Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسمارٹ میٹرکے خلاف ریاست میں بڑھتی ناراضگی

Updated: June 16, 2026, 7:53 AM IST | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ کے حکم اور وزیر اعلیٰ کے بیان کے باوجود بجلی کمپنی صارفین کو نوٹس دے کر میٹر تبدیل کرنے پر اصرار کر رہی ہے

There has been considerable opposition to smart meters (file photo)
اسمارٹ میٹر کی کافی پہلے سے مخالفت ہو رہی ہے ( فائل فوٹو)

 بامبے ہائی کورٹ نے کافی پہلے یہ حکم جاری کیا تھا کہ کوئی بھی بجلی کمپنی صارف کی اجازت کے بغیر بجلی کا میٹر تبدیل نہیں کر سکتی۔ جبکہ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کچھ عرصہ پہلے بیان دیا تھا کہ ریاست میں بجلی کمپنی کی طرف سے لگائے جا رہے اسمارٹ میٹر لازمی نہیں ہوں گے۔ جو صارف اجازت دیں گے انہی کے یہاں یہ میٹر لگائے جائیں گے۔ اس کے باوجود مہاوترن کی جانب سے ریاست بھر میں ہرایک صارف کے گھر میٹر تبدیل کرنے کی مہم جاری ہے ۔ صارفین نےاب اس کے خلاف آواز اٹھانی شروع کر دی ہے۔ 
  یاد رہے کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں بجلی کمپنی کی جانب سے ہر صارف کے گھر نوٹس کے نام پر ایک مکتوب بھیجا جا رہا ہے جس کی تحریر اتنی باریک ہے کہ اسے بڑی مشکل سے پڑھ سکتا ہے۔ نوٹس کے بعد ۴۸؍ گھنٹوں بعد کمپنی کے اہلکار میٹر تبدیل کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ مہا وترن کا کہنا ہے کہ اسمارٹ میٹر کے ذریعے درست بل جاری کیا جا سکے گا۔ بجلی چوری پر روک لگ سکے گی اور یہ بجلی کے استعمال کی تفصیل معلوم ہو سکے گی۔ ساتھ ہی میٹر سے تکنیکی خامیاں دور ہو جائیں گی۔ جبکہ صارفین کے دلوں میں خدشات ہیں کہ کہیں اسمارٹ  میٹر لگنے کے بعد بل زیادہ تو نہیں آئے گا؟ میٹر کو پری پیڈ تو نہیں کر دیا جائے گا؟ جس کے بعد میٹر کا ری چارج ختم ہوتے ہیں بجلی کٹ جائے گی۔ یعنی جب تک صارف ریفل نہیں کروائے گا تب تک اسے اندھیرے میں رہنا پڑے گا۔ ان ساری باتوں کے سبب اب لوگ اس میٹر کی مخالفت کر رہے ہیں۔
  لاتور ، دھولیہ اور دیگر مقامات پر لوگ تحریری طور پربجلی کمپنی کو اسمارٹ میٹر لگانے سے انکار کر رہے ہیں۔ ممبئی کے قریب بدلا پور علاقے میں سنگیتا چیندونکر اور رام جگتاپ نامی سماجی کارکنان اسمارٹ میٹر لگانےکے فیصلے کے خلاف بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اسمارٹ میٹر لگ گیا تو آگے چل کر صارفین کا گھر چلانا مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ بل ادا کرنے میں تاخیر پر فوری طور پر بجلی منقطع ہو جائے گی اور بل اتنا ہوگا کہ اسے ادا کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہوگی۔  دھولیہ میں شیوسینا (ادھو) کے کارکنان نے انتظامیہ کو مکتوب دیا ہے کہ اگر اسمارٹ میٹر لگانے کیلئے زور زبردستی کی گئی تو سڑک پر اتر کر احتجاج کیا جائے گا۔ 
 ان دونوں سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ فرنویس کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ واضح طور پر یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ اسمارٹ میٹر لگوانا لازمی نہیں ہے بلکہ یہ صارفین کی مرضی پر منحصر ہوگا۔ اس ویڈیو کو لوگ خوب شیئر کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ لوگ ایک فارم شیئر کر رہے ہیں جو دراصل مہاوترن کے عریضے کا نمونہ ہے۔ ا س میں بتایا گیا ہے کہ اسمارٹ میٹر نہ لگانے کیلئے درخواست کس طرح دی جائے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ عدالت نے یہ واضح کیا ہے کہ صارف کی اجازت کے بغیر کوئی بھی بجلی کمپنی الیکٹرک میٹر تبدیل نہیں کر سکتی۔  ناگپور اور آس پاس کے علاقوں میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اسمارٹ میٹر کے خلاف چنندہ علاقوں میں نہیں بلکہ پوری ریاست میں عوام کو سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرنا چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK