• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی انتخابات: سینیٹ، کانگریس اور گورنری میں کئی تاریخی پہلی کامیابیاں

Updated: November 04, 2026, 4:17 PM IST | Washington

امریکہ کے۳؍ نومبر ۲۰۲۶ء کے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ، ایوانِ نمائندگان اور ریاستی گورنری کے علاوہ دیگر منتخب عہدوں پر بھی کئی غیر معمولی کامیابیاں سامنے آئیں۔ مسلمان، سیاہ فام، مقامی امریکی، جنوبی ایشیائی، لاطینی اور ایل جی بی ٹی کیو پلس برادریوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے مختلف ریاستوں میں پہلی مرتبہ تاریخ رقم کی، جبکہ بعض انتخابی حلقوں میں تاریخی اعزازات کے حامل امیدواروں کے نتائج بدستور زیرِ انتظار رہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

امریکہ کے ۳؍ نومبر ۲۰۲۶ء کے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ کی نشستوں پر کئی اہم تاریخی کامیابیاں سامنے آئی ہیں۔ اس فہرست میں ان امیدواروں کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے پہلی مرتبہ منفرد کامیابی حاصل کی ہے۔ وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان (U.S. House of Representatives) کے لیے کئی امیدواروں نے کامیابی حاصل کرکے اپنی ریاستوں میں نئی تاریخ رقم کی۔ ان میں سیاہ فام، مسلم، مقامی امریکی، جنوبی ایشیائی، لاطینی اور ایل جی بی ٹی کیو پلس برادریوں سے تعلق رکھنے والے نمائندے شامل ہیں۔ ان انتخابات میں گورنروں کے انتخاب نے کئی دہائیوں سے قائم سیاسی ریکارڈ توڑ دیے۔ جارجیا میں پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں، نیو میکسیکو کو پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر ملیں، جبکہ فلوریڈا اور وسکونسن میں پہلی مرتبہ سیاہ فام گورنر منتخب ہوئے۔اس فہرست میں امریکی سینیٹ، ایوانِ نمائندگان اور ریاستی گورنروں کے علاوہ دیگر منتخب عہدوں پر کامیاب ہونے والی شخصیات بھی شامل ہیں۔ اس میں لیفٹیننٹ گورنر، اٹارنی جنرل، سیکریٹری آف اسٹیٹ، ریاستی محکموں کے سربراہان، ریاستی اسمبلیوں کے ارکان، یوٹیلیٹی ریگولیٹری کمیشن کے منتخب نمائندے اور کاؤنٹی سطح کے عہدیدار شامل ہیں۔


امریکی سینیٹ ۲۰۲۶ء میں تاریخ رقم 

1۔ Peggy Flanagan — پیگی فلاناگن
ریاست: مینیسوٹا | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: امریکی تاریخ میں سینیٹ کی رکن منتخب ہونے والی پہلی مقامی امریکی (Native American) خاتون۔
پیگی فلاناگن مینیسوٹا کی لیفٹیننٹ گورنر رہ چکی ہیں۔ وہ وہائٹ ارتھ بینڈ آف اوجیبوے (White Earth Band of Ojibwe) کی شہری ہیں اور مقامی امریکی برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے بچوں، خاندانوں اور مقامی برادریوں کے حقوق کے لیے کام کیا۔ وہ مینیسوٹا کی ریاستی اسمبلی کی رکن بھی رہ چکی ہیں اور 2019 سے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے پر فائز تھیں۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار مشیل ٹافویا کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست حاصل کی۔ ان کی کامیابی امریکی سیاست میں مقامی امریکی خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک غیر معمولی سنگ میل ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آر ایس ایف کی۲۰۲۶ء پریس کی آزادی مخالف فہرست میں اڈانی گرپ، اوپ انڈیا شامل

2۔ Chris Pappas — کرس پاپاس
ریاست: نیو ہیمپشائر | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: امریکی تاریخ میں کھلے طور پر ہم جنس پرست مرد کی حیثیت سے سینیٹ کا انتخاب جیتنے والے پہلے امیدوار۔
کرس پاپاس نیو ہیمپشائر سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن رہے ہیں۔ وہ ۲۰۱۸ء میں پہلی مرتبہ کانگریس کے لیے منتخب ہوئے اور ریاست کے سیاسی و عوامی معاملات میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سیاست کے علاوہ ان کا تعلق ایک معروف خاندانی کاروبار سے بھی ہے؛ ان کا خاندان مانچسٹر میں واقع ریستوراں Puritan Backroom چلاتا ہے۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار اور سابق سینیٹر جان ای سنونو کو شکست دی۔ ان کی کامیابی اس لیے تاریخی ہے کہ اس سے قبل امریکی سینیٹ میں کھلے طور پر ہم جنس پرست خاتون رکن موجود رہ چکی ہیں، لیکن کسی مرد نے اس شناخت کے ساتھ سینیٹ کا انتخاب نہیں جیتا تھا۔

3۔ Abdul El-Sayed — عبدل السید
ریاست: مشی گن | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: امریکی تاریخ میں سینیٹ کا انتخاب جیتنے والے پہلے مسلمان امریکی۔
عبدل السید مشی گن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر، وبائی امراض کے ماہر اور صحتِ عامہ کے شعبے کے سابق عہدیدار ہیں۔ وہ مصری تارکینِ وطن کے گھرانے میں پیدا ہوئے اور ڈیٹرائٹ کے مضافاتی علاقے میں پلے بڑھے۔ انہوں نے صحتِ عامہ کے شعبے میں کام کیا اور ڈیٹرائٹ کے محکمۂ صحت کی سربراہی بھی کی۔ ۲۰۱۸ء میں انہوں نے مشی گن کے گورنر کا انتخاب بھی لڑا تھا، تاہم کامیاب نہیں ہو سکے۔
۲۰۲۶ء میں انہوں نے ریپبلکن امیدوار اور سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست حاصل کی۔ ان کی کامیابی امریکی مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ وہ صحتِ عامہ، عام خاندانوں کے اخراجات میں کمی اور میڈیکیئر فار آل جیسے موضوعات کو اپنی سیاست کا اہم حصہ بناتے رہے ہیں۔

4۔ Juliana Stratton — جولیانا اسٹریٹن
ریاست: الینوائے | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: ان کی کامیابی کے بعد الینوائے امریکی تاریخ کی پہلی ریاست بن جائے گی جہاں سینیٹ میں بیک وقت دو ’’ویمن آف کلر‘‘ (Women of Colour) نمائندگی کریں گی۔ وہ سینیٹ میں خدمات انجام دینے والی چھٹی سیاہ فام خاتون بھی ہوں گی۔
جولیانا اسٹریٹن الینوائے کی لیفٹیننٹ گورنر رہ چکی ہیں۔ وہ ۲۰۱۹ء سے گورنر جے بی پرٹزکر کے ساتھ اس عہدے پر کام کر رہی تھیں۔ اس سے قبل وہ الینوائے کی ریاستی اسمبلی کی رکن رہیں اور قانون کے شعبے سے بھی وابستہ رہی ہیں۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار ڈان ٹریسی کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست حاصل کی۔ ان کی کامیابی کے بعد وہ سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ کے ساتھ الینوائے کی نمائندگی کریں گی۔ اس طرح پہلی مرتبہ کسی امریکی ریاست سے بیک وقت دو رنگ دار خواتین سینیٹ میں موجود ہوں گی۔ اس کے علاوہ سینیٹ میں سیاہ فام خواتین کی تعداد بھی پہلی مرتبہ تین ہو جائے گی؛ دیگر دو ارکان لیزا بلنٹ روچسٹر اور اینجیلا ایلس بروکس ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ جولیانا اسٹریٹن الینوائے سے سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون نہیں ہیں۔ کیرول موزلی براؤن ۱۹۹۲ء میں یہ اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ 

5۔ Mary Peltola — میری پیلٹولا
ریاست: الاسکا | ڈیموکریٹک پارٹی
گنتی جاری — ابتدائی برتری
ممکنہ تاریخی اعزاز: امریکی سینیٹ میں منتخب ہونے والی الاسکا کی پہلی مقامی (Alaska Native) شخصیت۔
میری پیلٹولا کا تعلق الاسکا کی مقامی یوپک (Yup’ik) برادری سے ہے۔ وہ ۲۰۲۲ء میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہوئی تھیں اور الاسکا کی پہلی مقامی امریکی رکنِ کانگریس بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ انہوں نے اس سے قبل الاسکا کی ریاستی اسمبلی میں بھی خدمات انجام دیں۔ ان کی سیاست میں مقامی آبادی کے حقوق، ماہی گیری، صحت اور الاسکا کی معیشت جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔
۲۰۲۶ء کے سینیٹ انتخاب میں ان کا مقابلہ ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیون سے ہے۔ ابتدائی نتائج میں پیلٹولا کو برتری حاصل ہوئی تھی۔ الاسکا پبلک میڈیا کے مطابق تقریباً ۱۱؍ فیصد پولنگ مقامات کے نتائج سامنے آنے پر انہیں ۱ء۵۴؍  فیصد جبکہ ڈین سلیون کو ۸ء۴۲؍  فیصد ووٹ ملے تھے۔ تاہم ریاست میں ووٹوں کی گنتی اور رینکڈ چوائس ووٹنگ کا عمل مکمل نہ ہونے کے باعث ان کی کامیابی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اگر وہ کامیاب ہوتی ہیں تو الاسکا کی پہلی مقامی امریکی سینیٹر بنیں گی۔ پیگی فلاناگن کے ساتھ وہ امریکی سینیٹ میں مقامی امریکی خواتین کی پہلی نمائندگی کا ایک اور تاریخی سنگ میل بھی قائم کریں گی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: جنگ کے خدشات کے پیش نظر شمالی شہرمیں ہنگامی تیاریاں تیز

 امریکی ایوانِ نمائندگان ۲۰۲۶ء میں تاریخ رقم 

1۔ Melat Kiros — میلات کیروس
ریاست: کولوراڈو | ڈیموکریٹک پارٹی | کانگریشنل ڈسٹرکٹ ون
تاریخی اعزاز: کولوراڈو سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون۔
میلات کیروس کی پیدائش ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں ہوئی۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ بچپن میں امریکہ منتقل ہوئیں اور ڈینور، کولوراڈو میں پرورش پائی۔ انہوں نے واشنگٹن کالج سے سیاسیات اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ نیویارک میں وکالت کے دوران فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں مضمون لکھنے کے بعد انہیں ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے عوامی پالیسی میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم شروع کی اور اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈینور میں بارسٹا کے طور پر بھی کام کرتی رہیں۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار کرسٹی پیٹرسن کو شکست دے کر کولوراڈو کے پہلے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے کامیابی حاصل کی۔ ۲۹؍ سالہ کیروس کی کامیابی اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کہ وہ ریاست کی کانگریشنل تاریخ میں پہلی سیاہ فام خاتون ہوں گی۔ 

2۔ Adam Hamawy — ایڈم حماوی
ریاست: نیو جرسی | ڈیموکریٹک پارٹی | کانگریشنل ڈسٹرکٹ: ۱۲
تاریخی اعزاز: نیو جرسی سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان۔
ایڈم حماوی پیشے کے اعتبار سے پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹیو سرجن ہیں اور امریکی فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا بچپن نیو جرسی میں گزرا۔ انہوں نے رٹگرز یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ عراق جنگ کے دوران وہ ایک کامبیٹ ٹراما سرجن کے طور پر تعینات رہے۔ ان کے زیرِ علاج رہنے والے زخمی فوجیوں میں مستقبل کی امریکی سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ بھی شامل تھیں۔
انہوں نے بوسنیا، ہیٹی، سوڈان، شام، لبنان اور فلسطین سمیت مختلف مقامات پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طبی خدمات انجام دیں۔ ۲۰۲۴ء اور ۲۵ء میں وہ غزہ میں بھی طبی مشن پر گئے تھے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار گریگ میل کو شکست دے کر نیو جرسی کے ۱۲؍ ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نشست حاصل کی۔ ان کی کامیابی ریاست میں مسلم امریکیوں کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ 

3۔ Claire Valdez — کلیئر والڈیز
ریاست: نیویارک | ڈیموکریٹک پارٹی | کانگریشنل ڈسٹرکٹ: ۷ 
تاریخی اعزاز: نیویارک سے امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی مقامی امریکی (Native American) خاتون۔
کلیئر والڈیز کا تعلق یسلٹا ڈیل سور پیوبلو (Ysleta del Sur Pueblo) سے ہے، جو امریکہ کی مقامی قبائلی برادریوں میں سے ایک ہے۔ وہ نیویارک کی ریاستی اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں اور ۲۰۲۴ء میں پہلی مرتبہ اسمبلی کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔ سیاست میں آنے سے قبل ان کا تعلق مزدور یونین کی سرگرمیوں سے رہا۔ انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی کے ملازمین کی یونین UAW Local 2110 میں کام کیا اور اپنے ساتھی کارکنوں کے حقوق کے لیے مذاکرات میں بھی حصہ لیا۔
انہوں نے نیویارک کے ساتویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے کامیابی حاصل کی۔ ان کا انتخاب نیویارک کی سیاسی تاریخ میں مقامی امریکی برادری کی نمائندگی کا اہم اضافہ ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ ریاست سے امریکی کانگریس میں پہنچنے والی پہلی مقامی امریکی خاتون بن گئی ہیں۔ 

4۔ Jeremy Moss — جیریمی ماس
ریاست: مشی گن | ڈیموکریٹک پارٹی | کانگریشنل ڈسٹرکٹ: ۱۱
تاریخی اعزاز: مشی گن کی جانب سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والے پہلے کھلے طور پر LGBTQ+ شناخت رکھنے والے نمائندے۔
جیریمی ماس مشی گن کے تجربہ کار قانون ساز ہیں۔ وہ ریاستی سینیٹ کے رکن رہ چکے ہیں اور اس سے قبل ساؤتھ فیلڈ سٹی کونسل میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ مشی گن کے پہلے کھلے طور پر ہم جنس پرست ریاستی سینیٹر بھی تھے۔ ان کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور وہ انتخابی اصلاحات، شہری حقوق اور عوامی سہولتوں سے متعلق معاملات پر سرگرم رہے ہیں۔
انہوں نے ٹرائے شہر کے میئر ایتھن بیکر کو شکست دے کر مشی گن کے ۱۱؍ ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے کامیابی حاصل کی۔ ان کی کامیابی کے بعد پہلی مرتبہ مشی گن کی امریکی کانگریسی نمائندگی میں ایک کھلے طور پر LGBTQ+ شناخت رکھنے والا رکن شامل ہوگا۔ 

5۔ Pia Dandiya — پیا ڈانڈیا
ریاست: فلوریڈا | ڈیموکریٹک پارٹی | کانگریشنل ڈسٹرکٹ: ۲۲
تاریخی اعزاز: فلوریڈا کی جانب سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والی پہلی جنوبی ایشیائی (South Asian) شخصیت۔
پیا ڈانڈیا کا تعلق پام بیچ کاؤنٹی، فلوریڈا سے ہے اور ان کے والدین کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے تدریس کے شعبے میں کام کیا اور نیویارک کے علاقے ہارلم میں ہائی اسکول کی پرنسپل بھی رہیں۔ بعد ازاں وہ وہائٹ ہاؤس فیلوشپ پروگرام سے وابستہ ہوئیں اور امریکی محکمۂ تعلیم میں کام کیا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنی ایپل میں بھی خدمات انجام دیں۔
انہوں نے فلوریڈا کے ۲۲؍ ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ریپبلکن امیدوار کیسی اسکر کو شکست دی۔ یہ ایک نئی تشکیل شدہ نشست تھی، جس کی انتخابی حدود حال ہی میں تبدیل کی گئی تھیں۔ ان کی کامیابی فلوریڈا میں جنوبی ایشیائی برادری کی سیاسی نمائندگی کے لیے پہلی مثال ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ وہ امریکہ کی پہلی ہندوستانی نژاد خاتون رکنِ کانگریس نہیں ہیں؛ ان کا مخصوص تاریخی اعزاز فلوریڈا کی نمائندگی سے متعلق ہے۔ 

6۔ Denise Powell — ڈینس پاول
ریاست: نیبراسکا | ڈیموکریٹک پارٹی | کانگریشنل ڈسٹرکٹ: ۲
تاریخی اعزاز: نیبراسکا سے امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی لاطینی خاتون (Latina) اور ریاست کی پہلی خاتون جو دوسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کریں گی۔
ڈینس پاول نیبراسکا کے شہر اوماہا سے تعلق رکھنے والی سیاسی منتظم اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ روایتی معنوں میں طویل عرصے سے سیاست دان نہیں رہی ہیں، تاہم ریاست میں عوامی مسائل اور شہری حقوق سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ ۲۰۲۴ء میں انہوں نے کم از کم اجرت میں اضافے اور تنخواہ کے ساتھ بیماری کی چھٹیوں سے متعلق عوامی مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار برنکر ہارڈنگ اور لبرٹیرین امیدوار ایرک فورمین کو شکست دے کر نیبراسکا کے دوسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نشست حاصل کی۔ ان کی کامیابی کے بعد وہ نیبراسکا کی پہلی لاطینی خاتون ہوں گی جو امریکی کانگریس میں ریاست کی نمائندگی کریں گی۔ وہ اس نشست پر ڈان بیکن کی جگہ لیں گی، جنہوں نے دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 

7۔ Jonathan Nez — جوناتھن نیز
ریاست: ایریزونا | ڈیموکریٹک پارٹی | کانگریشنل ڈسٹرکٹ: ۲
گنتی جاری — معمولی برتری
ممکنہ تاریخی اعزاز: ایریزونا سے امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مقامی امریکی (Native American) نمائندے۔
جوناتھن نیز کا تعلق ناواجو (Navajo) قوم سے ہے۔ وہ ناواجو نیشن کے سابق صدر رہ چکے ہیں اور اس حیثیت میں قبائلی حقوق، مقامی آبادی کی ترقی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کے معاملات پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ ناواجو قوم کی نمائندگی اور قبائلی حکومت کے معاملات سے وابستہ رہا ہے۔
اگر نیز کامیاب ہوتے ہیں تو وہ ایریزونا کی تاریخ میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مقامی امریکی نمائندے بن جائیں گے۔ ان کی کامیابی ناواجو قوم اور ریاست کی مقامی برادریوں کی قومی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔ 


امریکی ریاستوں کے گورنر ۲۰۲۶ء، تاریخ رقم 

1۔ Deb Haaland — ڈیب ہالینڈ
ریاست: نیو میکسیکو | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: امریکی تاریخ میں ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی مقامی امریکی (Native American) خاتون۔
ڈیب ہالینڈ کا تعلق نیو میکسیکو کے لگونا پیوبلو (Laguna Pueblo) قبیلے سے ہے۔ وہ ۲۰۱۸ء میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والی پہلی دو مقامی امریکی خواتین میں شامل تھیں۔ بعد ازاں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں وزیرِ داخلہ مقرر ہوئیں اور امریکہ کی تاریخ میں کسی وفاقی کابینہ کے محکمے کی سربراہی کرنے والی پہلی مقامی امریکی شخصیت بنیں۔
سیاست میں آنے سے قبل انہوں نے قبائلی انتظامیہ، چھوٹے کاروبار اور مقامی برادریوں کے مسائل پر کام کیا۔ وہ ایک واحد والدہ کے طور پر اپنے بچے کی پرورش کے ساتھ اپنی چھوٹی کاروباری سرگرمی بھی چلاتی رہی ہیں۔ گورنر کے انتخاب میں انہوں نے ریپبلکن امیدوار گریگ ہل کو شکست دی۔ ان کی کامیابی مقامی امریکی آبادی کی قومی سیاسی نمائندگی کے لیے ایک اہم تاریخی پیش رفت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ریڈٹ نے آسٹریلیا کی ۱۶؍ سال سے کم عمر کے سوشل میڈیا پابندی کوغیر موثر قرار دیا

2۔ Keisha Lance Bottoms — کیشا لانس باٹمز
ریاست: جارجیا | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: امریکہ کی تاریخ میں گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون۔ وہ جارجیا کی پہلی خاتون گورنر اور ریاست کی پہلی غیر سفید فام گورنر بھی ہوں گی۔
کیشا لانس باٹمز امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا کی سابق میئر ہیں۔ انہوں نے ۲۰۱۸ء سے ۲۰۲۲ء تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔ ان کے دورِ میئر شپ میں اٹلانٹا کو کووڈ ۱۹؍ وبا، نسلی انصاف کے مطالبات اور پولیس اصلاحات سے متعلق ملک گیر بحث جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا رہا۔ وہ شہری انتظامیہ اور عوامی پالیسی کے معاملات میں قومی سطح پر بھی نمایاں ہوئیں۔
بعد ازاں انہوں نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں وہائٹ ہاؤس کی سینئر مشیر کی حیثیت سے کام کیا۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار اور کاروباری شخصیت رک جیکسن کو شکست دے کر جارجیا کی گورنر شپ حاصل کی۔ ان کی کامیابی کے ساتھ ریاست میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کی بھی واپسی ہوئی ہے۔ جارجیا کے سابق ۸۳؍ گورنر سفید فام مرد تھے، اس لیے یہ کامیابی ریاست کی سیاسی تاریخ میں غیر معمولی تبدیلی کی علامت ہے۔ 

3۔ Byron Donalds — بائرن ڈونالڈز
ریاست: فلوریڈا | ریپبلکن پارٹی
تاریخی اعزاز: فلوریڈا کے پہلے سیاہ فام گورنر اور امریکی تاریخ میں ریپبلکن پارٹی سے منتخب ہونے والے پہلے سیاہ فام گورنر۔
بائرن ڈونالڈز نیویارک کے بروکلین علاقے میں پیدا ہوئے اور ایک واحد والدہ کے زیرِ سایہ پرورش پائی۔ تعلیم کے لیے فلوریڈا منتقل ہونے کے بعد وہ اسی ریاست کی سیاست میں سرگرم ہوئے۔ انہوں نے کاروباری شعبے میں کام کیا اور بعد ازاں فلوریڈا کی ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ۲۰۲۰ء میں وہ امریکی ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہوئے اور کانگریس میں فلوریڈا کی نمائندگی کرتے رہے۔
ریپبلکن پارٹی کے نمایاں قدامت پسند رہنماؤں میں شمار ہونے والے ڈونالڈز کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ انہوں نے ڈیموکریٹک امیدوار ڈیوڈ جولی کو شکست دے کر گورنر کا انتخاب جیتا۔ ان کی کامیابی کے ساتھ فلوریڈا کی تقریباً دو صدیوں پر محیط گورنری تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاہ فام شخصیت اس عہدے تک پہنچی ہے۔ قومی سطح پر بھی ان کا انتخاب اس لیے اہم ہے کہ وہ ریپبلکن پارٹی سے منتخب ہونے والے پہلے سیاہ فام گورنر ہوں گے۔

4۔ David Crowley — ڈیوڈ کراؤلی
ریاست: وسکونسن | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: وسکونسن کی ۱۷۸؍ سالہ تاریخ میں پہلے سیاہ فام گورنر۔
ڈیوڈ کراؤلی کا تعلق وسکونسن کے شہر ملواکی سے ہے۔ ان کا بچپن معاشی مشکلات، غربت اور رہائش کے عدم تحفظ میں گزرا۔ انہوں نے سماجی اور کمیونٹی آرگنائزنگ کے شعبے سے اپنی عوامی زندگی کا آغاز کیا اور بعد ازاں وسکونسن کی ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ۲۰۲۰ء میں وہ ملواکی کاؤنٹی کے ایگزیکٹو منتخب ہوئے اور اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے سیاہ فام شخص اور اس وقت کے سب سے کم عمر عہدیدار بنے۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار اور امریکی رکنِ کانگریس ٹام ٹفنی کو شکست دے کر گورنر کا انتخاب جیتا۔ ان کی انتخابی مہم میں مہنگائی، صحت کی سہولتوں، سرکاری اسکولوں کی مالی معاونت اور بچوں کی نگہداشت جیسے معاملات نمایاں رہے۔ ان کی کامیابی وسکونسن کی سیاسی تاریخ میں نسلی نمائندگی کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی ہے۔

5۔ Gina Hinojosa — جینا ہینوجوسا
ریاست: ٹیکساس | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: ٹیکساس کی تاریخ میں گورنر منتخب ہونے والی پہلی لاطینی خاتون (Latina)۔
جینا ہینوجوسا ٹیکساس کے شہر آسٹن سے تعلق رکھنے والی وکیل اور سیاست دان ہیں۔ وہ ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کی رکن رہی ہیں اور عوامی تعلیم، اساتذہ کے حقوق اور سرکاری اسکولوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی جیسے موضوعات پر سرگرم رہی ہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے وکالت کے شعبے میں کام کیا اور آسٹن کے تعلیمی نظام سے بھی وابستہ رہیں۔
انہوں نے ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر ریاست کا اعلیٰ ترین انتخابی عہدہ حاصل کیا۔ ان کی کامیابی نے ٹیکساس میں ریپبلکن پارٹی کی تقریباً تین دہائیوں سے جاری گورنری کو بھی ختم کر دیا۔ ہینوجوسا کی کامیابی کا خاص پہلو یہ ہے کہ وہ ریاست کی پہلی لاطینی گورنر ہوں گی، جبکہ اس سے پہلے ٹیکساس میں کسی لاطینی خاتون نے یہ منصب حاصل نہیں کیا تھا۔ 

6۔ Xavier Becerra — زاویر بیسیرا
ریاست: کیلیفورنیا | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: کیلیفورنیا کی تاریخ میں براہِ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے پہلے لاطینی گورنر۔
زاویر بیسیرا کی پیدائش کیلیفورنیا کے شہر سیکرامینٹو میں میکسیکن نژاد محنت کش والدین کے گھر ہوئی۔ انہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے معاشیات اور قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکالت سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔ وہ ۱۹۹۳ء سے ۲۰۱۷ء تک امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن رہے۔ اس دوران انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔
۲۰۱۷ء میں وہ کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل بنے اور ریاست کی تاریخ کے پہلے لاطینی اٹارنی جنرل قرار پائے۔ بعد ازاں صدر جو بائیڈن کی کابینہ میں وزیرِ صحت و انسانی خدمات (Health and Human Services) مقرر ہوئے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار اسٹیو ہلٹن کو شکست دے کر گورنر کا انتخاب جیتا۔
یہاں ایک اہم تاریخی وضاحت ضروری ہے: کیلیفورنیا میں اس سے پہلے روموالدو پیچیکو نامی لاطینی گورنر گزر چکے ہیں، لیکن انہوں نے ۱۸۷۵ء میں اپنے پیشرو کے عہدہ چھوڑنے کے بعد گورنر کا منصب سنبھالا تھا۔ وہ براہِ راست عوامی ووٹ سے اس عہدے کے لیے منتخب نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے بیسیرا کا مخصوص اعزاز ریاست کے پہلے براہِ راست منتخب لاطینی گورنر کا ہے۔ 

7۔ Amy Acton — ایمی ایکٹن
ریاست: اوہائیو | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: اوہائیو کی تاریخ میں براہِ راست انتخاب کے ذریعے گورنر بننے والی پہلی خاتون اور ریاست کی پہلی یہودی گورنر۔
ڈاکٹر ایمی ایکٹن پیشے کے اعتبار سے معالج اور صحتِ عامہ کی ماہر ہیں۔ انہوں نے اوہائیو کے محکمۂ صحت کی ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ۲۰۲۰ء میں کووڈ ۱۹؍ وبا کے دوران ریاست کی صحت عامہ کی حکمتِ عملی میں اہم کردار ادا کیا۔ وبا کے دنوں میں گورنر مائیک ڈی وائن کے ساتھ ان کی روزانہ کی پریس بریفنگز نے انہیں ریاست بھر میں پہچان دلائی۔
ایکٹن نے ریپبلکن امیدوار وویک راماسوامی کو شکست دی۔ ان کی کامیابی کے بعد اوہائیو میں پہلی مرتبہ کوئی خاتون عوامی ووٹوں کے ذریعے گورنر منتخب ہوئی ہے۔ ان کی یہودی شناخت کے حوالے سے بھی یہ ریاستی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ کوئی یہودی شخصیت گورنر کے عہدے پر فائز ہوگی۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے نینسی ہالسٹر نے ۱۹۹۹ء میں مختصر مدت کے لیے جانشینی کے ذریعے گورنر کے فرائض انجام دیے تھے، لیکن وہ براہِ راست اس منصب کے لیے منتخب نہیں ہوئی تھیں۔

8۔ Amy Klobuchar — ایمی کلوبوچر
ریاست: مینیسوٹا | ڈیموکریٹک پارٹی
تاریخی اعزاز: مینیسوٹا کی تاریخ میں پہلی خاتون گورنر۔
ایمی کلوبوچر امریکی سیاست کی تجربہ کار ڈیموکریٹ لیڈر ہیں۔ وہ ۲۰۰۷ء سے مینیسوٹا کی امریکی سینیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اس سے پہلے وہ ہینپِن کاؤنٹی کی اٹارنی رہ چکی ہیں، جہاں انہوں نے ریاست کے سب سے بڑے پراسیکیوٹر کے دفتر کی سربراہی کی۔ انہوں نے ییل یونیورسٹی سے گریجویشن اور شکاگو یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
وہ ۲۰۲۰ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار بننے کی دوڑ میں بھی شامل رہی تھیں۔ ۲۰۲۶ء میں انہوں نے مینیسوٹا کے گورنر کا انتخاب لڑا اور ریپبلکن امیدوار لیزا ڈیموتھ کو شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ ریاست کی پہلی خاتون گورنر بنیں گی۔ ان کی انتخابی مہم میں سرکاری محکموں میں بدعنوانی کی روک تھام، مہنگائی، صحت اور رہائش کے اخراجات جیسے مسائل نمایاں رہے۔ 

9۔ Marsha Blackburn — مارشا بلیک برن
ریاست: ٹینیسی | ریپبلکن پارٹی
تاریخی اعزاز: ٹینیسی کی تاریخ میں پہلی خاتون گورنر۔
مارشا بلیک برن امریکی ریپبلکن پارٹی کی طویل عرصے سے سرگرم رہنما ہیں۔ وہ ۲۰۱۸ء میں ٹینیسی سے امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والی پہلی خاتون بنی تھیں۔ اس سے پہلے وہ ۲۰۰۳ء سے ۲۰۱۹ء تک امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن رہیں۔ انہوں نے اس سے قبل ٹینیسی کی ریاستی سیاست میں بھی حصہ لیا اور کاروباری شعبے سے وابستہ رہیں۔
بلیک برن نے ڈیموکریٹک امیدوار جیری گرین کو شکست دے کر ٹینیسی کی گورنر شپ حاصل کی۔ ان کی کامیابی کے ساتھ ریاست کی تقریباً دو سو سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی خاتون گورنر کے منصب پر پہنچے گی۔ ان کی انتخابی مہم میں قدامت پسند سیاسی نظریات، سرکاری اخراجات میں کمی اور تعلیمی پالیسی کے معاملات نمایاں رہے۔ 

10۔ Aaron Ford — آرون فورڈ
ریاست: نیواڈا | ڈیموکریٹک پارٹی
ووٹوں کی گنتی جاری ہے
ممکنہ تاریخی اعزاز: نیواڈا کا پہلا سیاہ فام گورنر منتخب ہونا۔
آرون فورڈ نیواڈا کے اٹارنی جنرل ہیں اور اس سے پہلے ریاستی سینیٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے فورڈ نے اپنے سیاسی سفر میں فوجداری انصاف، عوامی تحفظ اور شہری حقوق جیسے معاملات پر کام کیا ہے۔ وہ نیواڈا کے اٹارنی جنرل منتخب ہونے والے پہلے سیاہ فام شخص بھی ہیں۔
۲۰۲۶ء کے انتخاب میں ان کا مقابلہ ریپبلکن گورنر جو لومبارڈو سے ہے۔ یہ مقابلہ ملک کے انتہائی اہم اور سخت مقابلوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اگر فورڈ کامیاب ہوتے ہیں تو وہ نیواڈا کے پہلے سیاہ فام گورنر بن جائیں گے۔ تاہم، مقابلے کی سخت نوعیت اور ووٹوں کی گنتی کے باعث ان کی کامیابی کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔ ابتدائی سیاسی اندازوں اور انتخابی نتائج میں فرق ہوتا ہے؛ اس لیے انہیں فی الحال کسی تصدیق شدہ برتری کے ساتھ پیش نہیں کیا جا رہا۔ 

گورنروں کے انتخابات سے جڑے اجتماعی تاریخی سنگِ میل
انفرادی کامیابیوں کے علاوہ ۲۰۲۶ء کے انتخابات نے امریکی گورنری کی تاریخ میں دو بڑے اجتماعی ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں:

1۔ پہلی مرتبہ بیک وقت چار سیاہ فام گورنر
جارجیا کی کیشا لانس باٹمز، فلوریڈا کے بائرن ڈونالڈز اور وسکونسن کے ڈیوڈ کراؤلی، میری لینڈ کے دوبارہ منتخب ہونے والے گورنر ویس مور کے ساتھ شامل ہوں گے۔ اس طرح امریکہ میں پہلی مرتبہ بیک وقت کم از کم چار سیاہ فام گورنر خدمات انجام دیں گے۔
2۔ دو بڑی ریاستوں میں پہلی لاطینی خواتین اور شخصیات کی کامیابی
ٹیکساس میں جینا ہینوجوسا اور کیلیفورنیا میں زاویر بیسیرا کی کامیابی نے لاطینی برادری کی سیاسی نمائندگی کو نئی سطح پر پہنچایا۔ ٹیکساس کو پہلی لاطینی خاتون گورنر ملیں گی، جبکہ کیلیفورنیا میں پہلی مرتبہ براہِ راست منتخب لاطینی گورنر منصب سنبھالیں گے۔ 

دیگر منتخب عہدے ۲۰۲۶ء، تاریخ رقم 

1۔ Josh McLaurin — جوش میک لورین
ریاست: جارجیا | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: لیفٹیننٹ گورنر
تاریخی کارنامہ: جارجیا کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے پر ۲۰۰۷ء کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کا کوئی رہنما فائز ہوگا۔ وہ ریاستی سینیٹ کی صدارت کرنے والے بھی ۲۰۰۷ء کے بعد پہلے ڈیموکریٹ ہوں گے۔ یہ جماعتی اور سیاسی سنگِ میل ہے، نسلی یا صنفی تاریخی اعزاز نہیں۔
جوش میک لورین وکیل اور جارجیا کی ریاستی سینیٹ کے رکن ہیں۔ وہ اس سے پہلے ریاستی ایوانِ نمائندگان میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یونیورسٹی آف جارجیا سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ییل لا اسکول سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ نجی شعبے میں وہ ایک ایئرلائن کمپنی کے قانونی مشیر بھی رہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار گریگ ڈولیزال کو شکست دے کر لیفٹیننٹ گورنر کا انتخاب جیتا۔ 

2۔ Vikki Goodwin — وکی گڈون
ریاست: ٹیکساس | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: لیفٹیننٹ گورنر
تاریخی کارنامہ: ٹیکساس کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ گورنر۔ اس عہدے کے ساتھ وہ ریاستی سینیٹ کی صدارت کرنے والی بھی پہلی خاتون ہوں گی۔ وہ ۱۹۹۴ء کے بعد اس منصب پر منتخب ہونے والی پہلی ڈیموکریٹ بھی ہیں۔
وکی گڈون ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کی رکن رہی ہیں۔ وہ ۲۰۱۸ء میں پہلی مرتبہ ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہوئیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ رئیل اسٹیٹ بروکر اور چھوٹے کاروبار کی مالک تھیں۔ ان کی والدہ ڈلاس کے تعلیمی بورڈ میں خدمات انجام دے چکی ہیں، جس سے انہیں ریاستی سطح پر تعلیم اور اسکولوں کی مالی معاونت کے معاملات میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ انہوں نے طویل عرصے سے عہدے پر فائز ریپبلکن ڈین پیٹرک کو شکست دے کر انتخابی تاریخ رقم کی۔ 

3۔ Tanya Miller — تانیا ملر
ریاست: جارجیا | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: اٹارنی جنرل
تاریخی کارنامہ: جارجیا کی پہلی خاتون اٹارنی جنرل اور اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون۔ وہ ریاست کی دوسری سیاہ فام اٹارنی جنرل بھی ہوں گی۔
تانیا ملر وکیل اور سابق پراسیکیوٹر ہیں۔ وہ جارجیا کی ریاستی اسمبلی کے ایوانِ نمائندگان کی رکن رہ چکی ہیں اور ایوان میں ڈیموکریٹک کاکس کی سربراہی بھی کر چکی ہیں۔ ان کے قانونی تجربے میں وفاقی پراسیکیوٹر کی حیثیت سے کام کرنا اور فلٹن کاؤنٹی میں قتل اور جنسی جرائم کے مقدمات کی پیروی شامل ہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار برائن اسٹرک لینڈ کو شکست دی۔ ان کی انتخابی مہم میں جرائم کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی، صارفین کے حقوق اور حکومتی احتساب نمایاں موضوعات رہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیا محض۵؍ ہزار روپے میں کسان دیوالی منائیں گے؟: آدتیہ ٹھاکرے


4۔ Penny Brown Reynolds — پینی براؤن رینالڈز
ریاست: جارجیا | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: سیکریٹری آف اسٹیٹ
تاریخی کارنامہ: جارجیا کی تاریخ میں سیکریٹری آف اسٹیٹ منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون۔ وہ اس عہدے پر عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام شخصیت بھی ہیں۔
پینی براؤن رینالڈز سابق جج، وکیل، پروفیسر اور سماجی رہنما ہیں۔ وہ تقریباً ایک دہائی تک فلٹن کاؤنٹی کی ریاستی عدالت میں جج رہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے جارجیا کے سابق گورنر رائے بارنس کے قانونی مشیر کے طور پر کام کیا۔ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں وہ امریکی محکمۂ زراعت کے دفتر برائے شہری حقوق سے وابستہ رہیں اور قائم مقام اسسٹنٹ سیکریٹری سمیت اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ ٹیلی ویژن پروگرام Family Court with Judge Penny کی میزبان بھی رہ چکی ہیں۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار ٹم فلیمنگ کو شکست دی۔ ایک اہم تاریخی فرق یہ ہے کہ رابن کرٹینڈن اس سے پہلے جارجیا کی پہلی سیاہ فام سیکریٹری آف اسٹیٹ مقرر ہوئی تھیں، لیکن وہ عوامی انتخاب کے ذریعے نہیں بلکہ گورنر کی جانب سے تقرری کے بعد اس منصب پر پہنچی تھیں۔ پینی براؤن رینالڈز نے یہ اعزاز براہِ راست انتخاب جیت کر حاصل کیا۔ 

5۔ Lydia Powell — لیڈیا پاول
ریاست: جارجیا | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: ریاستی سپرنٹنڈنٹ آف اسکولز
تاریخی کارنامہ: جارجیا کے سرکاری تعلیمی نظام کی سربراہی کرنے والی پہلی سیاہ فام خاتون۔ وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد اس عہدے پر آنے والی پہلی ڈیموکریٹ بھی ہوں گی۔
لیڈیا پاول شعبۂ تعلیم سے طویل عرصے سے وابستہ ہیں۔ وہ استاد، تعلیمی منتظم، اسسٹنٹ پرنسپل اور یونیورسٹی کی معاون پروفیسر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ ان کے تدریسی تجربے میں فلوریڈا اور جارجیا کے مختلف اسکول شامل ہیں، جہاں انہوں نے کم آمدنی والے علاقوں اور خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے طلبہ کے ساتھ بھی کام کیا۔ ان کے پاس فلوریڈا اے اینڈ ایم یونیورسٹی، فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سرسٹا سے تعلیمی اسناد ہیں، جبکہ انہوں نے تعلیمی قیادت میں ڈاکٹریٹ بھی حاصل کی ہے۔

6۔ Nikki Porcher — نکی پورچر
ریاست: جارجیا | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: لیبر کمشنر
تاریخی کارنامہ: امریکہ کی تاریخ میں ریاستی سطح پر لیبر کمشنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون۔
نکی پورچر سابق امریکی فضائیہ اہلکار، معلمہ اور سماجی ادارے کی بانی ہیں۔ فوجی خدمات کے بعد انہوں نے تعلیم حاصل کی اور سرکاری اسکول میں آرٹ ٹیچر کے طور پر کام کیا۔ ایک واحد والدہ کے طور پر اپنے بچوں کی پرورش کے ساتھ انہوں نے کاروباری اور سماجی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔ ۲۰۱۶ء میں انہوں نے Buy From A Black Woman کے نام سے ایک غیر منافع بخش ادارہ قائم کیا، جس کا مقصد سیاہ فام خواتین کے کاروباروں کو تربیت، مالی معاونت، تشہیر اور کاروباری روابط فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار اور موجودہ لیبر کمشنر باربرا ریویرا ہومز کو شکست دی۔ پورچر کی کامیابی صرف جارجیا تک محدود نہیں بلکہ پورے امریکہ میں ریاستی سطح پر لیبر کمشنر کے عہدے پر سیاہ فام خواتین کی نمائندگی کا پہلا واقعہ ہے۔ 

7۔ Bentley Hudgins — بینٹلی ہڈگنز
ریاست: جارجیا | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: جارجیا جنرل اسمبلی، ایوانِ نمائندگان
تاریخی کارنامہ: جارجیا کی ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والے پہلے کھلے طور پر ٹرانس جینڈر اور نان بائنری شخص۔ وہ ریاستی اسمبلی کے پہلے جاپانی نژاد امریکی رکن بھی ہوں گے۔
بینٹلی ہڈگنز کمیونٹی آرگنائزر اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔ وہ ہیومن رائٹس کمپین (Human Rights Campaign) کے جارجیا اسٹیٹ ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ ان کی سماجی سرگرمیوں میں ووٹنگ کے حقوق، ویکسین تک رسائی، رہائش کے مسائل، تشدد سے متاثرہ محلوں کی بہتری اور مقامی آبادی کی ضروریات کو حکومتی اداروں تک پہنچانا شامل رہا ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم میں قابلِ برداشت رہائش، بہتر ٹرانسپورٹ، روزگار اور بنیادی شہری سہولتوں کو اہمیت دی۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار سمانتھا بوسٹن کو شکست دے کر جارجیا کے ایوانِ نمائندگان کے ڈسٹرکٹ ۹۰؍ سے کامیابی حاصل کی۔ وہ they/them ضمیر استعمال کرتے ہیں۔ ان کی کامیابی امریکی جنوب کی ریاستوں میں LGBTQ+ سیاسی نمائندگی کے لیے ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔ 

8۔ Jyot Singh — جیوت سنگھ
ریاست: جارجیا | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: جارجیا جنرل اسمبلی، ایوانِ نمائندگان
تاریخی کارنامہ: جارجیا کی ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والے پہلے سکھ امریکی اور پہلے ہندوستانی نژاد امریکی۔
جیوت سنگھ جارجیا کے علاقے گوینیٹ کاؤنٹی میں پلے بڑھے۔ ان کے والدین پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ییل یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور کمیونٹی آرگنائزنگ کے شعبے میں سرگرم رہے۔ مقامی سطح پر انہیں گوینیٹ کاؤنٹی کے تعلیمی نظام کے لیے اہم مہم چلانے اور اسکولوں کی مالی معاونت کے لیے سیلز ٹیکس کی تجدید کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار یاسین مغازی کو شکست دے کر ایوانِ نمائندگان کے ڈسٹرکٹ ۹۷؍ سے کامیابی حاصل کی۔ ان کا انتخاب جارجیا کی بڑھتی ہوئی ہندوستانی اور سکھ امریکی آبادی کی سیاسی نمائندگی میں ایک نئی پیش رفت ہے۔ 

9۔ Aber Kawas — ابر کواس
ریاست: نیویارک | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: نیویارک اسٹیٹ سینیٹ، ڈسٹرکٹ ۱۲ 
تاریخی کارنامہ: نیویارک کی ریاستی اسمبلی میں منتخب ہونے والی پہلی فلسطینی امریکی اور پہلی مسلمان خاتون۔
ابر کواس نیویارک کے علاقے کوئنز سے تعلق رکھنے والی فلسطینی نژاد کمیونٹی آرگنائزر ہیں۔ وہ فلسطینی مہاجرین کی بیٹی ہیں اور نیویارک میں ایک محنت کش خاندان میں پرورش پائی۔ ان کے والد کو بچپن میں امریکی امیگریشن حکام نے حراست میں لے کر ملک بدر کر دیا تھا۔ اس تجربے نے انہیں تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے سرگرم ہونے پر آمادہ کیا۔ وہ ۱۵؍ برس سے زیادہ عرصے تک مزدوروں کے حقوق، کم از کم اجرت میں اضافے، امیگریشن اصلاحات اور عرب و مسلم برادریوں کے مسائل پر کام کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے ڈیموکریٹک پرائمری میں کامیابی کے بعد ریپبلکن امیدوار ہان کھون تو کو شکست دے کر سینیٹ ڈسٹرکٹ ۱۲؍ کی نشست حاصل کی۔ ان کی انتخابی مہم میں رہائش کے اخراجات، کرایہ داروں کے تحفظ، تارکینِ وطن کے حقوق اور فلسطین کے مسئلے کو اہمیت حاصل رہی۔ ان کا انتخاب نیویارک کی سیاست میں فلسطینی امریکیوں کی نمائندگی کے حوالے سے تاریخی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: مشہور اداکار سیاجی شندے نے ’سہیادری بچاؤ‘ مہم شروع کی

10۔ Letitia Plummer — لیٹیشیا پلمر
ریاست: ٹیکساس | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: ہیرس کاؤنٹی جج
تاریخی کارنامہ: ہیرس کاؤنٹی کی پہلی سیاہ فام خاتون کاؤنٹی جج اور ٹیکساس کی پہلی مسلمان کاؤنٹی جج۔ وہ ہیرس کاؤنٹی کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام شخصیت بھی ہوں گی۔
لیٹیشیا پلمر پیشے کے اعتبار سے ڈینٹسٹ ہیں اور ہیوسٹن میں اپنا طبی کاروبار چلاتی ہیں۔ وہ ہیوسٹن سٹی کونسل کی سابق رکن ہیں اور ۲۰۱۹ء میں شہر کی کونسل کے لیے منتخب ہونے والی پہلی مسلمان خاتون بنی تھیں۔ کونسل میں ان کی توجہ شہری سہولتوں، امیگریشن پالیسی، مساوی مواقع اور مقامی آبادی کے مسائل پر رہی۔ وہ ۲۰۲۳ء میں دوبارہ سٹی کونسل کے لیے منتخب ہوئیں اور ۲۰۲۵ء کے اختتام تک اس عہدے پر خدمات انجام دیتی رہیں۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار اور سابق ہیرس کاؤنٹی خزانچی اورلینڈو سانچیز کو شکست دی۔ ہیرس کاؤنٹی امریکہ کی سب سے بڑی کاؤنٹیوں میں شامل ہے اور اس کا انتظامی سربراہ کاؤنٹی جج کہلاتا ہے۔ یہ عہدہ عدالتی جج کا نہیں بلکہ کاؤنٹی کمشنرز کورٹ کی سربراہی، بجٹ، بنیادی سہولتوں، سیلاب سے بچاؤ اور ہنگامی انتظامات کی نگرانی کا ہے۔ 

11۔ Dexter McCoy — ڈیکسٹر میک کوئے
ریاست: ٹیکساس | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: فورٹ بینڈ کاؤنٹی جج
تاریخی کارنامہ: فورٹ بینڈ کاؤنٹی کی تاریخ میں پہلے سیاہ فام کاؤنٹی جج
ڈیکسٹر میک کوئے فورٹ بینڈ کاؤنٹی کے علاقے مشن بینڈ میں پلے بڑھے۔ انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور عوامی خدمت کے شعبے میں اپنے کیریئر کا آغاز سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے دور میں ایک تقرری سے کیا۔ بعد ازاں وہ فورٹ بینڈ انڈیپنڈنٹ اسکول ڈسٹرکٹ میں انتظامی ذمہ داریوں سے وابستہ رہے۔ ۲۰۲۲ء میں وہ کاؤنٹی کمشنر منتخب ہوئے اور علاقے میں سڑکوں، پارکوں، نقل و حمل، والدین کی چھٹیوں اور تاریخی ورثے کے تحفظ جیسے معاملات پر کام کیا۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار ڈینیئل وونگ کو تقریباً ۶۰؍ فیصد ووٹوں سے شکست دی۔ ان کی کامیابی کے بعد وہ فورٹ بینڈ کاؤنٹی کے پہلے سیاہ فام کاؤنٹی جج بنیں گے۔ یہ عہدہ کاؤنٹی کے بجٹ، عوامی تحفظ، بنیادی ڈھانچے اور ہنگامی انتظامات کی نگرانی کرتا ہے۔ 

12۔ Alisa Simmons — الیسا سیمنز
ریاست: ٹیکساس | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: ٹیرنٹ کاؤنٹی جج
تاریخی اعزاز: ٹیرنٹ کاؤنٹی کی پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام خاتون کاؤنٹی جج۔ ان کی کامیابی کے ساتھ ۱۹۸۶ء کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹ اس منصب پر فائز ہوگا۔
الیسا سیمنز ٹیکساس کی تجربہ کار سماجی کارکن اور مقامی سیاست دان ہیں۔ وہ طویل عرصے تک آرلنگٹن NAACP کی صدر رہیں، جہاں انہوں نے نسلی امتیاز، شہری حقوق، پولیس کے احتساب اور تعلیمی مسائل پر کام کیا۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ صحافت کے شعبے سے وابستہ رہیں اور بعد میں ٹیرنٹ کاؤنٹی کے ایمرجنسی ۹۱۱؍ میں بھی خدمات انجام دیں۔ ۲۰۲۲ء میں وہ ٹیرنٹ کاؤنٹی کی کمشنر منتخب ہوئیں۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار اور موجودہ کاؤنٹی جج ٹم اوہیر کو شکست دی۔ اوہیر نے انہیں فون کرکے اپنی شکست تسلیم کی۔ ٹیرنٹ کاؤنٹی کی سیاست میں یہ نتیجہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے اس عہدے پر ریپبلکن امیدوار کامیاب ہوتے رہے تھے۔

13۔ Ruwa Romman — رُووا رومان
ریاست: جارجیا | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: جارجیا اسٹیٹ سینیٹ، ڈسٹرکٹ ۷
غیر حتمی نتائج میں برتری
ممکنہ تاریخی کارنامہ: جارجیا کی ریاستی سینیٹ کی پہلی فلسطینی امریکی رکن
رُووا رومان جارجیا کی ریاستی سیاست میں پہلے ہی ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ وہ اردن میں فلسطینی والدین کے گھر پیدا ہوئیں اور آٹھ برس کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ منتقل ہوئیں۔ ۲۰۲۲ء میں وہ جارجیا کے ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہونے والی پہلی مسلمان خاتون اور ریاست کی پہلی فلسطینی امریکی قانون ساز بنی تھیں۔ انہوں نے اوگلتھورپ یونیورسٹی اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور سیاست کے ساتھ کمیونٹی آرگنائزنگ اور پالیسی کے شعبوں میں کام کیا۔
۲۰۲۶ء میں انہوں نے ریاستی ایوانِ نمائندگان سے سینیٹ میں آنے کے لیے انتخاب لڑا۔ ابتدائی نتائج میں وہ ریپبلکن امیدوار اعزاز شیخ سے واضح طور پر آگے تھیں۔ دستیاب نتائج میں انہیں تقریباً ۶۶؍ فیصد ووٹ حاصل تھے اور تمام مقامی انتخابی حلقوں کی رپورٹنگ مکمل بتائی گئی تھی۔ تاہم نتیجے کی سرکاری حتمی تصدیق باقی ہونے کی وجہ سے انہیں فی الحال زیرِ انتظار رکھا گیا ہے۔ اگر ان کی کامیابی برقرار رہتی ہے تو وہ جارجیا کی پہلی فلسطینی امریکی ریاستی سینیٹر ہوں گی۔ 

14۔ Jon Rosenthal — جون روزینتھل
ریاست: ٹیکساس | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: ٹیکساس ریل روڈ کمیشن
حریف نے شکست تسلیم کی — باضابطہ نتیجے کا انتظار
ممکنہ تاریخی کارنامہ: ۱۹۹۴ء کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کا کوئی امیدوار ٹیکساس ریل روڈ کمیشن کی نشست جیتے گا۔
جون روزینتھل مکینیکل انجینئر اور ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کے چار مرتبہ منتخب رکن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ٹیکساس سے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور تیل و گیس کی صنعت میں ۲۵؍ برس سے زیادہ عرصے تک انجینئرنگ اور منصوبہ بندی کے شعبوں میں کام کیا۔ ریاستی اسمبلی میں انہوں نے توانائی، بنیادی ڈھانچے، سرکاری اسکولوں اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق معاملات پر کام کیا۔
ٹیکساس ریل روڈ کمیشن ریاست کی تیل و گیس کی صنعت کی نگرانی کرتا ہے، اس لیے یہ ایک نہایت اہم ریگولیٹری ادارہ ہے۔ روزینتھل نے ریپبلکن امیدوار بو فرنچ کے خلاف انتخاب لڑا۔ انتخابی رات فرنچ نے اپنے حامیوں کو شکست کا پیغام دیا اور روزینتھل کی کامیابی تسلیم کر لی، اگرچہ اس وقت تک باضابطہ انتخابی کال سامنے نہیں آئی تھی۔ اگر نتیجہ برقرار رہتا ہے تو وہ ۱۹۹۴ء کے بعد اس کمیشن میں پہنچنے والے پہلے ڈیموکریٹ ہوں گے۔ 

15۔ Nathan Johnson — نیتھن جانسن
ریاست: ٹیکساس | ڈیموکریٹک پارٹی | عہدہ: اٹارنی جنرل
تاریخی کارنامہ: ۱۹۹۴ء کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار ٹیکساس کا اٹارنی جنرل منتخب ہوا ہے۔ یہ جماعتی اور سیاسی سنگِ میل ہے، کسی مخصوص برادری کی پہلی نمائندگی نہیں۔
نیتھن جانسن ڈلاس سے تعلق رکھنے والے وکیل اور ٹیکساس کی ریاستی سینیٹ کے رکن ہیں۔ وہ ۲۰۱۸ء میں ریاستی سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے اور ۲۰۱۹ء سے ڈسٹرکٹ ۱۶؍ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ایریزونا سے فزکس میں گریجویشن اور یونیورسٹی آف ٹیکساس سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایک بڑی قانونی فرم میں وکیل اور ثالث کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ موسیقی سے بھی ان کی دلچسپی رہی ہے؛ انہوں نے معروف اینی میشن سیریز Dragon Ball Z کے لیے موسیقی ترتیب دینے میں حصہ لیا تھا۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار مایس مڈلٹن کو شکست دے کر ریاست کے اعلیٰ ترین قانونی عہدے پر کامیابی حاصل کی۔ ان کی انتخابی مہم میں صارفین کے حقوق، بدعنوانی کے خلاف کارروائی اور حکومتی احتساب اہم موضوعات تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK