Updated: November 04, 2026, 8:11 PM IST
| London
رائل سوسائٹی آف لٹریچر نے ۷۶؍ سالہ شاعرہ گریس نکولس کو ۲۰۲۶ء کے ’پایونیئر پرائز‘ کے لیے منتخب کیا ہے۔ یہ اعزاز ان خواتین ادیبوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ۶۰؍ برس کی عمر کے بعد بھی ایسے ادبی ماحول میں اپنی شناخت بنائی جہاں خواتین کے لیے مواقع محدود تھے۔ نکولس کی شاعری میں کیریبین کی زبانی روایات، گیانا کی لوک کہانیاں، غلامی کی تاریخ اور برطانیہ میں نسل پرستی کے تجربات نمایاں ہیں۔
برطانوی شاعرہ گریس نکولس (Grace Nichols)۔ تصویر: ایکس
گیانا میں پیدا ہونے والی برطانوی شاعرہ گریس نکولس (Grace Nichols) نے رائل سوسائٹی آف لٹریچر (RSL) کا ۲۰۲۶ء کا ’پایونیئر پرائز‘ جیت لیا ہے۔ اس اعزاز کے ساتھ انہیں ۱۰؍ ہزار پاؤنڈ کی انعامی رقم بھی دی جائے گی۔ یہ انعام ان خواتین ادیبوں کی ادبی خدمات کو تسلیم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے ایسے دور میں ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا جب ادبی دنیا میں خواتین، بالخصوص مختلف نسلی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والی خواتین، کے لیے راستے نسبتاً محدود تھے۔ ۷۶؍ سالہ گریس نکولس ۱۹۷۷ء میں گیانا سے برطانیہ منتقل ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے کیریبین اور برطانوی معاشرے کے درمیان ثقافتی رشتوں، شناخت، نسل پرستی اور تاریخی یادداشت جیسے موضوعات کو ادبی اظہار دیا۔ ان کی پہلی نمایاں کتاب ’آئی اِز اے لانگ میموریڈ وومن‘ (I Is a Long-Memoried Woman) ۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی، جس نے انہیں دولتِ مشترکہ کا شعری انعام (Commonwealth Poetry Prize) دلایا۔ اس کے بعد ۱۹۸۴ء میں ان کا مجموعہ ’دی فیٹ بلیک وومنز پوئمز‘ (The Fat Black Woman’s Poems) شائع ہوا، جس نے ان کی ادبی شناخت کو مزید مستحکم کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی انتخابات: سینیٹ، کانگریس اور گورنری میں کئی تاریخی پہلی کامیابیاں
نکولس کی شاعری کی ایک نمایاں خصوصیت ان کی زبان ہے۔ وہ کریول (Creole) اور معیاری انگریزی کو اس انداز میں یکجا کرتی ہیں کہ ان کی تخلیقات میں کیریبین کی بول چال، مقامی لہجے، موسیقیت اور برطانوی معاشرے کے تجربات ایک ساتھ محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری میں گیانا کی لوک کہانیوں، زبانی روایات، قدرتی مناظر اور غلامی کی تاریخ کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے ایسے دور میں نسلی امتیاز اور سماجی کشیدگی پر بھی لکھا جب مارگریٹ تھیچر کے دور میں برطانیہ میں امیگریشن اور نسلی شناخت کے موضوعات پر سخت سیاسی بحث جاری تھی۔ انعام کے لیے قائم کردہ جیوری کی سربراہ اور انگلش پین (English PEN) کی چیئر روتھ بورتھوک نے نکولس کو عصر حاضر کی اہم ترین شاعرات میں سے ایک قرار دیا۔ ان کے مطابق نکولس نے کریول اور معیاری انگریزی کے امتزاج سے اپنی ایک منفرد شعری زبان تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکولس نے دنیا بھر میں پھیلے کیریبین نژاد ادیبوں کی نئی نسلوں کو یہ راستہ دکھایا کہ وہ کیریبین اور برطانیہ کے درمیان اپنے ثقافتی رشتوں کو شاعری کے ذریعے کس طرح بیان کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کولنز ڈکشنری نے ’Mogging‘ کو۲۰۲۶ء کا ’ورڈ آف دی ایئر‘ قرار دیا
جیوری کی رکن اور شاعرہ سارہ ہو نے بھی نکولس کو ایک ایسی ادبی شخصیت قرار دیا جس نے اپنی تخلیقات سے مختلف براعظموں اور ادبی روایات کو جوڑا۔ ان کے مطابق نکولس کی شاعری میں زبانی روایت کی روانی بھی ہے اور تحریری ادب کی فنی ساخت بھی۔ وہ کیریبین ورثے کی کہانیوں اور آہنگ کو جدید برطانوی زندگی کے منفرد تصور کے ساتھ ملاتی ہیں۔ ہو نے یہ بھی کہا کہ بچوں کے لیے نکولس کی تحریریں بھی اتنی ہی قابلِ قدر ہیں اور ان کے کام نے نئی نسلوں کے لیے شاعری سے لطف اندوز ہونے کے دروازے کھولے ہیں۔ گریس نکولس نے انعام ملنے پر خوشی اور حیرت کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق جب جیوری کی سربراہ روتھ بورتھوک نے فون کرکے انہیں انعام کا مستحق قرار دیے جانے کی اطلاع دی تو یہ ان کے لیے غیر متوقع خوشی تھی۔ انہوں نے کہا، “میں آر ایس ایل پایونیئر پرائز ملنے پر عزت افزائی اور خوشی محسوس کرتی ہوں اور شاعری کی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے بہت کچھ دیا۔ میں جیوری اور اپنے والدین کی بھی ممنون ہوں جنہوں نے ہماری زندگی میں کتابوں کو اہمیت دی۔” انہوں نے ’پایونیئر‘ کے لفظ کو اپنے طالب علمی کے زمانے کی ایک یاد سے بھی جوڑا، جب گیانا یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران انہیں گریجویشن سے قبل ایک ماہ کی قومی خدمت انجام دینی پڑی تھی۔