گیان واپی مسجد میں کھدائی پر روک لگنی چاہئے

Updated: April 10, 2021, 12:33 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi

پرشانت بھوشن نے اسے ’’پلیسیز آف ورشپ ایکٹ‘‘ کے خلاف بتایا آزادی سے پہلے کی تمام عبادت گاہوں  کی مذہبی حیثیت کے تحفظ سے متعلق ۱۹۹۱ء  کےپلیسیز آف ورشپ ایکٹ  کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے گیان واپی  مسجد میں کھدائی  کے ضلع کورٹ  کے فیصلے پر اٹھنے والے آوازوں اور تشویش کے بیچ سپریم کورٹ کے  وکیل  پرشانت بھوشن  نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر نچلی عدالت کے اس فیصلے پر روک لگائے۔ 

Prashant Bhushan.Picture:INN
پرشانت بھوشن۔تصویر :آئی این این

   آزادی سے پہلے کی تمام عبادت گاہوں  کی مذہبی حیثیت کے تحفظ سے متعلق ۱۹۹۱ء  کےپلیسیز آف ورشپ ایکٹ  کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے گیان واپی  مسجد میں کھدائی  کے ضلع کورٹ  کے فیصلے پر اٹھنے والے آوازوں اور تشویش کے بیچ سپریم کورٹ کے  وکیل  پرشانت بھوشن  نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر نچلی عدالت کے اس فیصلے پر روک لگائے۔  یاد رہے کہ جمعرات کو اپنے حیرت انگیز فیصلے میں بنارس کے ضلع کورٹ نے گیان واپسی مسجد اور کاشی وشوناتھ مندر تنازع میں محکمہ آثار قدیمہ کو کھدائی کی اجازت دیدی ہے۔اس معاملے میں عرضی گزار کے وکیل نے وی  ایس رستوگی نے کورٹ میں داخل کردی اپنی پٹیشن میں مسجد کی زمین مندر کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ضلع کورٹ  کے فیصلے پر پرشانت بھوشن نے ٹویٹ کیا ہے کہ’’یہ حکم پوری طرح سے پلیسیز آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء  کے خلاف اور فتنہ پردازی پر مبنی ہے۔اس پر ہائی کورٹ کو فوراً روک لگانی چاہئے۔‘‘  آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین  کے صدر اسد الدین اویسی نے بھی ضلع کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے کئی ٹویٹس  کئے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ’’ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسجد کمیٹی کواس حکم پر عمل درآمد سے پہلے فوری طور پر اپیل کرنی چاہئے اورا س کی اصلاح کروانی چاہئے۔ ‘‘ بابری مسجد کے معاملے میں محکمہ آثار قدیمہ کے رول کو ملحوظ رکھتے ہوئے اویسی نے کہا ہے کہ ’’محکمہ آثار قدیمہ سے اس معاملے میں صرف دھوکہ بازی کی امید کی جاسکتی ہے اور بابری مسجد کی طرح تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائےگی۔اس لئے ضروری ہے کہ اس معاملے میں تاخیر نہ کرتے ہوئے فوری طور پر کارروائی کی تیاری کی جائے ۔ ‘‘ معروف صحافی اور دی وائر کےایڈیٹر سدھارتھ  ورداراجن  نےبھی  بنارس ضلع کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتےہوئے متنبہ کیا ہے کہ ’’ہندوستانی جمہوریت کیلئے  اور خاص طور سے اس کی اقلیتوں کیلئے مزید سیاہ دن آنے والے ہیں۔  کورٹ کا یہ فیصلہ اسی کا غماز ہے اور اب ہمیں اس کیلئے تیار رہنا چاہئے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK