Updated: June 15, 2026, 9:57 PM IST
| New Delhi
امریکہ میں قائم سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کی ایک نئی تحقیق میں یوٹیوب، اسپوٹیفائی، ایپل میوزک اور میٹا کی میوزک لائبریری پر موجود ۵۲۳؍ ہندوتوا پاپ گانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت، غیر انسانی سلوک اور تشدد پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ مواد متعلقہ پلیٹ فارمز کی اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز اور پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
امریکہ میں قائم تنظیم Center for the Study of Organized Hate نے پیر کو جاری ہونے والی اپنی نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یوٹیوب، ایپل میوزک، اسپوٹیفائی اور میٹا کے پلیٹ فارمز پر سیکڑوں ایسے ہندوتوا پاپ گانے موجود ہیں جو مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف نفرت، تعصب اور بعض صورتوں میں تشدد کی ترغیب دیتے ہیں۔
Profiting from Hate Music: YouTube, Meta, Spotify and Apple Music’s Role in Hosting and Funding India’s Hate Music Industry کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کو ہندوستان کی مبینہ ’’نفرت انگیز موسیقی کی صنعت‘‘ کی پہلی جامع نقشہ سازی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں نہ صرف ایسے مواد کی میزبانی کر رہی ہیں بلکہ اشتہارات، مونیٹائزیشن اور پلیٹ فارم سپورٹ کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں بھی کردار ادا کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چار بڑے پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر ۵۲۳؍ گانوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں ۲۱۰؍ گانے یوٹیوب پر، ۱۰۹؍ گانے اسپوٹیفائی پر، ۱۰۳؍ گانے میٹا میوزک لائبریری میں اور ۱۰۱؍ گانے ایپل میوزک پر موجود پائے گئے۔ تحقیق کے مطابق ان گانوں کی تخلیق اور اشاعت میں درجنوں فنکار اور میوزک چینلز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں سکڑتا حزب اختلاف، دس میں سے ۶؍ رکن اسمبلی کا تعلق این ڈی اے سے
سی ایس او ایچ کا کہنا ہے کہ صرف یوٹیوب پر موجود ان گانوں کو ۱۹۸؍ ملین سے زائد مرتبہ دیکھا گیا، جبکہ میٹا کے پلیٹ فارمز پر یہ گانے ۹ء۵؍ ملین سے زیادہ انسٹاگرام ریلز میں استعمال ہوئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً ہر دو میں سے ایک گانا مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کو فروغ دیتا یا اس پر اکساتا ہے۔ سی ایس او ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راقب نائیک نے کہا کہ ’’نفرت انگیز موسیقی بڑے پیمانے پر تشدد کے سب سے قدیم اور خطرناک آلات میں سے ایک ہے، اور ہم نے دیکھا ہے کہ یہ روانڈا سے میانمار تک کہاں لے جا سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جو چیز ہندوستان کے ہندوتوا نفرت انگیز مواد کو زیادہ خطرناک بناتی ہے وہ اس کی رسائی ہے۔ یہ کمپنیاں اور پلیٹ فارم ان فنکاروں کو عالمی سامعین، مالی وسائل اور مزید مواد تیار کرنے کے ذرائع فراہم کر رہے ہیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق یوٹیوب پر موجود ۲۱۰؍ گانوں میں سے ۱۰۴؍ گانے (۴۹؍ فیصد) ایسے ہیں جو براہ راست مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بھڑکانے یا دھمکی دینے والے مواد پر مشتمل ہیں۔ ان گانوں کو مجموعی طور پر ۹۷؍ ملین سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ باقی گانے اگرچہ براہ راست تشدد کی اپیل نہیں کرتے، تاہم وہ مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت، توہین آمیز زبان، غیر انسانی رویوں اور سازشی نظریات کو فروغ دیتے ہیں، جو سماجی کشیدگی اور حقیقی دنیا میں نقصان دہ رویوں کے لیے ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں اشتہاری نظام پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ۱۰۳؍ برانڈز کے اشتہارات نفرت انگیز قرار دی گئی ویڈیوز کے ساتھ دکھائے گئے۔ ان میں ۷۸؍ فیصد ایسے ویڈیوز تھے جو پالیسیوں کی مبینہ خلاف ورزی کر رہے تھے، جبکہ ۸۳؍ فیصد ویڈیوز میں تشدد سے متعلق مواد موجود تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کیرالا: آر ایس ایس تقریب میں تین وائس چانسلروں کی شرکت پر سیاسی ہنگامہ
سی ایس او ایچ نے جن اشتہاری اداروں اور برانڈز کا ذکر کیا ہے ان میں اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی، گوگل کا نوٹ بک ایل ایم، امیزون پرائم، اڈوبی، ڈیل، لیوائی، کیلوگس، فلپ کارٹ اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے نام قابل ذکر ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یوٹیوب کے ’’Super Thanks‘‘ فیچر، جس کے ذریعے ناظرین براہ راست مالی معاونت کر سکتے ہیں، مبینہ طور پر ۵۵؍ فیصد خلاف ورزی کرنے والے ویڈیوز پر فعال تھے۔ تحقیق کے مطابق Mayur Music نامی ایک چینل، جس پر ۲۵؍ خلاف ورزی کرنے والے گانے موجود تھے، کو یوٹیوب کا سلور کریئیٹر ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔
سی ایس او ایچ کا مؤقف ہے کہ اگرچہ یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کے پاس نفرت انگیز مواد سے متعلق واضح پالیسیاں موجود ہیں، لیکن ان کے نفاذ میں سنگین خامیاں پائی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یوٹیوب اب بھی ہندوستان سے تعلق رکھنے والی نفرت انگیز موسیقی کے لیے سب سے بڑا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے اختتام پر YouTube، Meta، Spotify اور Apple Music کے لیے سفارشات پیش کی گئی ہیں جن میں نفرت انگیز موسیقی کی نشاندہی، پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، مونیٹائزیشن روکنے، اشتہارات کی نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والے مواد کو ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ منظر عام پر آنے کے وقت تک مذکورہ پلیٹ فارمز کی جانب سے اس تحقیق پر کوئی جامع عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔