Updated: May 16, 2026, 11:07 PM IST
| New Delhi
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بور ڈ نے ناقابل قبول قرار دیا، کہا :یہ فیصلہ ’’سرکاری ریکارڈ، آرکیالوجیکل شواہد اور خود محکمہ آثار قدیمہ کے سابقہ موقف سے متصادم ہے‘‘
جمعیۃ علمائے ہند نے متنبہ کیا کہ ’’مسلمانوں کے اندیشے صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔‘‘ جماعت اسلامی نےبھی تشویش کا اظہار کیا،فیصلے کو ’’عدلیہ کے اعتبار ‘‘ پر سوالیہ نشان بتایا
دھار کی کمال مولیٰ مسجد پر عدالتی فیصلے کے بعد اکثریتی فرقہ کا قبضہ ہوگیا ہے۔ پولیس تعینات ہے
کمال مولیٰ مسجد کو سرسوتی کا مندر قراردینے کے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ نے ’’تاریخی حقائق، شواہد اور خود محکمہ آثار قدیمہ کے سابقہ موقف کے خلاف‘‘ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کرنے کے فیصلے کی تائید کی ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند نے اسے ’’اکثریتی سیاست کو عدالتی جواز‘‘ کے رجحان سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کےاندیشے صحیح ثابت ہورہے ہیں۔ جماعت اسلامی نے بھی اس غیر منصفانہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ یہ فیصلہ عدلیہ کے اعتبار پر سوالیہ نشان ہے۔
ہائی کورٹ کافیصلہ ناقابل قبول: پرسنل لاء بورڈ
آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے دھار میں کمال مولیٰ مسجد کے بارے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ کوغلط، غیر منصفانہ، تاریخی شواہد اور سرکاری ریکارڈز کے خلاف نیز خود محکمہ آثارِ قدیمہ کے سابقہ موقف سے متصادم قرار دیا۔بورڈ نے اس قانونی لڑائی میں کمال مولیٰ مسجد کمیٹی کے اس فیصلے کی تائیدکی کہ اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائےگا۔
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’ یہ فیصلہ تاریخی شواہد، تاریخی اور ریوینیو ریکارڈس، نوآبادیاتی دور کے دستاویزی ریکارڈ اور صدیوں پر محیط مسلم عبادت کے تسلسل کے برخلاف ہے۔اس کے علاوہ یہ فیصلہ عبادت گاہوں کے تحفظ قانون کی روح سے بھی راست متصادم ہے۔‘‘ بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کا سابقہ مؤقف بھی اس جگہ کی مشترکہ مذہبی حیثیت کو تسلیم کرتا تھا۔ اس کے علاوہ ۲۰۰۳ء کے انتظامی بندوبست کے تحت ہندوؤں کو منگل کو پوجا کی اجازت دی گئی جبکہ مسلمانوں کو جمعہ کی نماز ادا کی اجازت پہلے سے تھی۔ یہ بندوبست اس بات کا ثبوت تھا کہ محکمہ آثار قدیمہ دونوں برادریوں کے تاریخی دعووں اور عبادتی حقوق کو تسلیم کرتا تھا۔
تاریخی ریوینیو ریکارڈس میں بطور مسجد اندراج
بورڈ کے ترجمان نے بتایا کہ عدالت میں مسلم فریق کا مؤقف تھا کہ تاریخی ریونیو ریکارڈس میں اس عمارت کو مستقل طور پر مسجددرج کیا گیا ۔ ایسا کوئی ناقابلِ تردید تاریخی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ اسی مقام پر راجہ بھوج کے دور کا سرسوتی مندر تھا۔عدالت نے فیصلہ سناتے وقت ریونیو ریکارڈس، نوآبادیاتی دور کے سرکاری دستاویزات، گزیٹیئرز اور صدیوں پر محیط مسلمانوں کی عبادت کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے حالیہ سروے میںمسجد کی تعمیر میں مندر سے متعلق ستون، نقوش اور تعمیراتی اجزاء کو بطور ثبوت پیش کئے جانے پر پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ ’’یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ قرونِ وسطیٰ کی بہت سی اسلامی عمارتوں میں قدیم تعمیراتی مواد دوبارہ استعمال کیا گیا تھا، صرف مندر کے آثار مل جانا مسجد کی صدیوں پرانی حیثیت کو قانونی طور پر ختم نہیں کرتا اور کسی قدیم غیر اسلامی ڈھانچے کی موجودگی موجودہ مذہبی شناخت کا حتمی ثبوت نہیں بن سکتی۔
اندیشے صحیح ثابت ہورہے ہیں: جمعیۃ
جمعیۃ علمائے ہند نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمال مولیٰ مسجد کو مندر قرار دینا ان اندیشوں کو صحیح ثابت کررہاہے جو ۲۰۱۹ء کے بابری مسجد کیس کے فیصلے کے بعد ظاہر کئے گئے تھے۔ جمعیۃ علمائے ہند نے ’’پلیس آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء‘‘ کے تعلق سے سپریم کورٹ کے تبصرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ’’اکثریتی سیاست کو کس طرح عدالتی جواز‘‘ فراہم کیا جارہاہے۔
یہ عدلیہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے: جماعت اسلامی
جماعت اسلامی نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سنیچر کو جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ اس فیصلے سے عدالتی نظام کی ’’ساکھ‘‘، اقلیتی حقوق کے تحفظ، مذہبی آزادی اور ملک کے سیکولر کردار سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔جماعت اسلامی ہند کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے فیصلے پر تشویش ظاہر کی اور حساس مذہبی معاملات سے متعلق عدالتی کارروائیوں میں ’’انصاف اور معروضیت‘‘کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ’’عدالتی نظام کی ساکھ، اقلیتی حقوق، مذہبی آزادی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ملک کے سیکولر ڈھانچے پر سنگین اثرات مرتب کرے گا۔‘‘ا نہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل۲۵؍اور ۲۶؍کے تحت دیئے گئے مذہبی حقوق کے تحفظ کی ضمانتوں پر خدشات کو جنم دیتا ہے۔