گجرات میں انسدادِ انتہاپسندی کے نئے فریم ورک سے متعلق پولیس کے خفیہ دستاویز سے شہری حقوق پر سوالیہ نشان، عالمی مسائل پر گفتگو بھی انتہا پسندی کے طور پر دیکھی جائے گی۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 9:52 AM IST | New Delhi
گجرات میں انسدادِ انتہاپسندی کے نئے فریم ورک سے متعلق پولیس کے خفیہ دستاویز سے شہری حقوق پر سوالیہ نشان، عالمی مسائل پر گفتگو بھی انتہا پسندی کے طور پر دیکھی جائے گی۔
گجرات پولیس کی ایک مبینہ خفیہ دستاویز، جس میں انسدادِانتہاپسندی کے نئے فریم ورک کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، کے سامنے آنے کے بعد شہری حقوق کے علمبرداروں اور مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس دستاویز میں مسلمانوں کے مذہبی معمولات اور عالمی سطح پر مسلمانوں سے متعلق مسائل پراظہار تشویش کو بھی ممکنہ’’انتہاپسندی‘‘ کی علامات میں شامل کیا گیا ہے۔
’’خفیہ‘‘قرار دی گئی یہ دستاویزات، جنہیں مبینہ طورپر گجرات اسٹیٹ انٹیلی جنس بیورو (ایس آئی بی) نے تیار کیا ہے، حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے جبکہ گجرات حکومت نے بھی نہ ان کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔
یہ بھی پڑھئے: دہرادون میں ’چھاتروں کی گونج‘ کی اجازت عین وقت پر منسوخ
دستاویزات کے مطابق، گجرات محکمہ داخلہ نے ہر ضلع اور پولیس کمشنری میں اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل (اے آر سی) قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔۱۸؍مئی۲۰۲۶ء کے ایک سرکیولر میں پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) پر عمل درآمد کریں اور اپنی سرگرمیوں کی ماہانہ رپورٹ پیش کریں۔ ایس او پی کے مطابق، ’’ریڈیکلائزیشن‘‘ وہ عمل ہے جس میں افراد انتہاپسند نظریات اختیار کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ان سے متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے افراد کے رویے، ڈیجیٹل سرگرمیوں اور سماجی روابط پر نظر رکھے۔ دستاویز میں جن علامات کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں بار بار مسجد جانا، مذہبی گروپس سے زیادہ قربت اختیار کرنا، رمضان میں اعتکاف میں بیٹھنا،داڑھی رکھنا، نقاب پہننا، عربی انداز کے سلام کا زیادہ استعمال، مذہبی سرگرمیوں کیلئے تعلیم یا ملازمت چھوڑ دینا، دنیا بھر میں مسلمانوں سے متعلق واقعات پر تشویش ظاہر کرنا، افغانستان یا مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر گفتگو کرنا، سگنل یا وی پی این جیسی خفیہ پیغام رسانی کی ایپس استعمال کرنا اور افغانستان میں موجود افراد سے آن لائن رابطہ رکھنا شامل ہیں۔دستاویز میں ان علامات کے ساتھ ساتھ داعش کے پروپیگنڈہ مواد اپنے پاس رکھنے یا شیئر کرنے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سونم کی بھوک ہڑتال کا ۱۹؍ واں دن، حکومت تماشائی مگر عوامی حمایت میں اضافہ
انسانی حقوق کی کارکن شبنم ہاشمی نے اس مبینہ ایس او پی کو’’ریاستی سرپرستی میں فرقہ وارانہ پروفائلنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو اٹھائیں۔انہوں نے کہاکہ’’قومی سلامتی کے نام پر گجرات حکومت کھلے عام فرقہ وارانہ پروفائلنگ کو ادارہ جاتی شکل دے رہی ہے اور ریاستی مشینری کو عام مذہبی اور ثقافتی شناخت کو جرم بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہ آئین پر براہِ راست اور سنگین حملہ ہے۔‘‘انہوں نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہیں احمدآباد میں موجود صحافی سہل قریشی نے یہ دستاویز بھیجی ہے، جوانتہائی خطرناک ہے۔شبنم ہاشمی نے مزید کہاکہ انہوں نے اس دستاویز کا ترجمہ کرکے اسے میڈیا کے دفاتر اور سیاسی جماعتوںکو بھی بھیج دیا ہے۔