این سی پی (شرد)کی ورکنگ صدر اور مہاسنسدرتنا رکن پارلیمان سپریہ سلے نے ممبئی میں پریس کانفرنس نے کہا ہے کہ این سی پی( شرد) یا مہا وکاس اگھاڑی اسی صورت میں ’نئی حلقہ بندی بل‘ کی حمایت کر سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 10:24 AM IST | Mumbai
این سی پی (شرد)کی ورکنگ صدر اور مہاسنسدرتنا رکن پارلیمان سپریہ سلے نے ممبئی میں پریس کانفرنس نے کہا ہے کہ این سی پی( شرد) یا مہا وکاس اگھاڑی اسی صورت میں ’نئی حلقہ بندی بل‘ کی حمایت کر سکتے ہیں۔
این سی پی (شرد)کی ورکنگ صدر اور مہاسنسدرتنا رکن پارلیمان سپریہ سلے نے ممبئی میں پریس کانفرنس نے کہا ہے کہ این سی پی( شرد) یا مہا وکاس اگھاڑی اسی صورت میں ’نئی حلقہ بندی بل‘ کی حمایت کر سکتے ہیں جب اس بات کو یقین بنایاجائے کہ کشمیر سے کنیا کماری تک ملک کی ہر ریاست میں پارلیمانی سیٹوں کی تعداد میں ۵۰؍ فیصد کا اضافہ ہوگااور پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کس طرح ترتیب دی جائے گی اس کی بھی وضاحت ہو۔ سپریہ سلے نے غیر مصدقہ میڈیا رپورٹ پر اپنی برہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک این سی پی(شرد) یا مہا وکاس اگھاڑی نے نئی حد بندی بل کی حمایت کرنے اعلان نہیں کیا ہےاور نہ ہی اس ضمن میں کوئی باقائدہ بیان جاری کیا ہے۔
سپریہ سلے نے یہ بھی کہا کہ ’’ نئی حد بندی کے بل کی اب تک ہمیں کوئی کاپی موصول نہیں ہوئی ہے۔ اگر ملتی ہے تو انڈیا اتحاد اس پر بات چیت کر کے فیصلہ لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: بی ایل او کی ڈیوٹی سے پریشان ٹیچر کی خودکشی کی کوشش
انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’خواتین ریزرویشن بل پارلیمان میں متفقہ طور پر اور بلا مخالفت منظور ہو چکا ہے۔ اس کی منظوری کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجو نے اروند ساونت(ادھو شیو سینا)، اسد الدین اویسی ( اے آئی ایم آئی ایم) ا ور مجھے ( سریہ سلے) کو ایک میٹنگ کیلئے بلایاتھا۔ اس میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی موجود تھے۔میٹنگ میں کرن رجو جی نے ہمیں بتایا کہ ان کی سماجوادی، کانگریس اور ڈی ایم کے سے الگ الگ بات ہوئی ہے اور وہ نئی حد بندی بل کی حمایت دینے کیلئے راضی ہیں۔ہم نے انہیں بتایا کہ چونکہ یہ نئی حد بندی آبادی کے اعتبار سے کی جارہی ہے، اس لئے جنوبی ریاستوں کو ایسا لگتا ہے کہ اگر آبادی کے اعتبار سے پارلیمانی حلقوں کی نئی حد بندی کی گئی تو جنوب کی ریاستوں کے ساتھ نا انصافی ہوگی اور اسی لئے نئی حد بندی کے اس بل کی سبھی اپوزیشن پارٹیوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس لئے ہم نے اپیل کی تھی کہ آبادی کے اعتبار سے نہیں بلکہ کوئی اور بنیاد پر نئی حد بندی کرنے کے بارے میںغور کیاجائےجس سےکشمیر سے کنیا کماری تک بلا تفریق ہر ریاست میں ۵۰؍ فیصد سیٹ کا اضافہ ہو ۔
این سی پی کی کارگزار صدر کے بقول امیت شاہ کی میٹنگ میں ہم نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ سبھی اپوزیشن کو ایک ساتھ بلا کر اس بل پر تبادلۂ خیال کیاجائے ۔ الگ الگ بات نہ کی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی سینٹرل : دودھ والا کمپلکس کے ایک خاندان کے۳؍ افراد سڑک حادثہ میں جاںبحق
سپریہ سلے نےمہاراشٹر کی مثال دے کر سمجھا یا کہ مہاراشٹر میں ۴۸؍ سیٹ ہے اور اگر اس کی ۵۰؍ فیصد یعنی ۴۸؍جمع ۲۴؍ اس طرح ۷۲؍ پارلیمانی سیٹ ہونا چاہئے۔۷۲؍ممبران پارلیمنٹ میں سے تین سیٹیں ایس سی/ایس ٹی کمیونٹی کو دینی ہوں گی۔ خواتین کو۳۳؍ فیصد ریزرویشن دینے کے بعد۴۸؍سیٹیں اوپن کیٹیگری میں جائیں گی۔اور اسی طرح دیگر ریاستوں میں بھی ہو۔ لیکن اگر نئی حد بندی کا طریقہ بھی غیر جانبدارانہ ہونا چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ’’ آسام میں نئی حد بندی کے نام پر گوروو گوگوئی کے انتخابی حلقہ کی چیر پھاڑ کر دی گئی ۔اسی طرح پونے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے دتا دھن کھوڑےکے وارڈ کی بھی بری طرح تقسیم کی گئی جس اس کو شدید نقصان پہنچا۔‘‘