Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۵؍پارہ حفظ کرنے کےبعد سے ہی تراویح پڑھا نے لگے تھے حافظ خالد قریشی

Updated: March 09, 2026, 1:24 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

جلگاؤں کی مسجد قباء کےخطیب وامام ہیں اور۲۶؍سال سےزائد عرصے سے پابندی سے تراویح سنارہے ہیں ۔ تراویح کے بعد تفسیر بیان کرنے کا بھی معمول ہے۔

Hafiz Khalid Abdul Sattar Qureshi is seen busy reciting. Photo: INN
حافظ خالدعبدالستار قریشی تلاوت میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

حافظ خالد عبدالستار قریشی(۴۱) ۲۰۰۰ء میں حافظ ہوئے اور اسی وقت سے تراویح پڑھارہے ہیں۔ حالانکہ تراویح کا اہتمام آپ نے اس وقت سے ہی شروع کردیا تھا جب۱۶؍ پارے مکمل ہوئے تھے۔ آپ کا تعلق جلگاؤں شہر سے ہے اور یہیں سپریم کالونی کی مسجد قباء میں امام وخطیب ہیں۔ یہاں امامت وخطابت کے ساتھ تراویح پڑھانے کا پانچواں سال ہے۔ اس سے قبل الگ الگ مساجد میں تراویح اور امامت وخطابت کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ رمضان المبارک میں جہاں بھی تراویح پڑھائی، تفسیر قرآن کا بھی سلسلہ جاری رکھا اور اب بھی وہ برقرار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے مصلیان کو کافی فائدہ ہوتا ہے اور انہیں یہ معلوم ہوجاتا ہےکہ تراویح میں پڑھائے گئے پارے میں کیا کہا گیا ہے، کیا احکامات بیان کئے گئے ہیں اورکن قوموں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں؟
حافظ خالد قریشی نے۱۶؍ پارہ حفظ کرنے کے بعد پہلی تراویح معمورآباد دیہات (جلگاؤں )میں پڑھائی تھی اور حفظ مکمل کرنے کے بعد پہلی تراویح یاول میں پڑھائی تھی۔ ان ۲۶؍سال سے زائدعرصےکے دوران چند مواقع ایسے آئے جب بہت مشکل ہوئی مگر تراویح کا اہتمام برقرار رہا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایکس رے مشین کا رجسٹریشن ختم، پھر بھی استعمال جاری

اس تعلق سے حافظ مفتی خالد نے بتایا کہ ۸؍ سال قبل ایک دفعہ ایسا ہوا کہ امامت کا سلسلہ ترک ہوگیا تھا مگر تراویح کے لئے کوشاں رہے کہ کہیں جگہ مل جائے۔ اتفاق یہ ہوا کہ رمضان المبارک کا چاند نظر آنے سے قبل ظہر میں جلگاؤں کی عثمانیہ پارک کی مسجد نمرہ کے ذمہ داران نے رابطہ قائم کیا اور جگہ مل گئی۔ یہ مسجد آپ کی رہائش گاہ سے تقریباً۱۰؍ کلو میٹر دورتھی اور آنے جانے کی سہولت بھی نہیں تھی۔ راستے میں ریلوے بریج پڑتا تھا جس کی وجہ سے موٹرسائیکل کھڑی کر دینی پڑتی تھی، پھاٹک کی دوسری جانب سےمسجد نمرہ کے امام ساتھ لے جاتے تھے۔ تراویح بعد واپس ہونے میں راستے میں اندھیرا ہونے اور راستہ بہتر نہ ہونے سے مزید دشواری ہوتی تھی مگر ان دشواریوں کے باوجودتراویح پڑھانے کا معمول برقرار رہا۔ اسی طرح لاک ڈاؤن میں پابندی کے باوجود۵؍لوگوں کے ساتھ ایک عمارت میں تراویح پڑھائی۔ ان کے مطابق مقصد یہ تھا کہ قرآن کریم سنانے کا ناغہ نہ ہو۔ 
حافظ خالد نے مدرسہ انوارالعلوم (جلگاؤں )میں حافظ مولانا عبدالستار محمدی کے پاس حفظ کیا اور عالمیت وافتاءجامعہ تعلیم الدین ڈابھیل سے کیا۔ دینی علوم کے حصول کے تعلق سے ان کا کہنا تھا کہ والد عبدالستار جناب جو ٹیچر تھے اور خانقاہی اعتبار سے بہت پابند اوربزرگوں سے قریب تھے۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں اخیر عشرے کے اعتکاف کے لئے ڈابھیل مفتی احمد خان پوری کے پاس جاتے تھے، وہیں سے یہ شوق ہوا کہ میرے بچے بھی دینی علوم سے آراستہ ہوں۔ 
آپ کے بڑے بھائی حافظ محمد ساجد نے۲۰؍ سال سے زائد عرصے تک تراویح پڑھائی۔ حافظ خالد قریشی مولانا کلیم صدیقی گروپ سے وابستہ رہ کر برادران وطن میں رفاہی وسماجی کاموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ پورے سال چلتے پھرتے اور مسجد میں قرآن پاک وردِ زبان ہوتا ہے۔ یہی مشورہ انہوں نے دیگر حفاظ کو دیا کہ تلاوت کسی صورت نہ چھوٹنے پائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK