازی ہوتی ہے، تو اسرائیل غزہ پٹی سے انخلاء کر لے گا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ غیر مسلح کرنے کا دائرہ کار حماس کے تمام ہتھیاروں کو احاطہ کرے گا، جن میں کلاشنکوف رائفلیں بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کیلئے تیار: رپورٹ
اسرائیل پہلے ہی غزہ منصوبے پر عمل پیرا ہے: پیس کونسل
دریں اثناء، غزہ منصوبے کے پیچھے موجود سینئر حکام نے اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ (Ynet) کو دیئے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ زمینی سطح پر اسرائیل کے اقدامات ۱۵ نکات پر مشتمل تجویز کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، حالانکہ نیتن یاہو نے اتوار کے دن عوامی طور پر غزہ منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ غزہ کی ”پیس کونسل“ کے ذرائع نے کہا کہ ”ہم عمل پر توجہ دیتے ہیں اور الفاظ و اعلانات پر کم۔“ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ہدف بنا کر کی جانے والی قتل و غارت گری روک دی ہے اور وہ جنگ بندی کا احترام کر رہا ہے، جبکہ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) یلو لائن پر تعینات ہے جو غزہ کے ۵۳ فیصد حصے کو کنٹرول کرتی ہے اور اس کے آگے کوئی فورسیز موجود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارہ: یہودی آبادکاروں کی نئی تعمیر شدہ غیر قانونی بستی میں منتقلی
چینل ۱۲ نیوز نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کے دفاعی ادارے نے حال ہی میں غزہ کے متعدد مقامات سے آئی ڈی ایف فورسیز کو واپس بلانے پر بات چیت کی ہے، جس کے تحت فوجیوں کی جگہ ممکنہ طور پر ایک کثیر القومی فورس لے سکتی ہے، اگرچہ حماس کے غیر مسلح ہونے میں ابھی کافی وقت باقی ہے۔ سیکوریٹی حکام کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر ایسے انخلاء کی منظوری دی جاتی ہے تو وہ ہنگامی منصوبے تیار کر رہے ہیں، اگرچہ ”غیر مسلح“ ہونے کی دقیق تعریف ابھی تک غیر واضح ہے۔