مزدوروں کے ۵۰؍ کلو سے زیادہ کی بوریاں نہ اُٹھانے سے واشی میں پیاز اور آلو کی آمدآدھی ہوگئی، ان اشیاء کی قلت اور ان کی قیمتوں کے بڑھنے کا خدشہ۔
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 1:30 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
مزدوروں کے ۵۰؍ کلو سے زیادہ کی بوریاں نہ اُٹھانے سے واشی میں پیاز اور آلو کی آمدآدھی ہوگئی، ان اشیاء کی قلت اور ان کی قیمتوں کے بڑھنے کا خدشہ۔
مزدوروں کے ۵۰؍ کلو سے زیادہ کی بوریاں نہ اُٹھانے کی وجہ سے واشی کے اے پی ایم سی (مارکیٹ) میں پیاز اور آلو کی آمد نصف تک کم ہوگئی ہے۔
گزشتہ دنوں سے ۲۲۵؍ سے ۲۰۰؍ کے بجائے صرف ۹۰؍ سے ۸۵؍ ٹرک مارکیٹ میں آ رہے ہیں جس سے پیاز اور آلو کی قلت اور ان کی قیمتوں کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ ۲؍مارچ سے ۵۰؍کلو سے زائد وزنی بوریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے جس کی وجہ سےمتھاڈی ٹرانسپورٹ اینڈ جنرل ورکرز یونین کے مزدور اے پی ایم سی میں گزشتہ ۲؍ دنوں سے آلو اور پیاز کی ۵۰؍کلو سے زیادہ وزنی بوریاں نہیں اُٹھا رہے ہیں جس سے اے پی ایم سی میں پیاز اور آلو کی مارکیٹ کا کاروبار متاثر ہے۔ پیاز اور آلو کی آمد نصف تک کم ہوگئی ہے۔ مزدوروں کےاحتجاج سے اے پی ایم سی کے پیاز اور آلو کے متعدد بیوپاریوں نے تھوک کاروبار کرنے والے کئی تاجروں سے پیاز اور آلو نہیں منگوائے جس کا خاصا اثر اے پی ایم سی میں دکھائی دیا۔ پیاز اور آلو کے روزانہ آنے والے ۲۲۵؍سے ۲۰۰؍ ٹرکوں کے بجائے ۹۰؍ سے ۸۵؍ ٹرک ہی مارکیٹ میں آ رہے ہیں جس کی وجہ سے ایک جانب جہاں ان اشیاء کی قلت ہونے کا امکان ہے وہیں ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ۱۵؍ سالہ لڑکی کی مسخ شدہ لاش برآمد، شہریوں کا احتجاج
دریں اثناء اے پی ایم سی کے تاجروں نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ قاعدہ صرف ہمارے بازار پر کیوں نافذکیا جا رہا ہے؟ پنویل، کلیان اور تھانے میں ۶۰؍ سے ۵۵؍ کلو کی بوریاں بھری جا رہی ہیں ۔ اس ضابطہ سے پیاز اور آلو کی قلت پیدا ہوگئی ہے کیونکہ گزشتہ۵؍ دنوں سے ان کی آمد آدھی ہو گئی ہے۔ اگر اس مسئلہ کو جلد حل نہ کیا گیا تو قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔
مہاراشٹر اسٹیٹ متھاڈی ٹرانسپورٹ اینڈ جنرل ورکرز یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ ضابطوں کے مطابق زرعی پیداوار کی ایک بوری کا وزن ۵۰؍ کلو ہونا چاہئے۔ ۲؍ مارچ سے ۵۰؍کلو سے زائد وزنی بوریوں کی نقل و حرکت بند کر دی گئی ہے۔ سنیچر کو بھی زیادہ وزنی بوریوں کی آمد سے ان اشیاء کی تجارت متاثر رہی۔ گزشتہ ۲؍ دنوں میں ان اشیاء کا کاروبار آدھا ہو گیا ہے۔
اس سلسلےمیں پیازآلو تاجر اسوسی ایشن کے صدر سنجے پنگلے نے کہا کہ’’ ہم متھاڈی مزدوروں کے مطالبے سے متفق ہیں لیکن ممبئی کے ساتھ ریاست کی ۳۵۰؍ مارکیٹ کمیٹیوں میں بھی اس اصول کو پہلے نافذ کیا جانا چاہئے، صرف ممبئی میں اس کا نفاذ نہیں ہونا چاہئے، ساتھ ہی حکومت بوریاں بنانے والے صنعت کاروں کو ۵۰؍ کلو کی بوریوں کے بجائے ۴۸؍ کلو کی بوریاں بنانے کا حکم دے۔ حکومت کا متعلقہ محکمہ اس معاملے میں ثالثی کرے اور نئے ضابطے پر عمل آوری کیلئے ۲؍ ماہ کا وقت دیاجائے، تاکہ کاروبار متاثر نہ ہو۔ ‘‘