بیٹے کی موت کے قصوروار افسران کے خلاف کارروائی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ ذات کی بنیاد پر تفریق کرنے اور جھوٹا الزام لگانے کا دعویٰ بھی کیا۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 11:27 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai
بیٹے کی موت کے قصوروار افسران کے خلاف کارروائی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ ذات کی بنیاد پر تفریق کرنے اور جھوٹا الزام لگانے کا دعویٰ بھی کیا۔
آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم ساحل کے والد رویندر واکوڑے نےاپنےبیٹے کو انصاف دلانے اورکیس کی شفافیت کے ساتھ غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر ۲۸؍ ستمبر سے آزاد میدان میں دھرنا آندولن شروع کر دیا ہے۔ آزادمیدان میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ دھرنا دینے والے رویندر واکوڑےنے ایک بار پھر کالج کے افسران کو بیٹے کی خود کشی کا قصوروار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ انہوںنے کہا کہ جب تک میرے بیٹے کو انصاف نہیں ملتا، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ میرے بیٹے کے ساتھ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز برتا گیا اور یہی اس کی موت کا سبب بنا ۔مجھےکوئی پرواہ نہیں کہ پولیس مجھے گرفتار کرلے لیکن میں اپنی آخری سانس تک بیٹے کو انصاف دلانے کے لئے لڑتا رہوں گا۔ مہلوک ساحل کے والدین کے آزاد میدان میں احتجاج میں آئی آئی ٹی بامبے کے طلبہ اور طلبہ تنظیم بھی شامل ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے:۴؍مہینے بعد بھی گیارہویں میں داخلہ کی کارروائی جاری
دریں اثناءممبئی پولیس کی کرائم برانچ مذکورہ معاملہ میں خود کشی پر مجبور کرنے کے کیس کی جانچ کررہی ہے۔ واضح رہے کہ ساحل کو موبائل فون کی مدد سے پرچہ حل کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ اس نے ۱۸؍ ستمبر کو یونیورسٹی کے ہاسٹل روم میں پھانسی لگالی تھی۔مذکورہ معاملہ میں آئی آئی ٹی بامبے نے بھی ۱۰؍ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ پولیس نے اپنی تفتیش کے دوران یہ بھی دعویٰـ کیا ہے کہ بی ٹیک کےدوسرے سال میں زیر تعلیم طالب علم ساحل نے امتحان میں نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد اپنے ساتھی طالب علم سے افسوس اور پشیمانی کا اظہار کیا تھا۔